وقارآبادضلع: تانڈور میں فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں کے خلاف نوجوانوں کا شدید احتجاج، پولیس کی مداخلت

وقارآبادضلع کے تانڈور میں فضائی آلودگی اور خراب سڑکوں کے خلاف نوجوانوں کا شدید احتجاج
ایم ایل اے اور ایم ایل سی کے خلاف نعرے،عدم اقدامات پر بڑے پیمانے کا احتجاج کا انتباہ
اندرا چوک اور امبیڈکر چوک پر راستہ روکو احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو پولیس نے تحویل میں لےلیا

وقارآباد؍تانڈور:01۔نومبر (سحرنیوزڈاٹ کام)

وقارآباد ضلع کے تانڈور ٹاؤن میں فضائی آلودگی کی تشویشناک صورت حال اور اس پر انتہائی خراب سڑکوں سے پریشان نوجوانوں کی بڑی تعداد نے آج پارٹی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نعروں اور پلے کارڈس کے ذریعہ شدید احتجاج منظم کیا۔راستہ روکو احتجاج منظم کرنے والے ان احتجاجیوں کو پولیس نے اپنی تحویل میں لے لیا۔

یوتھ کانگریس،این ایس یو آئی، بی جے وائی ایم اور کانگریس سے تعلق رکھنے والے ان نوجوانوں نے تانڈور کے مصروف اندراچوک اور امبیڈکر چوک پر احتجاج منظم کرتے ہوئے Save Tandur کے نعرہ اور پلے کارڈس کے ساتھ رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی اور رکن قانون سازکونسل ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی کے خلاف نعرے لگائے اور مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تانڈور کی خطرناک فضائی آلودگی کو ختم کرنے کے اقدامات کیے جائیں اور انتہائی خراب سڑکوں کی حالت کو فوری درست کیا جائے۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے ان احتجاجی نوجوانوں نے کہا کہ تانڈور میں دن بہ دن بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی اور دن رات تانڈور کی سڑکوں پر اُڑتی ہوئی مٹی اور دھول کے باعث عوام مختلف امراض کا شکار ہورہے ہیں۔اور ضرورت شدید ہے کہ رکن اسمبلی اور رکن قانون ساز کونسل خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے تانڈور کو فضائی آلودگی سے پاک بنانے کے اقدامات یقینی بنائیں۔

ساتھ ہی ان احتجاجی نوجوانوں نے انتباہ دیا کہ فوری طور پر تانڈور کی فضائی آلودگی کے خاتمہ اور سڑکوں کی حالت درست کرنے کے اقدامات نہیں کیے گئے تو عوامی سطح پر تانڈور میں بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کیا جائے گا۔

اس احتجاج اور نوجوانوں کی جانب سے سڑک پر بیٹھ کر راستہ روکو احتجاج کے باعث ٹریفک نظام مفلوج ہوگیا تھا۔پولیس نے مداخلت کرتے ہوئے متعدد احتجاجیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

اس احتجا ج میں ٹی وی وی قائدین پریادا راما کرشنا، جنرل سیکریٹری یوتھ کانگریس کاوالی سنتوش کمار، کانگریسی قائدین ستیہ مورتی دوراشیٹی، بی جے پی قائد تانڈرا نریش،این ایس یو آئی قائدین سندیپ ریڈی،جوگالا ایبن زر،ستیش،رگھو پرساد،سریش اور دنیش کے علاوہ دیگر نے اس احتجاج میں حصہ لیا۔

یہاں یہ تذکرہ غیرضروری نہ ہوگا کہ گزشتہ سات سال سے تانڈور فضائی آلودگی کی شدید لپیٹ میں ہے خطرناک فضائی آلودگی میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔جس کے خلاف صدر سٹیزن ویلفیئرسوسائٹی تانڈور راج گوپال سارڈا کی متعدد شکایتوں کے بعدتلنگانہ اسٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ کی جانب سے تانڈور میں فضائی آلودگی ناپنے والے آلہ کیساتھ 17 ڈسمبر 2015ء کو حیدرآباد روڈ پرلاری پارکنگ کے علاقہ میں 8 گھنٹوں تک آلودگی کو ریکارڈ کیا گیا تھا.۔

جسکے بعد یہ انکشاف ہوا تھا کہ تانڈور میں تمام اقسام کی دھول،مٹی اور دیگر عوامل پرمشتمل فضائی آلودگی کی شرح 622 ملی گرام ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ مرکزی پولیوشن کنٹرول بورڈ کے طئے کردہ قواعد و ضوابط کے تحت کسی بھی شہر کی فضائی آلودگی فی کیوبک میٹر 100 ملی گرام ہونی چاہئے!

