حجاب پر پابندی معاملہ
کرناٹک ہائی کورٹ نے معاملہ کو وسیع بنچ کے حوالے کردیا
مسلم طالبات کو کوئی عبوری راحت نہیں
بنگلورو: 09۔فروری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
کرناٹک ہائی کورٹ نے مسلم طالبات کے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پہننے پر عائد پابندی کے معاملہ میں مسلم طالبات کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کو آج وسیع بنچ کے حوالے کردیا ہے۔
کل اس معاملہ پر حکومت کرناٹک کے ایڈوکیٹ جنرل اور مسلم طالبہ کے سینئر ایڈوکیٹ دیوادت کامت کے درمیان عدالت کے سامنے بحث و مباحث کے بعدمعزز جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ ڈکشٹ کرشنا شری پد نے اس معاملہ کی سماعت آج تک کے لیے ملتوی کی تھی۔

آج ڈھائی بجے دن کرناٹک ہائی کورٹ میں اس معاملہ کی دوبارہ سماعت اور دونوں جانب کے وکلا کی جانب سے پیش مختلف حوالوں کی سماعت کے بعدمعزز جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ ڈکشٹ کرشنا شری پد نے محسوس کیا کہ یہ معاملہ چند دستوری سوالات پیدا کرتا ہے اور یہ پرسنل لا کی اہمیت کا بھی ہے جس کا فیصلہ ایک بڑے بنچ کو کرنا چاہیے۔اس لیے اس معاملہ کو وسیع بنچ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔
معزز جسٹس نے رجسٹرار کو ہدایت دی کہ اس معاملہ سے متعلق درخواستوں میں عجلت کی استدعا کو مدنظر رکھتے ہوئے غور کرنے کے لیے فوری طور پر چیف جسٹس کے روبرو پیش کریں تاکہ وہ اس معاملہ کی سماعت کے لیے وسیع بنچ کا تقرر عمل میں لائیں۔
ان درخواستوں کی سماعت کررہی جسٹس کرناٹک ہائی کورٹ ڈکشٹ کرشنا شری پد پرمشتمل سنگل بنچ نے حجاب معاملہ میں عبوری راحت سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس پر وسیع بنچ ہی فیصلہ کرے گی۔
اس معاملہ میں عدالت کے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا حجاب پہننا اسلام کے ضروری مذہبی عمل کا حصہ ہے اور کیا اس میں ریاستی مداخلت شامل ہے؟سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڈے جو کہ کالج کے سابق طالب علم بھی ہیں درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے دلیل دی کہ اس کیس میں شامل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کے پاس یونیفارم تجویز کرنے کا اختیار ہے؟ اور کیا اسے صحیح طریقے سے تجویز کیا گیا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ درخواست گزار کا معاملہ ہے کہ ریاست کے پاس جی او جاری کرنے کی کوئی اہلیت نہیں ہے۔کرناٹک کے تعلیمی قواعد کے مطابق اور اسی طرح یہ ریاست کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ جبکہ ریاست نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
درخواست گزار طالبہ کے ایک اور سینئر ایڈوکیٹ دیوادت کامت جنہوں نے کل عدالت میں مختلف دلائل پیش کیے تھے نے آج سماعت کے دؤران عدالت سے اپیل کی تھی کہ دوماہ کے لیے ان طالبات کو کالجس جانے کی اجازت دی جائے۔اور اس سلسلہ میں عبوری حکم جاری کیا جائے۔
جبکہ سینئر ایڈوکیٹ سنجے ہیگڈے نے معزز جسٹس سے اپیل کی کہ تعلیم کے حصول کے لیے کمسن طالبات کو ان کے ضمیر کے ساتھ مسئلہ کو حل کرنے پر مجبور نہ کیا جائے انہیں بھی ان کے ٹیچرس کے درشن کرنے کی اجازت دی جائے۔وہیں ریاستی حکومت کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے ایڈوکیٹ جنرل پی کے ناودگی نے اس معاملہ کو وسیع بنچ کے حوالے کرنے کی مخالفت کی۔
انہوں نے کہا کہ ان درخؤاستوں کو غلط فہمی کے ساتھ داخل کیا گیا ہے۔جس کے ذریعہ 5 فروری کو حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکام کو چیلنج کیا گیا ہے۔جس میں تمام اداروں کو ڈریس کوڈ کا اختیار دیا گیا ہے۔اس لیے یہ پہلی نظر میں کوئی کیس نہیں بنتا۔

