لوک سبھا اور راجیہ سبھا سے آج اپوزیشن جماعتوں کے 78 ارکان پارلیمان معطل
سیکیورٹی خلاف ورزی کے واقعہ کے بعد سے جملہ 92 ارکان کی معطلی
صدر کانگریس ملکارجن کھرگے، ترنمول کانگریس اور دیگر کا شدید ردعمل
نئی دہلی : 18۔ڈسمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/ایجنسیز)
آج 18 ڈسمبر کو ایک ساتھ اپوزیشن جماعتوں کے جملہ 78 ارکان پالیمنٹ کو جاریہ سیشن کے لیے معطل کردیا گیا۔جن میں دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھاکے ارکان پارلیمان شامل ہیں۔جس کے بعد 15 ڈسمبر سے آج 18 ڈسمبر تک جملہ 92 ارکان پارلیمان معطل کیے گئے ہیں جن میں لوک سبھا کے 33 اور راجیہ سبھا کے 45 ارکان شامل ہیں۔یاد رہےکہ 14 ڈسمبر کو 14 ارکان پارلیمنٹ کومعطل کیا گیاتھا جن میں 13 لوک سبھا کے اور ایک راجیہ سبھا کے رکن شامل ہیں۔
مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان پارلیمان کی معطلی اس وقت عمل میں لائی گئی ہےجب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے 13 دسمبر کو لوک سبھا میں سیکیورٹی کی خلاف ورزی کا واقعہ پیش آیا تھا جب دو افراد ویزیٹرس گیلری سے لوک سبھا میں کود پڑےتھے اور انہوں نےلوک سبھا میں زرد رنگ کا دھواں پھیلادیا تھا پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کے لیے اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ کے مطالبہ اور احتجاج کے درمیان دونوں ایوانوں کو بار بار ملتوی کرنا پڑا تھا۔
لوک سبھا میں پیش آئے اس واقعہ پر لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہاتھاکہ سیکیورٹی کی خلاف ورزی کی اعلیٰ سطحی تحقیقات پہلےہی سے کی جا رہی ہیں اور اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے دی گئیں تجاویز میں سے چند تجاویز کو نافذ کردیا گیاہے جبکہ دیگر پر بھی غور کیا جائے گا۔اسپیکر لوک سبھا نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اس واقعہ پر سیاست کی جا رہی ہے۔اور لوک سبھا کے پوڈیم میں داخل ہو کر نعرے بازی کرنا اور کارروائی میں خلل ڈالنا ایوان کے وقار کے خلاف ہے۔
آج جب دوپہر میں ایوان کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی توپارلیمانی امورکےوزیر پرہلاد جوشی نےاپوزیشن کے 30 اراکین پارلیمنٹ کو بدتمیزی اور سراسر نظر انداز کرنے پرمعطل کرنے کی تحریک پیش کی۔ تین دیگر کانگریس کے ارکان کی معطلی کو استحقاق کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا ہے۔
جن ارکان پارلیمنٹ کو آج پیر کے دن لوک سبھاسیشن کے بقیہ وقت کے لیے معطل کیا گیا ان میں
کلیان بنرجی (ٹی ایم سی)
اے راجہ (ڈی ایم کے)
دیاندھی مارن (ڈی ایم کے)
اپروپا پودر (ٹی ایم سی)
پرسون بنرجی (ٹی ایم سی)
ای ٹی ممحمد بشیر (انڈین یونین مسلم لیگ)
جی سیلوم (ڈی ایم کے)
سی ۔این اننادورائی (ڈی ایم کے)
ادھیر رنجن چودھری (کانگریس)
ٹی ۔سمتی (ڈی ایم کے)
کے۔نواسکانی (انڈین یونین مسلم لیگ)