بعدازاں راج گوپال سارڈا نے اس فضائی آلودگی کی رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے 2016ء میں ریاستی ہائیکورٹ کی ہدایت پرنیشنل گرین ٹریبیونل پرنسپل بنچ چنئی سے پھر 2018ء میں نیشنل گرین ٹریبیونل پرنسپل بنچ دہلی میں8سرکاری محکمہ جات اور یہاں کی پانچ سمنٹ فیکٹریز کے انتظامیہ کو فریق بناتے ہوئے کیس دائر کیا تھا۔

جہاں تین رکنی بنچ کی تشکیل کے بعد اس ٹریبونل کے معززچیئر مین جسٹس آدرش کمار گوئل، جسٹس ایس پی وانگڑی جوڈیشیل رکن اورڈاکٹر ناگن ننداایکسپرٹ ارکان نے 29؍ا گست 2019ء کو مرکزی اور ریاستی پولیوشن کنٹرول بورڈ کو ہدایت جاری کی تھی کہ اس سلسلہ میں تانڈور میں مؤجودہ فضائی آلودگی کا تناسب اور ماضی میں ریکارڈ کیے گئے تناسب کے بعد آلودگی کے خاتمہ کیلئے کیے گئے اقدامات پرمشتمل رپورٹ دی جائے۔

” تانڈور میں آج فضائی آلودگی کے خلاف کیے گئے احتجاج کا ویڈیو "

بعدازاں 22ستمبر 2019ء کو مرکزی پولیوشن کنٹرول بورڈ اور ریاستی پولیوشن کنٹرول بورڈ کے بنگلورو اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کی ٹیم نے تانڈور کے مختلف مقامات پر آلات نصب کرکے یہاں کی فضائی آلودگی کے تناسب کی پیمائش کی تھی۔تاہم افسوس کہ اس کے باوجود بھی تانڈور کی فضائی آلودگی کو ختم یا پھر کم کرنے کے لیے سرکاری طور پر کوئی اقدامات نہیں کیے جارہے ہیں اور بار بار اعلان کیا جارہا ہے کہ آؤٹر رنگ روڈ کی تکمیل اور پتھر کی صنعتوں کو ناولگا میں قائم کیے جانے والے صنعتی زون میں منتقل کیے جانے کے بعد فضائی آلودگی کم ہوگی!!

اس فضائی آلودگی کے باعث تانڈور میں گزشتہ سات سال کے دؤران امراض قلب، پھیپھڑوں، دمہ، سانس لینے میں تکلیف،جلدی امراض کیساتھ ساتھ گردوں کے امراض اور اموات میں تشویشناک اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

تاہم اسکے باؤجود بھی حکومت،ضلعی انتظامیہ اور خود یہاں کے منتخبہ عوامی نمائندوں کی خاموشی معنی خیز ہے!!

دوسری جانب قابل غور بات یہ ہے کہ ریاستی وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے دو دن قبل ہی دفتر بلدیہ تانڈور کی جدید عمارت کے افتتاح کے بعد منعقدہ تقریب سے اپنے خطاب میں یہ کہتے ہوئے سرکاری طور پر اس بات پر مہر لگادی کہ ” تانڈور میں موجود فضائی آلودگی کے خاتمہ کے لیے تمام عوامی نمائندے سنجیدگی کے ساتھ غور کریں۔انہوں نے کہا کہ پوری ریاست میں سب سے زیادہ فضائی آلودگی تانڈور میں ہی پائی جاتی ہے۔"

وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندرا ریڈی نے کہا کہ ریاستی حکومت گرین بجٹ کے تحت خصوصی فنڈس جاری کررہی ہے اور تانڈور میں بڑے پیمانے پر شجر کاری کے ذریعہ فضائی آلودگی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔

یہاں یہ تذکرہ بھی غیر ضروری نہ ہوگا کہ 2018ء کے اسمبلی انتخابات کے موقع پر تانڈور کی انتخابی مہم کا اہم موضوع یہاں کی فضائی آلودگی بھی تھا!! جس کے خاتمہ کے لیے تانڈور میں ٹاور نصب کیے جانے کا اعلان بھی کیا گیا تھا!!