چیف منسٹر تلنگانہ چندراشیکھرراؤ کی ممبئی میں ادھو ٹھاکرے اور این سی پی سربراہ شردپوار سے ملاقات

بی جے پی مُکت بھارت کی جانب چیف منسٹر تلنگانہ چندراشیکھرراؤ کا پہلا قدم!
ممبئی میں اُدھو ٹھاکرے اور این سی پی سربراہ شرد پوار سے ملاقات

ممبئی: 20۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ گزشتہ چند ماہ سے مرکز میں برسراقتدار بی جے پی اور وزیراعظم نریندرمودی کے ساتھ کھل کر باقاعدہ ٹکراؤ کی پالیسی پرعمل پیرا ہیں۔جاریہ ہفتہ ہی چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ ریاست کے دو اضلاع میں منعقدہ جلسوں اور دو پرہجوم پریس کانفرنسوں میں بی جے پی کو اس ملک کے لیے منحوس قراردیتے ہوئے اپیل کرچکے ہیں کہ ملک کو مزید تباہی سے بچانا ہو تو بی جے پی کے دہلی کے قلعہ کومسمار کرنا ضروری ہے۔

ساتھ ہی انہوں نے اعلان بھی کیا تھا کہ اس ملک کے ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناتے ملک کے مفاد میں وہ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے بی جے پی کو اس ملک کے اقتدار سے بے دخل کرکے ہی دم لیں گے۔اس کے لیے چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ مخالف بی جے پی اور مخالف کانگریس محاذ تیار کرنے میں بھی مصروف ہوگئے ہیں!۔چندراشیکھرراؤ چاہتے ہیں کہ ملک کی مختلف ریاستوں میں برسراقتدار غیر بی جے پی اور غیر کانگریسی چیف منسٹرس اور اپوزیشن جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم لایا جائے۔

اس سلسلہ میں آج 20 فروری کو وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے مہاراشٹرا کا دؤرہ کرتے ہوئے چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے سے ممبئی پہنچ کر ان کی رہائش گاہ ورشا میں ان سے ملاقات کی۔

چیف منسٹرکے۔چندراشیکھرراؤکے ساتھ ان کی دختر رکن قانون ساز کونسل و سابق رکن پارلیمان حلقہ نظام آباد کے۔کویتا،مشہورفلم اداکار پرکاش راج (جو کہ بی جے پی اور فرقہ پرستی کےسخت مخالف مانے جاتے ہیں)،رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹرجی۔رنجیت ریڈی،رکن پارلیمان سنتوش کمار اور دیگر شامل ہیں۔چیف منسٹر مہاراشٹرا و شیوسینا چیف ادھو ٹھاکرے نے ان تمام کا شاندار خیرمقدم کیا اور ان کے لیے ایک پرتکلف ظہرانہ بھی ترتیب دیا تھا۔اس موقع پر شیوسینا کے فائر برانڈ رکن راجیہ سبھا سنجے راوت اور ادھو ٹھاکرے کے فرزند آدتیہ ٹھاکرے بھی موجود تھے۔

ماناجار ہا ہے کہ اس ملاقات کے دؤران وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھر راؤ اور چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے نے ملک میں جاری فرقہ پرستی اور مرکز کی بی جے پی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے متعلق تبادلہ خیال کرتے ہوئے بی جے پی کے خلاف ملک کی تمام علاقائی جماعتوں کے سربراہوں اور سیکولر لیڈرس کو ایک پلیٹ فارم جمع ہونے کی خواہش کا اظہار کیا۔!!اور ملک کے دیگر امور اور جاریہ سیاست پر بھی تبادلہ خیال کیا!۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتہ چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ اور چیف منسٹر مہاراشٹرا ادھو ٹھاکرے نے فون پر بات کی تھی اس وقت ادھو ٹھاکرے نے چندراشیکھرراؤ کے اقدامات کی تائید کا اظہار کیا تھا۔

بعدازاں چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے سینیئر سیاستداں و نیشنلسٹ کانگریس پارٹی(این سی پی) سربراہ،سابق چیف منسٹر مہاراشٹرا و سابق مرکزی وزیر مسٹر شرد پوار سے بھی ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اس موقع پر شردپوار کی دختر و رکن پارلیمان سپریہ سولے،سابق مرکزی وزیر پرفل پٹیل کے علاوہ این سی پی کے دیگر قائدین بھی موجود تھیں۔

