وقارآباد ضلع میں دو دنوں کے دؤران 980 ملی میٹر بارش ریکارڈ،مزید بارش کی پیش قیاسی،سڑکوں کی حالت مزید خراب

وقارآباد ضلع میں دو دنوں کے دؤران 980 ملی میٹر بارش ریکارڈ،مزید بارش کی پیش قیاسی
تانڈور میں 70 ملی میٹر بارش،سڑکوں کی ابتر حالت سے عوام کو دشواریاں

وقارآباد/تانڈور:06۔ستمبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

گزشتہ دس دنوں سے وقارآباد ضلع میں بھی مانسون سرگرم ہے وقفہ وقفہ سے دھواں دھار، ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ضلع میں ان دس دنوں کے دؤران ہونے والی شدید بارش کے باعث 5 ستمبر تک ندیوں کے سیلابی پانی میں بہہ جانے سے دو خواتین،ایک 8 سالہ لڑکا اور تین افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ 

ضلع وقارآباد میں دو دنوں کے دؤران آج 6 ستمبر کی صبح 8 بجے تک جملہ 980 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔کل 5ستمبر کی صبح 8 بجے تک 24 گھنٹوں کے دؤران ضلع وقارآباد میں 663.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی۔

ان میں سب زیادہ 104 ملی میٹر بارش مومن پیٹ میں ریکارڈ ہوئی جبکہ بشیرآباد میں 69.8 ملی میٹر،کلک چیرلہ میں 60.2 ملی میٹر،دوما میں 67 ملی میٹر، تانڈور میں 54.4ملی میٹر،کوڑنگل میں 54.8 ملی میٹر ، پدیمول میں 37.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی تھی۔وہیں آج 6 ستمبر کی صبح 8بجے تک 24 گھنٹوں کے دؤران ضلع میں 317 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے ریڈ الرٹ جاری کرتے ہوئے دو دنوں کے دؤران ریاست کے جن 16 اضلاع میں شدید ترین بارش کی پیش قیاسی کی گئی ہے ان اضلاع میں وقارآباد ضلع بھی شامل ہے۔محکمہ موسمیات نے اس سلسلہ میں ضلع کلکٹران،انتظامیہ اور عوام کو چوکس رہنے کی ہدایت دی ہے۔

ضلع وقارآباد میں موجود کوٹ پلی پراجکٹ،لکھنا پور پراجکٹ،اللہ پور پراجکٹ اور جنٹ پلی پراجکٹ کے تما م ذخائر آب،تالاب اور کنٹے لبریز ہوکر ان سے زائد پانی کے اخراج کا سلسلہ جاری ہے۔ 

تانڈور میں بھی مانسون سرگرم ہے گزشتہ چار دنوں سے یہاں بالخصوص نصف شب کے بعد سے ہونے والی شدید بارش کے باعث پہلے ہی سے ابتر حالت میں موجود سڑکوں کی حالت مزید انتہائی قابل رحم ہوگئی ہے ان خراب سڑکوں کے باعث عوام کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے اور حادثات پیش آرہے ہیں۔

موٹرسیکلیں اور چھوٹی مال بردار گاڑیاں ان شکستہ اور خراب سڑکوں پر اُلٹ رہی ہیں اور ان سڑکوں پر موجود گڑھوں میں پھنس رہی ہیں۔ تانڈور کی کئی کالونیاں اور سڑکیں تالابوں کا منظر پیش کررہی تھیں وہیں نشیبی علاقوں میں موجود پتھر کی صنعتیں،کاروباری ادارے اور کئی مکانات میں پانی داخل ہوگیا۔

گوتاپور کا برقی سب اسٹیشن بارش کے پانی میں گھِرگیا تھا،بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے مانسون سے قبل کوئی اقدامات نہ کیے جانے سے یہ حالات ہر سال پیدا ہوتے ہیں!

یہاں کے عوام کو درپیش ان پریشانیوں کے باؤجود منتخبہ عوامی نمائندوں اور محکمہ آراینڈ بی کے عہدیداروں کی خاموشی پر عوام برہم ہیں۔سڑکوں کی مکمل تعمیر نہ سہی ان پر موجود گڑھوں کو پُر کرکے عوام کو راحت دی جاسکتی ہے!! جبکہ دعوؤں اور اعلانات کے مطابق سڑکوں کی تعمیر اور مرمت کے لیے منظورہ کروڑہا روپئے ایسا لگتا ہے کہ صرف کاغذات تک ہی محدود ہیں!!

دوسری جانب تانڈور میں ہلکی بارش کے آغاز کیساتھ ہی دن اور رات کے اؤقات محکمہ برقی کی جانب سے فوری برقی مسدود کردئیے جانے سے بھی عوام پریشان ہیں۔ ہفتہ کی نصف شب سے دھواں دھار بارش کے آغاز کے ساتھ برقی سربراہی مسدود ہوگئی اور ساری رات بارش کے دؤران شہر اندھیرے میں غرق رہا۔

پھر محکمہ برقی کے اعلان کے مطابق اتوار کی صبح 8 بجے سے ساڑھے چار بجے شام تک تکینیکی مرمت کی غرض سے تانڈور کے تمام بلدی حلقوں کے علاوہ تمام منڈلات میں برقی سربراہی بند رہی۔ اس کے بعد سے رات دیر گئے تک بھی برقی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا۔

آج صبح سے شام تک بھی تانڈور میں برقی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری تھا۔

تانڈور میں گزشتہ دو دنوں کے دؤران 70.8 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے یہاں کی کاگنا ندی میں سیلابی پانی ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