مسلمانوں اور مہاتما گاندھی کے خلاف اہانت آمیز تقریر،کالی چرن مدھیہ پردیش کے کھجوراہو سے گرفتار

مسلمانوں اور مہاتما گاندھی کے خلاف اہانت آمیز تقریر
روپوش کالی چرن مدھیہ پردیش کے کھجوراہو سے گرفتار

بھوپال: 30۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

26 ڈسمبر کو ریاست چھتیس گڑھ کے رائے پور میں منعقدہ دھرم سنسد سے اپنے خطاب میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے خلاف انتہائی نازیبا لفظ استعمال کرتے ہوئے ان کے قاتل ناتھورام گوڈسے کی ستائش،اس کو نمسکار کرنے والا اور مسلمانوں کو سیاست کے ذریعہ ممالک پر قابض ہونے والے قرار دینے والے کالی چرن کو بالآخر آج صبح کی اولین ساعتوں میں چھتیس گڑھ پولیس نے مدھیہ پردیش کے کھجوراہو میں دبوچ لیا جہاں وہ روپوش تھا۔رائے پور کے سینئر پولیس عہدیدار پرشانت اگروال نے تصدیق کی ہے کہ کالی چرن کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

چھتیس گڑھ پولیس ذرائع کے مطابق کالی چرن نے کھجوراہو میں ایک گیسٹ ہاؤس بک کروایا تھا لیکن اس کے خلاف کیس درج ہونے کے بعد اس نے وہاں قیام نہیں کیا وہ اپنی گرفتاری سے بچنے کے لیے کھجوراہو سے تقریباً 25 کلومیٹر دور ایک کرائے کے مکان میں روپوش تھا۔

ذرائع کے مطابق رائے پور پولیس کالی چرن اور اس کے تمام ساتھیوں کو موبائل لوکیشن کی مدد سے ٹریک کررہی تھی اور اس ٹریکنگ سے بچنے کے لیے اس نے اور اس کے تمام قریبی ساتھیوں نے اپنے فون بھی بند کر دئیے تھے۔آج صبح 10 عہدیداروں پر مشتمل پولیس کی ایک ٹیم نے بالآخر اس کا سراغ لگایا اور اسے گرفتار کرتے ہوئے چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور لے گئے۔جسے آج ہی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے الزام عائد کیا ہے کہ چھتیس گڑھ پولیس نے مقامی پولیس کو اطلاع دئیے بغیر ان کی ریاست سے کالی چرن کو گرفتار کرکے بین ریاستی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی ہے۔ جس پر انہوں نے مدھیہ پردیش کے پولیس سربراہ سے اس معاملہ کو چھتیس گڑھ کے اپنے ہم منصب سے رجوع کرنے کے لیے کہا ہے!

مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے چھتیس گڑھ کے وزیراعلی بھوپیش بگھیل نے کہا ہے کہ پولیس نے کسی پروٹوکول کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔وزیراعلیٰ نے ان سے استفسار کیا کہ ” نروتم مشرا کو بتانا چاہئے کہ وہ مہاتما گاندھی کی توہین کرنے والے شخص کی گرفتاری سے خوش ہیں یا غمگین؟۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے اور چھتیس گڑھ پولیس کی طرف سے گرفتاری طریقہ کار کے مطابق ہی ہوئی ہے۔

وہیں اطلاع ہے کہ مدھیہ پردیش پولیس نے اس مکان مالک کو گرفتار کرلیا ہے جس نے کالی چرن کو کرایہ پر مکان دیا تھا!!

چھتیس گڑھ پولیس نے اس کے خلاف بغاوت کا دفعہ لگایا ہے۔کالی چرن نے جہاں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے خلاف انتہائی نازیبا الفاظ استعمال کیے تھے وہیں اس دھرم سنسد سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”اسلام کا ٹارگیٹ سیاست کے ذریعہ راشٹر پر قبضہ کرنا ہے۔1947 کا سیاسی قبضہ اس کی مثال ہے۔پاکستان اور بنگلہ دیش ہماری آنکھوں کے سامنے ہے،پہلے ایران،عراق اور افغانستان پہلے ہی قبضہ کرچکے تھے!”۔

کالی چرن نے اس دھرم سنسد سے اپنے خطاب میں ہندوؤں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ہندو مذہب کے تحفظ کے لیے ایک ” کٹر ہندو لیڈر” کا انتخاب کریں۔

چھتیس گڑھ کے کانگریسی لیڈر و سابق میئر پرمود دوبے نے ٹکراپارا پولیس اسٹیشن اور سیول لائن پولیس اسٹیشن میں کالی چرن کے خلاف شکایت درج کروائی تھی کہ انہوں نے مہاتما گاندھی کے خلاف اہانت آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔جس کے بعد چھتیس گڑھ کی رائے پور پولیس نے کالی چرن کے خلاف دفعہ 505 (2) اور 294 کے تحت کیس درج کرلیا تھا۔

کالی چرن کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس کی ہر طرف سے شدید مذمت کی جارہی تھی اور سخت دفعات کے تحت اس کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔ جس کے بعد سے کالی چرن جس کا تعلق مہاراشٹرا کے اکولا ضلع سے ہے مدھیہ پردیش کے کھجوراہو میں روپوش ہوگیا تھا۔ 

 

” 26 ڈسمبر کو چھتیس گڑھ کے رائے پور میں منعقدہ دھرم سنسد سے کالی چرن کے خطاب کا ویڈیو اور مکمل تفصیلات سحرنیوز ڈاٹ کام کی اس لنک پر موجود ہے۔”

مہاتما گاندھی کے خلاف دھرم سنسد میں اہانت آمیز الفاظ کا استعمال،سنت کالی چرن مہاراج کے خلاف چھتیس گڑھ میں کیس درج