کے ۔ویراسوامی (ڈی ایم کے)
این کے پریم چندرن (آر ایس پی)
وگتا رائے (ٹی ایم سی)
ستابدی رائے (ٹی ایم سی)
سیت کمار مل (ٹی ایم سی)
کوشیلیندر کمار (جے ڈی یو)
اینٹو انٹونی (کانگریس)
ایس ایس پالانیمانیکم (ڈی ایم کے)
تھروناوکراسر (کانگریس)
پرتیما مونڈل (ٹی ایم سی)
کاکولی گھوش دستیدار (ٹی ایم سی)
کے مرلیدھرن (کانگریس)
سنیل کمار منڈل (ٹی ایم سی)
یس رامالنگم (ڈی ایم کے)
کے سریش (کانگریس)
امر سنگھ (کانگریس)
راج موہن اُنیتھن (کانگریس)
گورو گوگوئی (کانگریس)
ٹی آر بالو (ڈی ایم کے)
شامل ہیں۔ان کے علاوہ، کانگریس کے تین دیگر ممبران پارلیمنٹ کے جے کمار،عبدالخالق اور وجے وسنت کی معطلی کی مدت کا تعین استحقاق کمیٹی کرے گی۔
راجیہ سبھا میں ایوان کے رہنما پیوش گوئل نے اپوزیشن جماعتوں کے 34 ارکان کو بدتمیزی اورمسلسل نعرےلگانے اور اسپییکر کے پوڈیم میں گھسنے سے ایوان کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر معطل کرنے کی تحریک پیش کی۔جس کے بعد ان ارکان کو معطل کر دیا گیا۔
پرمود تیواری (کانگریس)
جے رام رمیش (کانگریس)
امی یاجنک (کانگریس)
نارن بھائی (کانگریس)
سید ناصر حسین (کانگریس)
پھلو دیوی نیتم (کانگریس)
شکتی سنگھ گوہل (کانگریس)کے سی. وینوگوپال (کانگریس)
رجنی پاٹل (کانگریس)رنجیت رنجن (کانگریس)
عمران پرتاپ گڑھی (کانگریس)
رندیپ سنگھ سرجے والا (کانگریس)
سکھیندو شیکھر رائے (ٹی ایم سی)
محمد ندیم الحق (ٹی ایم سی)
عبیر رنجن بسواس (ٹی ایم سی)
شانتنو سین (ٹی ایم سی)
موسم نور (ٹی ایم سی)
پرکاش چک برائیک (ٹی ایم سی)
سمیر الاسلام (ٹی ایم سی)
ایم شانموگم (ڈی ایم کے)
این آر ایلنگو،این وی این کنی موزی اور سومو (ڈی ایم کے)
آر گریراجن (ڈی ایم کے)
منوج کمار جھا (آر جے ڈی)
فیاض احمد (آر جے ڈی)
وی۔سیواداسن ( سی پی آئی ایم )
rام ناتھ ٹھاکر (جے ڈی یو)
انیل پرساد ہیگڑے (جے ڈی یو)
وندنا چوہان (این سی پی)
رام گوپال یادو (ایس پی)
جاوید علی خان (ایس پی)
مہوا ماجی (جے ایم ایم)
جوس کے منی (کیرالہ کانگریس ایم)
اجیت کمار بھویاں (آزاد)
شامل ہیں۔ان کےعلاوہ دیگر 11 ارکان پارلیمنٹ کی معطلی کو گوئل نےاستحقاق کمیٹی کوبھیجا تاکہ ان کی معطلی کی مدت کا تعین کیاجاسکے۔جن میں
جیبی ماتھر ہشام (کانگریس)
ایل ہنومنتھیا (کانگریس)
نیرج ڈانگی (کانگریس)راجمنی پٹیل (کانگریس)
کمار کیتکر (کانگریس)
جی سی چندر شیکر، بنوئے وشوام (سی پی آئی)
سنتوش کمار (جے ڈی یو)
جان برٹاس(سی پی آئی ایم)
ایم محمد عبداللہ (ڈی ایم کے)
اے اے رحیم (سی پی آئی-ایم)
شامل ہیں۔ 14 دسمبر کو ٹی ایم سی کے ڈیرک اوبرائن سمیت جملہ 46 ممبران پارلیمنٹ کو اب تک راجیہ سبھا سے معطل کر دیا گیا ہے۔ ملک کی پارلیمانی تاریخ میں اتنی بڑی تعداد میں دونوں ایوانوں سے اپوزیشن کے اتنی بڑی تعداد میں ارکان پارلیمان کی سیشن کےلیے معطلی کو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی نے نریندر مودی حکومت پر آمرانہ اقدام کا الزام عائد کیا ہے۔
