” وفا بھی شرط ہے اے دوست دوستی کے لیے "
رتن ٹاٹا جیسی نامور اور بڑی شخصیت کے گلے میں
ہاتھ ڈال کر ہمیشہ ان کے ساتھ رہنے والا یہ نوجوان آخر ہے کون؟
یحییٰ خان/سحرنیوزڈیسک
09۔جنوری2022ء
دوستی! دنیا کا ایک ایسا بے لوث رشتہ جو کئی بار خونی رشتوں پر بھاری پڑجاتا ہے۔مگر وفاداری،ایمانداری،بے غرضی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی طاقت،ایک دوسرے کی اچھائیوں اور برائیوں کو نظر انداز یا قبول کرتے ہوئے دوستی نبھانا کسی بھی دوستی کی بنیاد ہوتے ہیں۔
دوستی نہ سرحدیں دیکھتی ہے،نہ ذات پات،نہ مذہب نہ اونچ نیچ اور نہ ہی عمر! یہ ان تمام اور سماجی انسانی بندشوں سے یکسر آزاد ہوتی ہے۔کہتے ہیں کہ جب دو ذہن ملتے ہیں تو ہی گہری دوستی ہے!
ان دنوں سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو سونامی کی طرح وائرل ہوا ہے۔جو ملک کے مشہور صنعت کار رتن ٹاٹا کا ہے جن کے ساتھ ایک نوجوان بھی ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ انتہائی بے تکلفی برت رہے ہیں۔

28 ڈسمبر کو ٹاٹا گروپ کے مالک رتن ٹاٹا کی 84 ویں سالگرہ تھی اس وقت لیے گئے ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح ملک اور دنیا کی اتنی بڑی،نامور اور مشہورشخصیت ایک لڑکے کے ساتھ ایک موم بتی پھونک کر ایک انتہائی چھوٹے سے کیک سے اپنی سالگرہ منارہی ہے اور یہ لڑکا کیک کا چھوٹا سا ٹکڑا رتن ٹاٹا کے منہ میں رکھتا ہے اور رتن ٹاٹا کے کندھے پر بالکل ایسے ہاتھ رکھتا ہے جیسے یہ ان کا کوئی بے تکلف دوست ہو!
جبکہ کئی صنعتوں کے مالک اور سماجی خدمات میں اپنا ایک ریکارڈ رکھنے والے رتن ٹاٹا جن کا شمار بلنیئرس میں ہوتا سے صرف ملاقات کے لیے مہینوں لگ جاتے ہیں اور ملاقات کےوقت سیکیورٹی کے کئی مراحل طئے کرنا پڑتا ہے۔تو یہ نوجوان آخر کون ہے جو ان کے اتنا قریب ہے! کیا یہ نوجوان ان کا کوئی رشتہ دار ہے!
جی نہیں آپ کو حیرت ہوگی کہ یہ 28 سالہ نوجوان 84 سالہ رتن ٹاٹا کا دوست اور ان کا معاون خاص ہے اور ان دونوں کے درمیان موجود بے تکلفی دیکھنے والوں کو حیران کردیتی ہے اس 28 سالہ نوجوان کا نام شنتانو نائیڈو ہے۔جن کا تعلق مہاراشٹرا کے پونہ سے ہے۔
رتن ٹاٹا کے سوشل میڈیا آئی ڈیز اور سماجی خدمات کی دیکھ ریکھ اور منصوبہ کی تیاری اس 28 سالہ شنتانو نائیڈو کے ذمہ ہی ہے۔اور شنتانو نائیڈو ٹاٹا کے بانی رتن ٹاٹا کے پاس ڈپٹی جنرل مینجئر(چیرمین آفس) کے طور پر بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ ایک دن شنتانا نائیڈو اپنی کار کے ذریعہ دفتر سے گھر واپس واپس ہورہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ کسی گاڑی کی ٹکر سے مرے ہوئے ایک کتے کی لاش سڑک پر پڑی ہوئی ہے۔جس سے متاثر ہوکر انہوں نے دوستوں کے ساتھ مل کر کتوں کے لیے ریڈیم کلر کیے جائے پٹے تیار کیے اور تاکہ رات کے وقت گاڑی چلانے والوں کو یہ کتے دور سے ہی نظر آجائیں۔اطلاعات کےمطابق شنتانو نائیڈو کا یہ پراجکٹ اب ایک بزنس کی طرح ملک کے 22 سے زیادہ شہروں اور نصف درجن ممالک میں پھیلا ہوا ہے۔
