انہیں اندھیروں سے روشنی نکلے گی!
یہ ملک مسلمانوں کو احساس دلا رہا ہے کہ وہ
ایسی قوم سے تعلق رکھتے جس کا مٹ جانا ضروری ہے
سحرنیوزڈیسک: 19 فروری
کہتے ہیں کہ حجاب کا معاملہ ایک کالج کا تھا،ناعاقبت اندیشوں نے اسے نیشنل ایشو بنا دیا،تو عرض یہ
ہےکہ حضور بڑے سادہ دل ہیں آپ،کوئی بھی ایشو آپ نیشنل ایشو بنانے کی پوزیشن میں ہیں ہی نہیں!یہ وار روم میں بیٹھے لوگ بناتے ہیں،کب کس ایشو کو اٹھانا ہے،کب کس ایشو کودبانا ہے!یہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہے،آپ بس اسٹیج کے ایکٹر ہیں،ڈائریکٹر کوئی اور ہے۔
اور اس کے معاون و مددگار لاکھوں کروڑوں میں ہیں،آپ کتنی بھی کوشش کریں کہ آپ کو اپنا ردعمل نہیں ظاہر کرناہے،آپ کو مجبورکردیا جائے گا کہ آپ کوئی ردعمل ظاہر کریں،حجاب کا معاملہ اٹھنا ہی تھا،آپ کتنی بھی دبانے کی کوشش کرتے،اور اگر آپ کو نہیں لگتا تو پھر یہ اسٹیٹ فورس لگا کر حجاب اور نقاب کیوں اتروائے جارہے ہیں؟
معاملہ بچیوں کے حجاب پہن کر کلاس میں بیٹھنے کا تھا،توخاتون ٹیچروں کو کیوں روکا جارہا ہے؟حجاب پہننے سے؟ کورٹ نے فیصلہ نہ سنانے تک حجاب پر روک لگایا تھا،مگر اس کا اطلاق سب پر کیوں کیا جارہا ہے؟
یار بڑے سادہ مزاج ہیں!! وہ سوچتے ہیں ہم اپنے دشمن کو خاموش رہ کر مات دے دیں گے،مگر انہیں نہیں پتہ کہ ان کا دشمن تو بس تاک میں ہے،وہ آپ کا پاؤں پہلے کچلے گا،آپ نہیں بلبلائیں گے تو گردن مروڑ دے گا،پھر بھی اگر آپ خاموش رہیں گے،چاہیں گے کہ اب چلا جائے،
تو ظاہر سی بات ہے وہ جانے کے لیے تو ہے نہیں،اس کے لئے سب سے اہم یہ ہے کہ آپ ہی دنیا سے چلے جائیں،پھر کیا کرے گا ہمت بڑھے گی،سینے پر وار کرے گا،وہ آپ کو ہر حال میں مجبور کرے گا کہ آپ درد سے بلبلا جائیں۔
آپ کا دشمن نفسیاتی مرض کا شکار ہے،آپ کیوں بھول جاتے کہ وہ ایسا مریض ہے کہ اس کو آپ پر کوڑے برسانے میں ہی نشہ ملتا، اسے سکون ملتا ہے جب آپ تکلیف میں ہوتے،تو کب تک آپ تکلیف برداشت کرتے ہیں یہ آپ کی قوت برداشت پر منحصر ہے۔
یہ جو لوگ بات بات پر سڑکوں پر نکل آتے ناں،وہ یوں ہی نہیں آتے،شاید ان سے اب برداشت نہیں ہوتا،تب آتے ہیں اور ابھی آپ حکمت،مصلحت اور خاموشی کی باتیں بول رہے ہیں تو کوئی بات نہیں،یقین رکھئے،ایک دن آپ بھی مجبور ہوجائیں گے!!۔
بہرحال ان سب ہنگاموں کے بیچ مجھے سب سے زیادہ مثبت پہلو یہی نظر آرہا کہ ہندوستان میں جس قدر بھی اسلاموفوبیا پھیل رہا ہے، اور جس طرح سے قانون کی گردن مروڑ کر اسے مسلم مخالف بنانے کی کوشش کی جارہی یا جس قدرمسلمانوں کو ہراساں کیا جارہا ہے، اسی قدر مسلمان،مسلمان بنتے جارہے ہیں۔
زیادہ آرام ملے تو لوگ ہاتھ پاؤں پسار کر بیٹھ جاتے،مصیبتیں ہی مسلمانوں کو بہتر مسلمان بناتیں ہیں، دیکھ لیجئے کچھ مسلم ممالک میں لبرلزم کتنا عروج پر ہے،لوگ کس قدر بے حیائی کے دلدادہ ہوتے جارہے،کیونکہ وہ بیچارے ایسی سرحد میں مقیم ہیں کہ نہ ان کا واسطہ کسی مشرک سے،نہ کسی کافر سے تو وہ آپس ہی بھڑے جارہے،ان کی عورتیں مغربی تہذیب کے زیر اثر کپڑے اتارنے کی وکالت کرتی ہیں،ادھر ہندوستان میں مسلم عورتیں حجاب کے لیے لڑائی لڑ رہی ہیں۔
یہ ملک مسلمانوں کو احساس دلا رہا ہے کہ وہ ایسی قوم سے تعلق رکھتے جس کا مٹ جانا ضروری ہے!!اس لیے اس پر چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں،ملک بدر کرنے کے لیے سازشیں ہورہی ہیں،ان کی شناخت پر حملہ کیا جارہا،نفرت کرنے کے لیے مسلم نام ہی کافی ہے
ٹی وی پر دن رات ان کے خلاف زہر اگلا جاتاہے،لؤ جہاد سے لے کر زمین جہاد تک،یو پی ایس سی جہاد سے لے کر تھوک جہاد تک،پتہ نہیں کس کس قسم کے جہاد کو موضوع بحث بنایا جارہا ہے؟
یہ سب چیزیں مسلمانوں کو حساس بنا رہی ہیں،اور انہیں جد و جہد کرنے پر ابھار رہی ہیں،وہ بھی اس ملک کے دستور کے دائرہ میں رہ کر۔مسلمان اس سے باہر نہیں جارہے ہیں،نہ فساد مچا رہے ہیں،نہ شریعہ لاء کی بات کر رہے،بلکہ بچے بچے اب شاید دستور ہند کے پریمبل سے واقف ہورہے ہیں۔
” ہم ہندوستانی ” انہیں یاد دلا رہا کہ وہ اس ملک سے الگ نہیں،مخالف قانون کا غلط استعمال کررہا ہے،مگر اس ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بچانے کی کوششیں اب وہ کریں گے۔
بچے بچے کو دھیرے دھیرے پتہ چل رہا ہے کہ دستور ہند نے انہیں کیا آزادیاں دے رکھی ہیں۔جس طرح سے بچیاں حجاب کے حق میں میڈیا کے سامنے قانون کا حوالہ دے رہی ہیں وہ بہت خوش آئند ہے۔ساری لڑائیاں "دستور” کو بچانے کے نام پر ہورہی ہیں وہ بھی مکمل مسلم شناخت کے ساتھ۔” انہیں اندھیروں سے روشنی نکلے گی” ان شاء اللہ
مضمون نگار: عزیراحمد
دہلی

