کہیں گے لوگ یہ فخر سے صدیوں تک
کہ ہم نے نقاب میں انقلاب دیکھا ہے
ہندو ساتھیوں نے میری تائید کی،احتجاج کرنے والے باہری لوگ تھے
"مسکان” نے دیا قوم کو ہمت و حوصلہ اور فرقہ پرستوں کو منہ توڑ جواب
مانڈیا کالج واقعہ کے ویڈیو کی سوشل میڈیا پر سونامی، ہر طرف سے ستائش

بنگلورو/حیدرآبا: 08۔فروری (سحرنیوز ڈاٹ کام )
جنوبی کرناٹک کے ضلع اُڑپی کے ایک سرکاری پی یو کالج سے 28 ڈسمبر کو مخالف حجاب مہم کا آغاز کیا گیا تھا۔جہاں کی 6 طالبات کو حجاب پہن کر آنے پر کلاس روم سے نکال دیا گیا تھا۔یہ طالبات بدستور کالج پہنچتی رہیں لیکن انہیں کلاس روم میں داخلہ سے روک دیا گیا تھا۔
بالآخر یہ طالبات 31 جنوری کو کرناٹک ہائی کورٹ سے رجوع ہوئیں کہ دستور کی دفعات 14 اور 25 کے تحت دی گئی مذہبی اور دستوری آزادی کو حکومت،تعلیمی اداروں اور زعفرانی ٹولیوں کی جانب سے پامال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔لہذا عدالت اس میں مداخلت کرے۔
اس درخواست کی سماعت آج 8 فروری بروزمنگل کو معزز جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ ڈکشٹ کرشنا شری پد کی ایک رکنی بنچ نے کی۔اور اس درخواست کی کل 9 فروری کو ڈھائی بجے دن دوبارہ سماعت ہوگی۔
اسی دؤران آج کرناٹک کے مانڈیا کے”پی ای ایس کالج” میں پیش آئے واقعہ کے ویڈیو کی سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر سونامی آئی ہوئی ہے۔وہیں میڈیا پر بھی اس ویڈیو کی دھوم مچی ہوئی ہے۔
اس ویڈیو میں دیکھا گیا کہ کس طرح حجاب پہن کر کالج پہنچی ایک تنہا مسلم طالبہ کا سینکڑوں لڑکوں کا "جھنڈ” زعفرانی شالوں اور کھنڈوؤں کو لہراتے ہوئے جئے شری رام کے نعروں اور قہقہوں کے ساتھ تعاقب کررہا ہے۔تاہم اس حوصلہ مند مسلم طالبہ کے ماتھے پر خوف کی ایک شکن تک نظر نہیں آئی اور وہ اس جھنڈ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کئی مرتبہ اپنا ہاتھ اٹھاکر”اللہ اکبر” کا نعرہ لگاتے ہوئے کالج میں داخل ہوگئی۔
سوشل میڈیا پر ہر انصاف پسند انسان چاہے وہ کسی بھی مذہب و فرقہ سے تعلق رکھتا ہوں اس آہنی اعصاب کی مالکہ لڑکی کے حوصلہ،بے خوفی اور ہمت کی داد دے رہا ہے۔
اس آہنی لڑکی کا نام ” مسکان خان ” ہے جو کہ مانڈیا کے”پی ای ایس کالج” کے” بی۔کام سال دوم” کی طالبہ ہیں۔
آج شام این ڈی ٹی وی انگریزی سے خصوصی بات کرتے ہوئے مسکان خان نے بتایا کہ وہ اس واقعہ کے دؤران ایک پل کے لیے بھی خوفزدہ یا پریشان نہیں ہوئیں۔مسکان خان نے این ڈی ٹی وی اینکر کے سوال کے جواب میں کہا کہ ان کے خلاف جن لڑکوں نے جئے شری رام کے نعروں سے ساتھ بدسلوکی اور انہیں خوفزدہ کرنے کی کوشش کی تھی ان میں سے صرف دس فیصد لڑکوں کا تعلق کالج سے تھا جبکہ زیادہ تر لڑکے باہری تھے۔
مسکان خان نے این ڈی ٹی وی سے 6 منٹ تک بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کالج انتظامیہ، پرنسپل،ٹیچرس نے ان کی حفاظت کی ان سب کا تعاون انہیں حاصل ہوا۔مسکان خان نے بتایا کہ وہ بچپن سے اسکارف اور پھر برقعہ پہن کر ہی اسکول اور کالج جایا کرتی ہیں۔کلاس روم میں جانے کے بعد وہ برقعہ اتاردیتی ہیں اور کلاس روم میں اسکارف پہن کر رہتی ہیں۔
مسکان خان نے زور دیکر کہا کہ وہ حجاب پہنتی رہیں گی کبھی حجاب یا برقعہ نہیں چھوڑیں گی۔مسکان خان نے انکشاف کیا کہ ان کے ساتھی ہندو طلبہ نے ان کی تائید کی اور ہمیشہ وہ تائید کرتے ہیں۔مسکان نے ساتھ ہی بتایا کہ انہیں اس واقعہ کے بعد ہر کسی کی تائید حاصل ہورہی ہے۔
این ڈی ٹی وی سے خصوصی بات کرتے ہوئے مسکان خان نے تاسف کا اظہار کیا کہ ان کی اولین ترجیح تعلیم حاصل کرنا ہے لیکن محض ایک کپڑے کے ٹکڑے کے نام پر ہماری تعلیم کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔سوشل میڈیا پر مسکان خان کے اس باہمت مظاہرہ پرمشتمل ویڈیو سے ایک بہت بڑا طبقہ متاثر ہوکر ان کی تعریف و توصیف میں مصروف ہے۔
صدر کل ہندمجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسدالدین اویسی نے ٹوئٹر پرمسکان واقعہ کے اس ویڈیو کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے علامہ اقبال کا شعر لکھا ہے کہ :
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
مسکان خان کے ہاتھوں نفرت پھیلانے والی زعفرانی بریگیڈ کی ناکامی،اور ان کی اس گھٹیا حرکت کے خلاف مختلف میمز،ویڈیوز اور فوٹوز کے ذریعہ ان کا مذاق اڑایا جارہا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں موجود لڑکوں نے ایک تنہا لڑکی کو پریشان کرنے کی کوشش کی جنہیں اس ایک شیرنی نے ڈرا دیا۔
صدر کل ہندمجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے اتر پردیش کے انتخابی جلسہ سے اپنے خطاب کے دؤران بھی مانڈیا واقعہ کی بی بی مسکان کو”ہماری ایک بہادر بیٹی”سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ”میں سلام کرتا ہوں اس بیٹی کی بہادری کو،میں سلام کرتا ہوں اس بچی کے والدین کو کہ انہوں نے اپنی بچی کو بہادر بنایا "۔
صدر جمعیۃ علما ہند مولانا محمود مدنی نے بھی مسکان خان کی اس بہادری اور شجاعت کے مظاہرہ کی زبردست ستائش کرتے ہوئے جمعیۃ علما ہند کی جانب سے قوم کی اس بہادر بیٹی بی بی مسکان کو پانچ لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مسکان خان نے اس ملک کی حجاب/برقعہ پہننے والی کروڑہا ماؤں،بہنوں اور بیٹیوں کو بھی حوصلہ اور طاقت عطا کردی ہے کہ انہیں ہرگز مایوس یا خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ساتھ ہی اس جیالی مسکان خان نے قوم کے رہنماؤں،قائدین بالخصوص نوجوانوں کو بھی ایک پیغام دے دیا ہے کہ خوف یا بزدلی قوم کی پہچان ہرگز نہیں ہوسکتی!!

