تمل ناڈو ہیلی کاپٹر حادثہ: 13 مسافرین کی ہلاکت کی تصدیق، چیف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اوران کی اہلیہ کےمتعلق کوئی تصدیق نہیں کی گئی 

تمل ناڈو ہیلی کاپٹر حادثہ: 13 مسافرین کی ہلاکت کی تصدیق
چیف ڈیفنس اسٹاف اور ان کی اہلیہ کےمتعلق کوئی تصدیق نہیں کی گئی 
وزیر دفاع،فوج کے اعلیٰ عہدیدار اور سیاسی قائدین جنرل بپن راوت کے مکان پہنچے
نئی دہلی: 08۔ڈسمبر (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز )

ٹاملناڈو کے کوئمبتور اور کولور کے درمیان "نیلگری”میں آج دوپہر انڈین آرمی کے ہیلی کاپٹر Mi 17 5Vکے گرجانے اور اس میں سوار چیف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت سمیت ان کی اہلیہ محترمہ مدھولیکا راوت کے متعلق اطلاعات کے انتظار،تجسس اور ملک کے عوام کی بے چینی کے دؤران اطلاع آئی ہے کہ اس حادثہ میں ہیلی کاپٹر میں سوار 14 مسافرین میں سے 13 کی موت واقع ہوئی ہے۔اور ان نعشوں کی شناخت ڈی این اے کے ذریعہ کی جائے گی۔

خبررساں ادارہ ” اے این آئی ” نے اپنے ایک ٹوئٹ میں ” ذرائع سے دستیاب ” یہ اطلاع دی ہے۔

 

جبکہ این ڈی ٹی وی نے بھی ضلع کلکٹر کے حوالے سے 13 اموات کی تصدیق کی ہے۔

تاہم سرکاری سطح پر چیف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ محترمہ مدھولیکا راوت کے متعلق اب تک وزیر دفاع راجناتھ سنگھ یا مرکزی حکومت نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

میڈیا اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کل لوک سبھا میں اس حادثہ سے متعلق تفصیلات لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے دونوں ایوانوں اور ملک کو دیں گے۔

اس ہیلی کاپٹر حادثہ کی اطلاع کے بعد وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے علاوہ آرمی چیف کے بشمول فوج کے اعلیٰ عہدیدار،سیاسی قائدین، چیف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کے مکان واقع کامراج مارگ دہلی پہنچے۔ ساتھ ہی جنرل بپن راوت کے رشتہ دار بھی ان کے مکان پہنچ رہے ہیں!

تمل ناڈو کے اوٹی کے قریب "نیلگری” کے جنگلات میں پیش آئے اس حادثہ کے وقت اس ہیلی کاپٹر میں 14 افراد سوار تھے جن میں چیف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت،ان کی اہلیہ محترمہ مدھولیکا راوت،بریگیڈر ایل ایس لڈر،لیفٹنٹ کرنل ہرجیندر سنگھ،این کے گرو سیوک سنگھ،این کے جتیندرا کے آر ، لانس نائیک وویک کمار،بی۔سائی تیجا اور ایچ اے وی ست پال سوار تھے۔

خبررساں ادارہ اے این آئی کے مطابق وِنگ کمانڈر پرتھوی سنگھ چوہان حادثہ کے شکار فوج کے اس ہیلی کاپٹر کے پائلٹ تھے۔اور وہ 109 ہیلی کاپٹر یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر تھے۔

اس حادثہ کے بعد ابتدائی اطلاع میں کہا گیا تھا کہ چار مسافرین ہلاک ہوئے ہیں۔بعدازاں یہ تعداد سات بتائی گئی تھی اب 13 مسافرین کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔

لیکن چیف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت سمیت ان کی اہلیہ محترمہ مدھولیکا راوت کے متعلق کوئی اطلاع نہیں دی گئی ہے۔

انڈین ایرفورس کی جانب سے اس حادثہ کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔بتایا جارہا ہے کہ حادثہ کے وقت اس مقام پر بارش اور دھویں کی چادر تھی اور یہ علاقہ گھنے جنگلات پرمشتمل پر ہے۔ہیلی کاپٹر حادثہ کے بعد اس میں لگی آگ کے باعث نعشیں جھلسی ہوئی پائی گئی ہیں۔