حیدرآباد میں ” ریو پارٹی” ، 44 نوجوان اور دو زنخے پولیس تحویل میں
تمام پر ہم جنس پرست ہونے کا شبہ، پولیس تفتیش میں مصروف
حیدرآباد:28۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)
ملک کے چند شہروں کی پراگندہ تہذیب حیدرآبادی تہذیب کو گھن کی طرح کھوکھلا کرتی جارہی ہے۔جہاں حیدرآباد آئی ٹی ہب کے ساتھ دیگر شعبہ جات میں بے مثال ترقی کی سمت تیزی سے گامزن ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی جانب سے نوجوانوں کو پرکشش ملازمتوں کےساتھ بڑی تنخواہیں دی جارہی ہیں چند نوجوانوں کی بے راہ روی میں بھی اضافہ افسوسناک ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ حیدرآبادی تہذیب پوری دنیا میں آج بھی ایک مثال مانی جاتی ہے لیکن یہاں حقہ سنٹرس،مساج سنٹرس،سلون اور بیوٹی پارلرس کی آڑ میں جسم فروشی کا کاروبار،رات دیر گئے شہر کے چاروں جانب موجود بہت سے فارم ہاؤس اور اپارٹمنٹس میں پارٹیوں کا انعقاد،غیر اخلاقی سرگرمیوں کی اطلاعات مایوس کن ہیں جس پر ضرورت ہے کہ حکومت اور پولیس گہری نظر رکھے۔
گزشتہ رات حیدرآباد کے کوکٹ پلی کے ویویکانندا نگر میں پولیس نے ایک اپارٹمنٹ پر دھاوہ منظم کرتے ہوئے ریو پارٹی Rave Party میں مصروف، نشہ میں دھت اور شور شرابے میں مصروف 44 نوجوانوں کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ان کے ساتھ دو زنخوں کو بھی پولیس نے اپنی تحویل میں لیا ہے۔مقامی افراد کی شکایت پر کہ یہ نوجوان اس علاقہ کا ماحول خراب کررہے ہیں پولیس نے دھاوہ منظم کیا۔
اس پارٹی سے پولیس نے شراب کی بوتلیں،حقہ بوتلیں اور کنڈومس بھی ضبط کیے ہیں۔پولیس کی جانب سے جن 44 نوجوانوں کو اس ریو پارٹی سے تحویل میں لیا گیا ہے ان تمام پر شبہ ہے کہ یہ ہم جنس پرست ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ تمام نوجوان مختلف ایپ کے ذریعہ دوستی اور جان پہچان کے بعد اس ریو پارٹی میں جمع ہوئے تھے۔
اطلاع ہے کہ فی کس ایک ہزار روپئے کی فیس ادا کرکے یہ تمام اس پارٹی میں پہنچے تھے۔پولیس نے شناخت کی ہے کہ اس ریو پارٹی میں شریک زیادہ تر نوجوان سافٹ ویئر انجنئیر کے ساتھ ساتھ دیگر پیشہ سے وابستہ ہیں۔مانا جارہا ہے کہ اپنے سرپرستوں کو اطلاع دئیے بغیر یہ تمام اس "گے۔پارٹی” میں شریک ہوئے۔
پولیس نے اس ریو پارٹی منعقد کرنے والے عمران اور دیال کے خلاف ایک کیس درج کرلیا ہے۔اور ان تمام کو اپنی تحویل میں لے کر تفتیش کی غرض سے کوکٹ پلی پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا ہے۔
پولیس کو ابتدائی تفتیش میں پتہ چلاہے کہ یہ تمام نوجوان ہفتہ واری تعطیل کے موقع پر ایسی ریو پارٹیاں منعقد کرتے ہیں۔

