مذہبی نفرت اور فرقہ پرستی کا ننگا ناچ!
نمازیوں پر حملہ،مسجد کے اوپر چڑھ کر زعفرانی جھنڈوں کے ساتھ رقص
صدر مجلس بیرسٹر اسدالدین اویسی نے کارروائی کا مطالبہ کیا
اترپردیش پولیس نے واقعہ کی تردید کی،ایسی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی!
نئی دہلی: 04۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)
ملک میں مسلم طبقہ کے خلاف مذہبی منافرت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ہر روز ایک نیا مسئلہ کھڑا کرتے ہوئے یہ مذہبی جنوبی جہاں ملک کے تانے بانے کو کمزور کررہے ہیں وہیں ساری دنیا میں ملک کی بدنامی ہورہی ہے۔
تعجب تو اس بات پر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جاری اس منظم ناپاک مہم کے خلاف مرکز کی بی جے پی حکومت،وزیراعظم نریندر مودی،مرکزی وزیرداخلہ امت شا کے علاوہ عدلیہ،ریاستی حکومتیں اور خود پولیس خاموش کیوں ہیں؟ کیوں ان سماج دشمن عناصر پر لگام نہیں کسی جارہی ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ انہیں خود حکومتوں کی تائید اور پولیس کا تحفظ حاصل ہے؟جو وہ اتنے بے قابو اور بے خوف ہوتے جارہے ہیں کہ اب مساجد پر بھی کھل کر حملے کرنے میں مصروف ہیں۔
اور باقاعدہ ایسے واقعات کے ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر وائرل بھی کیے جاتے ہیں۔جس میں ان کے چہرے صاف نظر آتے ہیں لیکن پولیس ان کی شناخت کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی سے گریز کرتی آرہی ہے!!۔گزشتہ رات سے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک انتہائی دلآزار ویڈیو وائرل ہوا ہے۔
ٹوئٹر پر Ghufran Armani7@غفران ارمانی”کی جانب سے ایک ویڈیوٹوئٹ کرتے ہوئے اس ویڈیو کو چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ،سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو،صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان بیرسٹر اسد الدین اویسی اور اترپردیش پولیس UpPolice@ کو باقاعدہ ٹیاگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ”ملک کا امن خراب کرنے کا کام،غازی پور گہمار میں سابق ایم ایل اے سنیتا سنگھ سینکڑوں حامیوں کے ساتھ مسجد میں گھس گئی اور نمازیوں پرحملہ کیا گیا۔حکومت سنیتا سنگھ کے خلاف اس کا نوٹس لے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کریں”۔
اسی ویڈیو کو صدرکل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے ری۔ٹوئٹ کیا ہے۔
اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سینکڑوں زعفرانیوں کا جھنڈ ایک مسجد کے باہر زعفرانی جھنڈوں کے ساتھ باجہ بجاتے ہوئے شور شرابہ میں مصروف ہے۔چند نوجوان مسجد کی سیڑھیوں پر چڑھے ہوئے ہیں وہیں انہی میں سے ایک نوجوان مسجد کے اوپر چڑھ کر میناروں کے درمیان کھڑے ہوکر زعفرانی پرچم لہراتے ہوئے جئے شری رام کا نعرہ لگارہا ہے۔
صدرمجلس و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹراسدالدین اویسی کے اس ری۔ٹوئٹ پر اترپردیش پولیس UpPolice@ نے بیرسٹر اسدالدین اویسی، چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ،اکھلیش یادو اور اس ویڈیو کو ٹوئٹ کرنے والے Ghufran Armani7@ غفران ارمانی کو ٹیاگ کرتے ہوئے کمنٹ وضاحت کی ہے کہ”اس طرح کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔اور نہ ہی مقامی لوگوں نے گہمار پولیس اسٹیشن میں کوئی شکایت درج کروائی ہے۔ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (دیہی) کو اس ویڈیو کی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔تحقیقات کے بعد اگر کوئی قصوروار پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی”۔
https://twitter.com/ghazipurpolice/status/1510793919059345409
وہیں دوسری جانب "انسٹاگرام "پر اسی ویڈیو کو پوسٹ کرتے ہوئے نامور صحافی”رعنا ایوب RanaAyyub@ نے لکھا ہے کہ”ٹرگر انتباہ: ہندو بنیاد پرست راجستھان میں ایک مسجد جن کرولی کے اوپر بیٹھے،زعفرانی پرچم لہراتے ہوئے،جئے شری رام کا نعرہ لگا رہے تھے۔یہ اس ملک کے وہ بے روزگار نوجوان ہیں جنہیں حکومت کے اقتدار میں رہنے اور بڑھتے ہوئے معاشی بحران پر سوال نہ اٹھانے کے لیے نفرت کی مسلسل اور مہلک خوراک دی جا رہی ہے۔انہیں ایک تصوراتی شکار کی مستقل خوراک دی جارہی ہے۔
جہاں دوسرے مذاہب کے افراد پرحملہ کرنے اوران کی تذلیل کرنے کا انعام اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔میں نے یہ ماننے کا انتخاب کیا کہ وہ اپنے عقیدے اور بھگوان رام کی وراثت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ اور اسی وجہ سے اب وقت آگیا ہے کہ اوسط ہندو کو اس کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے islamophobia# "۔
اس طرح یہ واضح نہیں ہوپایا ہے کہ یہ ویڈیو راجستھان کا ہے یا اترپردیش؟جہاں کہیں کا بھی ہو حکومتوں اور پولیس کا فرض بنتا ہے کہ ایسے مذہبی افیونیوں پر نکیل کسے!! تاکہ ملک میں امن و امان اور یکجہتی قائم رہے۔
وہیں راجستھان کے چند مقامات پر گزشتہ تین دنوں سے فرقہ وارانہ تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔اس دؤران کروڑہا روپئے مالیتی عمارتوں اور دُکانات کو آگ کی نذر کردیا گیا ہے۔چند مقامات پر کرفیو بھی نافذ ہے۔یہ فساد اس وقت شروع ہوا جب یہ الزام عائد کیا گیا کہ ہندو نوجوانوں کی جانب سے نکالی گئی موٹرسیکل ریالی کے دؤران مسجد کے روبرو جلوس روک کر باجہ بجایا گیا اور نعرے بازی کی گئی اور ان پر پتھراؤ کیا گیا۔تاہم اس پتھراؤ کے واقعہ کا ایک ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ قریب ہی موجود ایک بلند عمارت کی چھت سے چند افراد اس جلوس پر پتھر پھینک رہے ہیں۔

