تانڈور میں فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں کے لیے میرا ووٹ ذمہ دار ہے،ایک شخص کا انوکھا احتجاج
گلے میں چپلوں کا ہار ڈال کر گاؤں گاؤں گھمانے اور علامتی پتلے جلانے عوام سے اپیل
وقارآباد/تانڈور:29۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
گزشتہ کئی سال سے ضلع وقارآباد کے تانڈور میں موجود خطرناک فضائی آلودگی اور یہاں کی خراب سڑکیں عوام کے لیے شدید پریشانیاں پیدا کررہی ہیں۔فضائی آلودگی کے باعث تانڈورمیں امراض قلب،گردوں کا عارضہ،دمہ اور سانس کی بیماریاں،جلدی بیماریوں سمیت مختلف بیماریاں عام ہیں۔
تانڈور کی اس فضائی آلودگی کے خلاف صدر سٹیزن ویلفیئرسوسائٹی تانڈور راج گوپال سارڈا کی متعدد شکایتوں کے بعد تلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے تانڈور میں فضائی آلودگی ناپنے والے آلہ کیساتھ 17 ڈسمبر 2015ء کو حیدرآباد روڈ پر لاری پارکنگ کے علاقہ میں 8 گھنٹوں تک آلودگی کو ریکارڈ کیا گیا تھا۔

جسکے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ تانڈور میں تمام اقسام کی دھول،مٹی اور دیگر عوامل پرمشتمل فضائی آلودگی کی شرح 622 ملی گرام ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ مرکزی پولیوشن کنٹرول بورڈ کے طئے کردہ قواعد و ضوابط کے تحت کسی بھی شہر کی فضائی آلودگی فی کیوبک میٹر 100 ملی گرام ہونی چاہئے! اس کے بعد تین سال سے یہ معاملہ نیشنل گرین ٹریبونل دہلی میں زیر دوراں ہے۔
تاہم افسوسناک بات یہ ہے تانڈور میں خطرناک اور انسانی صحت کے لیے سخت مضر فضائی آلودگی کی مقدار معلوم ہونے کے 6 سال بعد بھی اس فضائی آلودگی کے خاتمہ کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔!!
جبکہ تور دال کی پیداوار،سمنٹ اور پتھر کی صنعت کے لیے پورے ملک میں اپنی شناخت رکھنے والے تانڈور کی سڑکیں بھی انتہائی ابتر حالت میں موجود ہیں نئی سڑکیں بچھانا تو دور ان کی مرمت کی جانب بھی نہ منتخبہ عوامی نمائندوں کا دھیان جاتا ہے اور نہ ہی محکمہ آر اینڈ بی کے عہدیدار خوب غفلت سے جاگنے تیار ہیں!
جبکہ روزآنہ ملک کے مختلف مقامات سے ہزاروں بھاری مال بردار ٹرکس تانڈور پہنچتے ہیں اور یہاں سے سمنٹ اور پتھر منتقل کرتے ہیں۔
ایسے میں آج حلقہ اسمبلی تانڈور کے موضع انتارام کے ساکن نوجوان رضوان نے آج موضع انتارام گیٹ پر ایک روزہ انوکھا احتجاج منظم کیا ہے۔رضوان کا کہنا ہے کہ انتخابات کے وقت انہوں نے موجودہ رکن اسمبلی تانڈور کے وعدوں اور اعلانات پر بھروسہ کرتے ہوئے غلط شخص کو اپنا ووٹ دیتے ہوئے ان کا انتخاب کیا تھا۔محمد رضوان کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں سے تانڈور کی جو موجودہ حالت ہے اس کے لیے ان کا ووٹ بھی ذمہ دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ نہ صرف تانڈور کی سڑکیں خراب ہیں بلکہ تانڈور کو جوڑنے والی حیدرآباد،کوڑنگل،کرناٹک اور ظہیرآباد کی سڑکوں کی حالت بھی انتہائی ابتر ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی سے مختلف امراض کا شکار ہوکر اور خراب سڑکوں سے ہونے والے حادثات کے باعث قیمتی انسانی جانیں ضائع ہورہی ہیں اور اس کے باوجود

رضوان باقاعدہ ایک بیانر کے ساتھ دس بجے دن سے اس دھرنا پر بیٹھے ہیں جو کہ شام 5 بجے تک جاری رہے گا۔اس دھرنا میں بیٹھے رضوان کے گلے میں پھولوں کے ہار کے بجائے چپلوں کا ہار موجود ہے۔
تانڈور کی آلودگی اور خراب سڑکوں کو اپنے ووٹ کے غلط استعمال کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے محمد رضوان نے افسوس کا اظہار کیا ہے اوہ وہ تانڈور کے عوام سے معافی مانگ رہے ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ان کی اس غلطی پر بطور سزاء ان کے گلے میں چپلوں کا ہار پہنایا جائے،ان کے علامتی پتلے گاؤں گاؤں جلائے جائیں اور ان کی جم کر بے عزتی کی جائے۔

رضوان کا کہنا ہے کہ انہوں نے انتخابات کے وقت غلط شخص کو اپنا ووٹ دے کر کامیاب بنایا تھا جن کا ایک بھی وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا ہے اور عوام کو درپیش مشکلات کے لیے میں بھی ذمہ دار ہوں۔اس موقع پر رضوان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوائے احتجاج کے اور کچھ نہیں کرسکتے اور اس کے ذریعہ وہ عوام کو پیغام بھی دے رہے ہیں کہ اپنے مطالبات منوانے کے لیے اس ملک کے ہر شہری کو پرامن احتجاج کا جمہوری حق حاصل ہے اور اب ان کا مقصد ہوگا کہ رائے دہندوں کو باشعور بنایا جائے اور ان کے ووٹ کی اہمیت سے انہیں واقف کروایا جائے۔

رضوان کے اس انوکھے احتجاج اور اعتراف پر یہاں عوام مخمصہ میں پڑگئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جو کام اپوزیشن جماعتوں اور عوامی نمائندوں کا ہوتا ہے کہ وہ اپنے احتجاج کے ذریعہ عوام کو درپیش سنگین مسائل کو حل کروائیں وہی کام ایک عام انسان کرنے پر مجبور ہوا ہے!!
یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ ریاستی وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے گزشتہ ماہ دفتر بلدیہ تانڈور کی جدید عمارت کے افتتاح کے بعد منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب میں یہ کہتے ہوئے سرکاری طور پر اس بات پر مہر لگادی تھی کہ”تانڈور میں موجود فضائی آلودگی کے خاتمہ کے لیے تمام عوامی نمائندے سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔انہوں نے کہا تھا کہ پوری ریاست میں سب سے زیادہ فضائی آلودگی تانڈور میں ہی پائی جاتی ہے۔”
اس فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں کے خلاف یکم نومبر کو سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تانڈور میں نوجوانوں نے شدید احتجاج بھی کیا تھا تاہم اس کے باؤجود آج تک اس پر دھیان نہیں دیا گیا!!

