ڈیلٹا ویرئنٹ کے مقابلہ میں”اومی کرون ویرئنٹ” کا اثر اور خطرہ کم
آفریقن میڈیکل اسوسی ایشن کے سائنسدانوں کی حوصلہ افزاء رپورٹ
نئی دہلی: 28۔نومبر (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
کورونا وائرس کی پہلی اور دوسری لہر کی تباہ کاریوں کے بعد عام زندگی معمول پر لوٹ رہی تھی کہ اب جنوبی آفریقہ سے کورونا وائرس کی دوسری شکل "اومی کرون” نے ساری دنیا کو دوبارہ پریشان کردیا ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ کورونا وائرس حضرت انسان کا جلد پیچھا چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہے!
کورونا وائرس کی پہلی لہر سے زیادہ دوسری لہر نے دنیا بھر میں بہت زیادہ اثر دکھایا تھا اور لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے،سفری پابندیوں اور لاک ڈاؤن کے باعث معیشت تباہ ہوگئی اور عام انسانوں کو بہت زیادہ معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کے اثرات کا آج بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
جنوبی آفریقہ میں سامنے آنے والے اس اومی کرون B.1.1.529 وائرس کے ڈیلٹا وائرئینٹ سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلنے اور اس کے لیے فی الوقت کسی بھی قسم کے ویکسین کے دستیاب نہ ہونے کا ماہرین انتباہ دے رہے ہیں۔
اس انتباہ کے بعد ہندوستان سمیت کئی ممالک میں چوکسی اختیار کرلی گئی ہے۔افریقی ممالک سے آنے والی فلائٹس پر پابندی عائد کردی گئی ہے اور امکان ہے کہ احتیاطی طور پر حکومت کی جانب سے مختلف پابندیاں عائد کی جائیں گی!
ایسے میں آفریقن میڈیکل اسوسی ایشن (AMA) کے سائنسدانوں اور ماہرین طب نے ایک قابل راحت اور حوصلہ بخش انکشاف کیا ہے کہ ” ڈیلٹا وائرئنٹ ” کے مقابلہ میں "اومی کرون وائرئنٹ” کا اثر کم ہوگا اور اس سے اموات کی شرح بھی کم ہوگی۔
اس کے لیے آفریقن میڈیکل اسوسی ایشن کے سائنسداں اور ماہرین طب نے مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ اومی کرون دو ماہ قبل آفریقہ میں دریافت ہوا تھا تاہم اب تک اس سے اموات کم ہوئی ہیں اور اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد بھی کم ہی ہے۔
آفریقن میڈیکل اسوسی ایشن (AMA) کے سائنسدانوں کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ”اومی کرون”حال ہی میں سامنے نہیں آیا ہے بلکہ جنوبی آفریقہ میں دو ماہ قبل اس کی دریافت ہوئی تھی۔
جبکہ دیگر ممالک کے ماہرین کا انتباہ ہے کہ اومی کرون۔ڈیلٹا وائرئنٹ سے سات گنا زائد تیزی سے پھیلتا ہے اور اتنا ہی زیادہ خطرناک بھی ہے اور اس پر ویکسین کا اثر بھی نہ ہونے کا امکان ہے۔
لیکن آفریقن میڈیکل اسوسی ایشن کے سائنسدانوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اومی کرون وائرئنٹ ڈیلٹا وائرئنٹ سے زیادہ خطرناک نہیں ہے اور اس اس سے اموات کی شرح بھی کم ہوگی۔اور اس وائرس سے دو ماہ کے دؤران آفریقہ میں اموات بھی کم ریکارڈ ہوئی ہیں،مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں اور اس سے متاثرہ شخص میں علامات بھی بہت کم نظر آئی ہیں۔
آفریقن میڈیکل اسوسی ایشن کے سائنسدانوں کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق یکم اکتوبر تا 26 نومبر افریقی ممالک میں جملہ 4،200 کورونا کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں جو کہ اسی دؤران یوروپی ممالک میں ریکارڈ شدہ کورونا کیسس سے 86 فیصد کم ہے۔
وہیں افریقی ممالک میں اس دؤران روزآنہ 150 اموات ہوئی ہیں جو کہ یوروپی ممالک کے مقابلہ میں 26 فیصد کم ہے۔اور یہ ڈیلٹا وائرئنٹ کی وجہ سے ہے نا کہ اومی کرون کی وجہ سے!
” کورونا کی نئی قسم اومی کرون کے متعلق تفصیلی رپورٹ اس لنک پر پڑھی جاسکتی ہے "

