نفرت جیت گئی،فنکار ہار گیا!
کامیڈین منور فاروقی نے اسٹیج شوز سے کنارہ کشی کا اعلان کردیا
سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر فیصلہ واپس لینے کی اپیل اور تائید
بنگلورو : 29۔نومبر (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز )
فنکار چاہے کسی بھی ملک اور مذہب کا ہو وہ مذہب،ذات پات اور فرقہ سے اوپر ہوتا ہے۔بالخصوص کامیڈین اداکاروں کو ہر ملک میں بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے کہ یہ خود پر ہنس کر اور موجودہ حالات،عام لوگوں کو درپیش تکالیف و مشکلات کو لفظوں میں ڈھال کر اور حکمران وقت کے من مانی فیصلوں پر اپنے تیکھے لفظوں کے ذریعہ چوٹ لگا کر پریشانیوں اورمختلف الجھنوں کا شکار لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں۔
ایسے ہی ایک ہندوستانی فنکار کا نام ہے منور فاروقی!

جنہوں نے کل 28 نومبر کو اپنے انسٹاگرام پوسٹ کے ذریعہ اس ملک میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جس کے بعد بشمول راہول گاندھی کئی نامورشخصیتیں، صحافی، کامیڈینس،اداکار اور کھلے ذہن کے لوگ منور فاروقی کی تائید میں آگئے ہیں۔
سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمس ٹوئٹر، انسٹاگرام اور فیس بک پر منور فاروقی کی تائید کرتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لیں۔
دراصل کامیڈین منور فاروقی (30 سالہ) نے اپنے انسٹاگرام اور ٹوئٹر اکاؤنٹس پر تین صفحات پوسٹ کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ وہ "مزید شوز نہیں کر سکتے کیونکہ دائیں بازو کے گروپوں کی دھمکیوں کی وجہ سے گزشتہ دو ماہ میں ان کے کم از کم 12 شوز منسوخ کر دیے گئے ہیں”۔
"منسوخ ہونے والا تازہ ترین شو 28 نومبر کو بنگلورو میں ہونے والا تھا جہاں پولیس نے منتظمین سے امن و امان کے ممکنہ مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کی ہدایت دی۔
منور فاروقی نے اپنے بنگلورشو کے منسوخ ہونے کے بعد انسٹاگرام پر لکھا ہے کہ”نفرت جیت گئی،فنکار ہار گیا،میں ہوگیا،الوداع،ناانصافی”
انسٹاگرام پر اپنے طویل پوسٹ میں منور فاروقی نے لکھا ہے کہ ” مجھے اس مذاق کے لیے جیل میں ڈالا گیا جو میں نے کبھی نہیں کیا، میرے شوز منسوخ کروائے جارہے ہیں جس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔یہ ناانصافی ہے۔
اس شو کو ہندوستان میں لوگوں کی طرف سے ان کے مذہب سے قطع نظر بہت پیار ملا ہے۔یہ ناانصافی ہے۔ہمارے پاس شو کا سنسر سرٹیفکیٹ ہے اور یہ واضح طور پر شو میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ہم نے پنڈال اور سامعین کو لاحق خطرات کی وجہ سے پچھلے دو مہینوں میں 12 شوز بند کر دئیے ہیں”
راہول گاندھی نے کامیڈین منور فاروقی کے اعلان کے بعد اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ” نفرت کی جیت نہیں ہوگی۔یقین رکھیں ہمت نہ ہاریں، رُکنا نہیں ہے”۔
نامور صحافی عارفہ خانم شیروانی نے اس سلسلہ میں اپنے ٹوئٹر،انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس پر لکھا ہے کہ”اکثریتی ٹھگوں کے دباؤ اور دھمکیوں کی وجہ سے 2 ماہ میں MunawarFaruqui# کے 12 شوز منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ان طریقوں کا تصور کریں جن سے وہ اس ایک آدمی کو توڑنے اور اس کے کیریئر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو ہنساتا ہے۔” ایسے ادنیٰ بزدل! شرم کرو!”۔
مشہور اداکار پرکاش نے بھی اس سلسلہ میں اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ "میں ایسے TwoIndias# سے آیا ہوں جہاں کامیڈین بےجگری سے سوال اٹھاتے ہیں اور جوکر بزدلی سے دہشتگردی پھیلانے میں مصروف ہیں Justasking#
اسی طرح ایک اور مشہور صحافی رعنا ایوب نے بھی اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ” نفرت نہیں،بحیثیت قوم ہماری اجتماعی بے حسی”۔
منور فاروقی کون ہیں؟ منور فاروقی گجرات کے گودھرا میں پیدا ہوئے جہاں 2002ء میں 52 کارسیوکوں کو ٹرین میں جلادئیے جانے کے واقعہ کے بعد پھیلنے والے فرقہ وارانہ تشدد میں ان کا بھی گھر تباہ ہوا تھا اس وقت منور فاروقی کی عمر صرف 12 سال تھی اور انہوں نے اپنی ماں کو کھودیا تھا۔
جس کے بعد وہ اپنے والد کے ساتھ بمبئی منتقل ہوگئے۔تعلیم چھوڑکر منور فاروقی نے بستر پر پڑے اپنے بیمار باپ کی مدد کی غرض سے کرانہ شاپ میں ملازمت کی جہاں انہیں 13 گھنٹوں کی محنت کے بعد روزآنہ 60 روپئے ملتے تھے۔
اسی پیسوں سے بچت کرتے ہوئے منور فاروقی نے گرافک ڈیزائننگ سیکھی، ہندی اور انگریزی زبان پر عبور حاصل کرتے ہوئے اسٹیج کامیڈی کی جانب رخ کیا۔جنہیں تین مرتبہ مسترد کردیا گیا تھا۔بالآخر 2020 میں انہیں ممبئی میں موقع مل گیا راتوں رات انہوں نے ایک شو کے ذریعہ کامیابی حاصل کی لیکن اسی دوران وہ اپنے باپ کے سائے سے محروم ہوگئے۔
منور فاروقی این آر سی اور سی اے اے کے خلاف ملک بھر میں کیے گئے احتجاج میں بھی حصہ لیتے ہوئے ایسے بیانرس دکھا کرسرخیوں میں آئے تھے جن پر لکھا تھا کہ”میں گجرات سے ہوں،اور میرے دستاویزات 2002ء میں جل گئے”۔
دوسری جانب ہندو تنظیموں کی جانب سے منور فاروقی پر لگاتار یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے اسٹیج کامیڈی شو میں ہندو دیوی دیوتاوں کا مذاق اڑاکر اس ملک کے ہندؤوں کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں!
اسی مسئلہ پر سوشل میڈیا دو حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے ایک حصہ منور فاروقی کے ساتھ ہے اور ان سے اپیل کررہا ہے کہ وہ اپنا کام جاری رکھیں۔جبکہ دوسرا حصہ ان کے اسٹیج شوز کے خلاف چلائی جارہی مہم اور پولیس کی عدم اجازت کی تائید کررہا ہے!

یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ جاریہ سال یکم جنوری کو مدھیہ پردیش کے اندور میں ایک اسٹیج شو سے قبل منور فاروقی اور ان کے تین ساتھیوں کو وہاں کے ایک بی جے پی لیڈر کے فرزند کی اس شکایت کے بعد پولیس نے گرفتار کرلیا تھا کہ منور فاروقی ” اپنے اسٹیج شو میں ہندو دیوی دیوتاؤں کا مذاق اڑانے والے ہیں”۔
اس الزام کے تحت منور فاروقی کو ایک ماہ جیل میں بھی رکھا گیا تھا۔بعد ازاں پولیس نے کہا تھا کہ اس کے پاس ایسے کوئی ثبوت و شواہد موجود نہیں ہیں۔منور فاروقی کو 35 دنوں کی قید کے بعد ہائی کورٹ نے ضمانت دی تھی۔پھر منور فاروقی کے خلاف اترپردیش میں بھی ایک وکیل کی جانب سے گزشتہ سال ایک کیس درج کروایا گیا کہ انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا مذاق اڑایا ہے اور اپنے کئی ویڈیوس میں انہوں نے ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں۔
یکم نومبر کو این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے منور فاروقی نے کہا تھا کہ” ان کے مواد میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ ان کے شو سے ڈرائیورز،رضاکاروں اور گارڈز سمیت 80 افراد ایک ہی شو سے روزی کماتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میں کبھی کبھی سوچتا تھا کہ شاید میں غلط ہوں لیکن جو کچھ ہوا اس کے بعد میں سمجھ گیا ہوں کہ کچھ لوگ اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں”۔!
گزشتہ ماہ اکتوبر میں بھی این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے منور فاروقی نے کہا تھا کہ انہیں روزآنہ دھمکی پر مشتمل 50 کالس موصول ہوتے ہیں اور انہوں نے اپنے تین موبائل سم کارڈس تبدیل کیے ہیں۔

بہرحال منور فاروقی جن کے یوٹیوب چینل پر 14،70،000 سبسکرائبرس،انسٹاگرام پر 7,18,000 فالوورس،فیس بک پر 10،40،000 فالوورس اور ٹوئٹر 1،16،300 فالوورس موجود ہیں کے اس اعلان کے بعد انہیں انٹرنیشنل اور نیشنل میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی تائید حاصل ہورہی ہے۔وہیں ایک مخصوص گروپ اور ذہنیت کے لوگوں کی جانب سے ان کی مخالفت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ٹوئٹر سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر باقاعدہ ان کو لے کر ٹرینڈ بھی چل رہا ہے۔

