جلپائی گڑی میں تین کنگاروؤں کوبچالیا گیا، ایک مردہ بچہ بھی برآمد، آسٹریلیا سے یہ کنگارو ہزاروں کلومیٹر دورمغربی بنگال کیسے پہنچے؟

جلپائی گڑی میں تین کنگاروؤں کوبچالیا گیا،ایک مردہ بچہ بھی برآمد
آسٹریلیا سے ہزاروں کلومیٹر مغربی بنگال میں یہ کنگارو کیسے پہنچے؟
عہدیدار بھی حیرت میں،تحقیقات کا آغاز

کولکاتا:04۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

ٹیلی ویژن یا سوشل میڈیا کے ویڈیوز میں”کنگاروؤں” کو دیکھتے ہی آسٹریلیا ذہن میں آجاتا ہےکیونکہ کنگاروؤں کی نسل زیادہ تر آسٹریلیا میں پائی جاتی ہے۔جو کہ یہ وہاں کی پہچان اور قومی جانوربھی ہے۔ساتھ ہی کنگارو آسٹریلیا کے قریب انڈونیشیا کے ایک اور جزیرہ”نئیو جئیونیا” میں بھی پائے جاتے ہیں۔ساتھ ہی امریکی برآعظموں کے چند ممالک و جزائر میں بھی کنگاروں پائے جاتے ہیں۔جانوروں میں کنگارو کو”باکسر” کہا جاتا ہے۔مادہ کنگارؤں کی بنیادی خصوصیت ان کے پیٹ پر موجود ایک خاص بیگ نما جِلد جیب کی شکل میں موجود ہوتی ہے۔جن میں وہ اپنے بچوں کو رکھتی ہیں۔

آسٹریلیا اورنئیو جئیونیا سے ہزاروں کلومیٹر دور واقع مغربی بنگال کے شمالی علاقہ جلپائی گڑی کے مختلف مقامات سےمحکمہ جنگلات کےعہدیداروں نے ہفتہ کے دن تین کنگارؤں کو اپنی تحویل میں لیا ہے۔جبکہ کنگارو کے ایک مردہ بچہ کی نعش بھی برآمد کی گئی ہے۔

محکمہ جنگلات کے عہدیداروں نے بتایا کہ مردہ کنگارو کا بچہ ہفتہ کے دن مغربی بنگال کے سلیگری قصبہ کے فاراباری علاقے کے قریب نیپالی بستی میں پایا گیا تھا۔جبکہ دیگر تین زندہ کنگارؤں کوخفیہ اطلاع کے بعد کل رات گجالڈوبا اور ڈبگرام-فاراباری علاقوں سے بچالیا گیا۔

بیکنتھا پور فاریسٹ ڈویژن کے رینجر سنجے دتہ نے کہا کہ کنگارؤں کی ضبطی کے دؤران انہیں لے جانے والے دو افراد فرار ہوگئے۔انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ اس پورے معاملہ کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔اور جن تین کنگارؤں کوبچالیا گیا ہے انہیں علاج کی غرض سے مقامی وٹرنری ہسپتال روانہ کیاگیا۔

اس سارے معاملہ میں محکمہ جنگلات کے ایک سینئر عہدیدارنے کہا کہ ہم حیران ہیں کہ ان کنگارؤں کو یہاں کون اور کیسے لایا؟انہوں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ ان کنگارؤں کو نیپال اسمگل کیا جا رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم ان کنگارؤں کی اسمگلنگ کےمحرکات بھی تلاش کررہے ہیں۔اطلاع ہے کہ ان تینوں کنگارؤں کوعلاج کی غرض سےبنگال سفاری پارک منتقل کردیا گیا ہے۔

محکمہ جنگلات جلپائی گڑی کے ایک اورعہدیدارنے بتایا کہ اندیشہ ہے کہ ان کنگاروؤں کو تھائی لینڈ سے ان کے خوش ذائقہ گوشت کے لیے اسمگل کیا گیا تھا!۔محکمہ جنگلات کے عہدیدار حیران ہیں کہ یہ کنگارو اپنے قدرتی مسکن آسٹریلیا سے ہزاروں کلومیٹر دور مغربی بنگال میں کیسے پائے گئے۔