رکن راجیہ سبھا اور صدر کل ہند کانگریس کمیٹی کے ملکارجن کھرگے نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک مطلق العنان مودی حکومت 47 ممبران پارلیمنٹ کومعطل کرکے جمہوری اصولوں کو کوڑے دان میں پھینک رہی ہے۔کھرگے نے لکھاہےکہ اب کم اپوزیشن والی پارلیمنٹ میں مودی حکومت اہم زیر التوا قانون سازی کو بلڈوز کرسکتی ہے،کسی بھی اختلاف رائے کوبغیر کسی بحث کے کچل سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کے مطالبات میں سیکیورٹی کی خلاف ورزی پر امت شاہ کا بیان اور دونوں ایوانوں میں بحث شامل ہے۔
راجیہ سبھا میں معطلی کے بعد کانگریس کے جے رام رمیش نے جوکہ معطل کیے گئے ارکان پارلیمنٹ میں شامل ہیں نے کہا کہ یہ راجیہ سبھا میں خون کی ہولی تھی،جس میں انڈیا پارٹی کے 45 ممبران پارلیمنٹ کو وزیر داخلہ کے بیان کا مطالبہ کرنے پر معطل کیا گیا۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اتفاق سے میں بھی اپنے 19 سال کے پارلیمانی کیرئیر میں پہلی بار اس رول آف آنر میں شامل ہوں، یہ ہندوستان میں جمہوریت کا قتل ہے اور مودی اپنے کام پر ہیں۔
ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی ) نے بھی ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں کہاہے کہ 46 سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ کومعطل کرنے کا اقدام اختلاف رائے کو خاموش کرنے کا ایک ماسٹر اسٹروک تھا اور شاہ اب آسانی اور آرام سے بیان دے سکتے ہیں۔
کانگریس کے رکن پارلیمان رندیپ سنگھ سرجے والانےلوک سبھا اور راجیہ سبھاسےممبران پارلیمنٹ کی معطلی پر آج رات میڈیاسے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ مودی حکومت جمہوری نظام اور آئین پر یقین نہیں رکھتی۔مودی حکومت گھمنڈ میں ڈوبی ہوئی ہے۔حالانکہ وہ تین ریاستوں (مدھیہ پردیش،راجستھان اور چھتیس گڑھ) میں انتخابات جیت چکے ہیں،لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئےکہ کانگریس نے بھی ایک ریاست (تلنگانہ) میں کامیابی حاصل کی ہے۔
جبکہ دوسری ریاست(میزورم) میں ایک غیر بی جے پی،غیر کانگریسی حکومت قائم ہوئی ہے۔اگر وہ اپوزیشن سے آزاد پارلیمنٹ چاہتے ہیں تو انہیں بی جے پی ہیڈکوارٹر کے اندر بات چیت کرنی چاہئے۔رندیپ سنگھ سرجے والا نے کہا کہ ہم عوامی فیصلہ پر سر جھکاتے ہیں مگر عوامی فیصلہ تانا شاہی نہیں ہو سکتا۔انہوں نے استفسار کیا کہ پارلیمنٹ پر حملہ کی برسی پر جس طریقہ سے لوک سبھا میں نوجوان گھس آئے چاہے انہوں نے بیروزگاری اور مہنگائی پر سوال اٹھایا اگرکہیں اس احتجاج کےبجائے یہ دہشت گردانہ حملہ ہوتا تو آج ملک کےسامنے کیا حالات ہوتے؟حکومت اگر پارلیمنٹ کی حفاظت نہیں کرسکتی تو ملک کی حفاظت کیسے کرے گی۔؟
" لوک سبھا میں پیش آئے واقعہ کی ویڈیو اور تفصیلی رپورٹ اس لنک پر ”
پارلیمنٹ کی گیلری سے دو افراد دھواں چھوڑنے والے ڈبوں کے ساتھ کود گئے
Loksabha#
Rajyasabha#
Mps#
Suspended#