مانا جارہا ہے کہ یہاں بھی مستقبل کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا!! یاد رہے کہ سینئر و بزرگ سیاستداں شرد پوار مہاراشٹرا اور ملکی سطح پر اپنی ایک خصوصی پہچان رکھتے ہیں اور مہاراشٹرا سے بی جے پی کو بے دخل کرتے ہوئے شیوسینا،این سی پی اور کانگریس پرمشتمل حکومت بنانے میں ان کا سب سے اہم رول رہا ہے۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھر راؤ نے گزشتہ سال 14 ڈسمبر کو اپنے افراد خاندان کے ساتھ تمل ناڈو کا دؤرہ کرتے ہوئے تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ ایم کے اسٹالن سے ان کے افراد خاندان کے ساتھ خوشگوار ملاقات کی تھی۔

اس وقت سیاسی ماہرین نے امکان جتایا تھا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ چاہتے ہیں کہ ریاستوں کے حقوق کے تحفظ کےلیے ان کی جانب سے مرکزی حکومت کے خلاف کھولے گئے محاذ میں چیف منسٹر تمل ناڈو ایم کے اسٹالن کو بھی شامل کیا جائے!۔

بعدازاں گزشتہ ماہ جنوری کے اوائل میں حیدرآباد میں منعقدہ سی پی آئی کے اجلاس میں شرکت کرنے کی غرض سے پہنچے چیف منسٹر کیرالا پنارائی وجئین کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ قائدین نے بھی وزیراعلیٰ کے سی آر سے خیرسگالی ملاقات کی تھی۔جن میں سی پی آئی کے قومی سیکریٹری سیتارام یچوری،سابق چیف منسٹر تریپورہ مانک سرکار،پولیٹ بیورو کے ارکان رام چندرن پلّے،بالا کرشنن،ایم اے جے بی،سی پی آئی کے قومی قائدین ڈی۔راجہ،پارلیمنٹری پارٹی قائد رکن پارلیمان بنئے وشوم، وزیر فینانس کیرالا راجن کے علاوہ سی پی آئی تلنگانہ کے قائدین چاڈا وینکٹ ریڈی ،کے۔سامباشیواراؤ اور دیگر شامل ہیں۔اس ملاقات کو بھی اہم مانا گیا تھا۔

پھر اس کے بعد 11 جنوری کو وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ سے حیدرآبادکے پرگتی بھون میں سابق وزرائے اعلیٰ بہارلالو پرساد یادو اور رابڑی دیوی کے فرزند تیجسوی پرساد یادو جو کہ بہار اسمبلی میں راشٹریہ جنتادل (آر جے ڈی) کے اپوزیشن قائد ہیں نے دیگر پارٹی قائدین کے ساتھ ملاقات کی۔بہار سے حیدرآباد پہنچے آر جے ڈی کے اس وفد میں بہار کے سابق وزیر عبدالباری صدیقی،سابق رکن اسمبلی سنیل سنگھ،سابق رکن اسمبلی بھولا یادو کے علاوہ دیگر شامل تھے۔

بتایا گیا تھا کہ وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ کی دعوت پر اس وفد نے حیدرآباد پہنچ کر ان سے ملاقات کی تھی۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کے۔چندراشیکھرراؤ نے سابق وزیراعلیٰ بہار لالوپرساد یادو سے فون پر بات کرتے ہوئےان کی صحت کے متعلق تفصیلات حاصل کیں اور ان کی جلد مکمل صحتیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا۔

اس وقت بتایا گیا تھا کہ اس ٹیلیفونک گفتگو کے دؤران سابق چیف منسٹر بہار لالو پرساد یادو نے وزیراعلیٰ کے سی آر اور ان کی قیادت میں ریاست تلنگانہ کی تیز رفتار ترقی کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات اور قیادت کی ملک کو ضرورت ہے اور کہا تھا کہ ملک کو مزید بربادی سے بچانے کے لیے کے سی آر کا قومی سیاست میں آنا ضروری ہے!!۔

اسی ہفتہ وزیراعلیٰ تلنگانہ کے۔چندراشیکھرراؤ نے سابق وزیراعظم و جنتادل سیکولر سربراہ دیوے گوڑا سے بھی فون پر بات کی تھی اور ان سے مخالف بی جے پی مخالف کانگریس محاذ کی تشکیل کے لیے ان سے تعاون کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان دو بہ دو ملاقات کے لیے جلد ہی بنگلور پہنچیں گے۔