کئی لوگوں نے ان سے ایسے بیلٹ طلب کیے جبکہ آوارہ کتوں کو انہوں نے اپنے دوستوں کی مدد سے یہ بیلٹ پہنچائے۔ایسے بیلٹ تیار کرنے کے لیے شنتانا نائیڈو کے پاس رقم نہیں تھی تو ان کے والد کے مشورہ پر انہوں نے ٹاٹا گروپ کو ایک خط لکھ کر اس پراجکٹ کے لیے مدد طلب کی۔جس پر اس پراجکٹ کے لیے مالیہ فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے انہیں فوری ممبئی آنے کی ہدایت موصول ہوئی اس طرح شانتانو نائیڈو نے ٹاٹا گروپ کی مدد سے ” موٹو پاس ” پراجکٹ کا آغاز کیا۔

دراصل تحفظ جانوران مہم کے دؤران رتن ٹاٹا اور شنتانا نائیڈو کے درمیان پہچان ہوئی یہ دونوں جانوروں سے کے تحفظ سےمتعلق مختلف امور پر بات کرتے،ای۔میلس کے ذریعہ ان میں تعلق مزید بڑھتا گیا۔اسی دؤران رتن ٹاٹا کو شنتانتا نائیڈو نے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس سے واقف کروایا اور اس دؤر میں ان کی اہمیت و افادیت بتائی۔ٹوئٹر،انسٹاگرام،فیس بک کا استعمال اور ان پر پوسٹنگس، ہیش ٹیگ اور ایموجیز کے استعمال کا طریقہ بھی شنتانا نے رتن ٹاٹا کو سکھایا۔
وہیں کاروبار سے متعلق کئی طریقے بھی بتائے اور مشورے بھی دئیے۔ٹاٹا ٹرسٹ کی جانب سے 2017 میں جانوروں کے علاج اور ان کے تحفظ کے لیے ” پیوپل فار اینیمل” People For Animal ” نامی تنظیم کے ساتھ مل کر 100 کروڑ روپئے کے صرفہ سے ایک ہاسپٹل کی تعمیر کا اعلان کیا جو اب افتتاح کے لیے تیار ہے۔
اس دؤران رتن ٹاٹا اور شنتانو نائیڈو کے درمیان عمر کا اتنا بڑا فرق،ایک دوسرے کی سوچ اور سوچنے کی صلاحیت کبھی بھی ان دونوں کی دوستی اور کاروبار کے درمیان حائل نہیں ہوپائے دوستی اتنی گہری ہوتی چلی گئی کہ یہ دونوں عمر اور دیگر کئی معاملات میں بہت زیادہ فرق کے باؤجود ایک دوسرے کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر بات کرتے ہیں۔
شنتانو نائیڈو” میٹو پاس کمپنی” کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے ہی اعلیٰ تعلیم کے حصول کی غرض سے امریکہ روانہ ہوئے۔وہاں کی کارنیل یونیورسٹی میں ڈگری کی تکمیل کے موقع پر منعقدہ تقریب میں خود رتن ٹاٹا شریک ہوئے تھے۔بعد ازاں بھارت واپس آنے کے بعد رتن ٹاٹا کی خواہش پر شنتانو نائیڈو نے ٹاٹا گروپ جوائن کیا۔رتن ٹاٹا اپنے اس دوست شنتانو نائیڈو کے متعلق کہہ چکے ہیں کہ”اس نوجوان کی عمر بھلے ہی کم ہے لیکن اس میں صلاحیتیں کوٹ کوٹ کر بھری ہیں اور یہ لڑکا بہت ہی قابل اور سمجھدار ہے”۔
کورونا وبا کے دؤران رتن ٹاٹا نے مختلف طریقوں سے عوام کی مدد کی اور یہ سارے امدادی کام شنانتانو نائیڈو کی نگرانی میں ہی انجام دئیے گئے۔فی الوقت شنتانو نائیڈو معمر اور ضعیف افراد کے ساتھ ساتھ دیگر مستحقین کے لیے کئی ایک پراجکٹ چلانے میں مصروف ہیں اور کئی ایک پروگرامس کا آٖغاز کرنے والے ہیں۔

