بیرسٹر اسدالدین اویسی کا سر قلم کی دھمکی،گرفتار کرنے والے پولیس عہدیدار کو 22 لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان

غازی آباد کے جلسہ میں پنکی چودھری نے بیرسٹر اسدالدین اویسی کا سر قلم کرنے کی دھمکی دی
گرفتار کرنے والے پولیس عہدیدار کو گروگرام میں 22 لاکھ روپئے کے انعام کا اعلان
بیرسٹر اویسی کا ٹوئٹر پر شدید ردعمل،سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل

غازی آباد/گروگرام: 01۔جنوری
(سحرنیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)

اتراکھنڈ کے ہری دُوار میں 17 تا 19 ڈسمبرمنعقدہ دھرم سنسد میں ملک کو ہندوراشٹر بنانے کے لیے20لاکھ مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکی، ملک کے دارالحکومت دہلی میں منعقدہ ہندوسمیلن میں ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے لیے مرنے اور مارنے کے لیے حلف اور پھر 26 ڈسمبر کو کانگریس اقتدار والی ریاست چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور میں منعقدہ دھرم سنسد میں کالی چرن کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نازیبا ریمارک اور اسی خطاب میں بابائے قوم کے خلاف انتہائی توہین آمیز الفاظ کے استعمال کا معاملہ ملک اور ساری دنیا میں موضوع بحث بنا ہوا ہے۔

کالی چرن کو بی جے پی اقتدار والی ریاست مدھیہ پردیش کے کھجوراہو سے 25 کلومیٹر دور ایک گاوں کے مکان سے دو دن قبل ہی چھتیس گڑھ پولیس نے گرفتار کرلیا ہے جہاں وہ روپوش تھا۔

سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمس پر آج بھی یہ اشتعال انگیز ویڈیوز وائرل ہیں لیکن مرکزی حکومت، وزارت داخلہ اور اتراکھنڈ حکومت کی جانب سے اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

اس سلسلہ میں سپریم کورٹ کے 76 وکلا نے چیف جسٹس آف انڈیا جناب این وی رمنّا کو ایک خط لکھ کر ان سے درخواست کی ہے کہ مسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکی دینے والوں کے خلاف سوموٹو کے تحت سپریم کورٹ ازخود کارروائی کرے۔

ایسے میں آج ایک ٹوئٹر پر ایک اور ویڈیو وائرل ہوا ہے جو کہ اترپردیش کے غازی آباد میں ایتی نرسنگھانند کے حامیوں کی جانب سے منعقدہ ہندو دائیں بازو کی تنظیموں کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے” پنکی چودھری”نے جئے شری رام کے نعروں اور تالیوں کی گونج میں نازیبا لفظ کا استعمال کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ” ہندو رکھشا دل کے کارکن صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی کی گردن کاٹ کر ان کا نام بدلیں گے”!!۔ٹوئٹر پر صحافی علیشان جعفری کے اکاؤنٹ سے یہ ویڈیو پوسٹ کیا گیا ہے۔

اسی ویڈیو کو صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے بھی اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر پوسٹ کیا ہے اور انہوں نے اس ویڈیو کے ساتھ ہندی میں دو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

 

” مودی-یوگی کے” نظام” میں نرگسیت پسند احمقوں کی کھلی چھٹی کا ثبوت۔ان کے آشیرواد کے بناء کیا یہ ممکن ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ ہر ظلم کرنے والے کا زوال ہوگا۔جو آج اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر خاموشی کے ذریعہ اپنی رضامندی کا اشارہ دے رہے ہیں۔کل تاریخ کے سیاہ صفحات میں ان کا نام لکھا ہوگا ان شا اللہ "۔

دوسری جانب ہندو شدت پسندوں کے اس جلسہ میں پنکی چودھری کی تقریر کے ایک اور حصہ پرمشتمل ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے آلٹ نیوز کے معاون فاؤنڈر محمد زبیر نے لکھا ہے کہ” غازی آباد میں نرسنگھا نند کے حامیوں کی جانب سے منعقدہ جلسہ سے خطاب میں پنکی چودھری نے ہری دُورا کے دھرم سنسد کا پیغام دہرایا ہے۔اس ویڈیو میں سنا جاسکتا ہے کہ پنکی چودھری کہہ رہا ہے کہ اسلام ایک تیزرفتار زہر ہے اور عیسائیت ایک سست رفتار زہر، پنکی چودھری کہتا ہے کہ اسلام اور عیسائیت کو زمین سے مٹادینا چاہئے”!!محمد زبیر نے اس ٹوئٹ میں غازی آباد پولیس کو ٹیگ بھی کیا ہے۔

دوسری جانب ہریانہ کے گروگرام (گرگاؤں) میں چھتیس گڑھ پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے کالی چرن کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعہ کے دن کئی دائیں بازو کی ہندوتنظیموں کے ارکان نے کالی چرن مہاراج کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج منظم کیا۔

سینکڑوں کارکنان ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ کے سامنے ٹینک پارک میں جمع ہوئے کالی چرن کی رہائی اور اسدالدین اویسی کی گرفتاری کامطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے اور مِنی سکریٹریٹ تک مارچ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ذلت کو برداشت نہیں کریں گے جو کہ ان کی مذہبی شخصیت کے ساتھ کی گئی ہے۔اس موقع پر احتجاجی قائدین کا کہنا تھا کہ ہر کسی کو اظہار رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ان کا الزام تھا کہ کالی چرن کو ایک ایجنڈہ کے تحت پکڑا گیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ پولیس اور حکومت نے اویسی کو گرفتار کیوں نہیں کیا؟

اس احتجاجی مارچ کی قیادت کرنے والے ہندو رہنما اور وکیل کلبھوشن بھاردواج نے کہا کہ صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمان حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی کو گرفتار والے پولیس عہدیدار کو 22 لاکھ روپے کا انعام دیا جائے گا۔بعدازاں انہوں نے کالی چرن کی رہائی اور اسد الدین اویسی کی گرفتار کے مطالبہ پرمشتمل ایک میمورنڈم نائب تحصیلدار سشیل کمار کے حوالے کیا۔

یاد رہے کہ ہری دورا کے دھرم سنسد کے اشتعال انگیز ویڈیوز سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کے بعد صدر مجلس بیرسٹر اسد الدین اویسی کی تقریر کا ایک ناقابل شناخت ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل کیا گیا تھا۔جس پر دائیں بازو کی ہندو تنظیموں کے کئی کارکنوں نے الزام لگایا تھا کہ حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے تقریر کے دوران ہندوؤں کو دھمکیاں دی ہیں۔جس پر فیاکٹ چیکر "آلٹ نیوز ” نے تحقیق کے بعد وضاحت کی تھی کہ یہ ویڈیو جھوٹ پر مشتمل ہے۔

نیچے دی گئی ” آلٹ نیوز ” کی اس لنک کو کلک کرکے اسدالدین اویسی کی اصل اور مکمل تقریر اور سوشل میڈیا پر وائرل کیے گئے ان کے ویڈیو کلپس کو دیکھا جاسکتا ہے اور اس سے متعلق پوجا چودھری کی تحقیقاتی رپورٹ بھی پڑھی جاسکتی ہے۔

https://www.altnews.in/clipped-video-shared-to-falsely-claim-asaduddin-owaisi-threatened-hindus/