بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ کو مرکزی الیکشن کمیشن کا شاک، ایف آئی آر درج کروانے تلنگانہ چیف الیکٹورل آفیسرکو ہدایت

بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ کو مرکزی الیکشن کمیشن کا شاک
ایف آئی آر درج کروانے تلنگانہ چیف الیکٹورل آفیسر کوہدایت
اترپردیش کے رائے دہندگان کو بلڈوزرس سے دھمکانے کا شاخسانہ

نئی دہلی/حیدرآباد: 19۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام)

حیدرآباد کے گوشہ محل حلقہ کے بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے خلاف مرکزی الیکشن کمیشن نے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے ان کے اشتعال انگیز بیان پر تلنگانہ کے چیف الیکٹورل آفیسر کو ہدایت دی ہے کہ رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی جائے۔

ساتھ ہی مرکزی الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے خلاف 72 گھنٹوں تک انتخابی جلسوں،ریالیوں سے خطاب کرنے پر پابندی عائد کردی ہے اور اس دؤران انہیں میڈیا سے بات کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔

یاد رہے کہ بی جے پی رکن اسمبلی حلقہ گوشہ محل،حیدرآباد راجہ سنگھ کا ایک ویڈیو میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس میں انہوں نے اتر پردیش میں جاری ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی کو ووٹ دینے اور یوگی آدتیہ ناتھ کو دوبارہ چیف منسٹر بنانے کا مشورہ دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ” اگر بی جے پی کو ووٹ نہیں دیا گیا تو یوگی آدتیہ ناتھ نے ہزاروں کی تعداد میں بلڈوزرس اور جے سی بی مشین منگوالیے ہیں جو اترپردیش کی طرف نکل چکے ہیں۔

الیکشن کے بعد جو جو لوگ یوگی آدتیہ ناتھ کو ووٹ نہیں دیں گے ان تمام علاقوں کی نشاندہی کی جائے گی اور پتہ ہے نہ کہ جے سی بی اور بلڈوزر کس کام میں لیے جاتے ہیں؟ تو میں اترپردیش کے ان غداروں کو کہنا چاہوں گا جو یہ چاہتے ہیں کہ آدتیہ ناتھ دوبارہ چیف منسٹر نہ بنیں تو بیٹا اگر اتر پردیش میں رہنا ہوگا تو یوگی یوگی کہنا ہوگا۔نہیں تو اترپردیش چھوڑ کے تم لوگوں کو بھاگنا ہوگا!”۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مرکزی الیکشن کمیشن نے اس کا سخت نوٹ لیتے ہوئے اترپردیش کے رائے دہندگان کو دھمکی دئیے جانے کے خلاف بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ کو ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں ہدایت دی تھی کہ کیوں نہ ان کے خلاف آئی پی سی اور آئی آر کی دفعات کے تحت کارروائی نہ کی جائے؟ اور اندرون 24 گھنٹے اس نوٹس کا جواب طلب کیا تھا۔

مرکزی الیکشن کمیشن کے مطابق اس نوٹس کا جواب نہ دئیے جانے پر بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ کے خلاف یہ کارروائی کی جارہی ہے۔