نامعلوم چور 58 فیٹ طویل بریج ہی اٹھاکر لےگئے!امریکہ میں حیرت انگیز چوری، پولیس چوروں کا پتہ لگانے میں مصروف

نامعلوم چور 58 فیٹ طویل بریج ہی اٹھاکر لے گئے!
امریکی ریاست اوہائیو میں حیرت انگیز چوری کا واقعہ
پولیس اور جاسوس چوروں کا پتہ لگانے میں مصروف

اوہائیو/اکرون:17۔ڈسمبر
(سحرنیوزڈیسک/ایجنسیز)

قارئین نے چوری کی مختلف وارداتوں اور چوروں کے مختلف طریقوں کے متعلق سنا، دیکھا یا پڑھا ہوگا۔سونا،چاندی،رقم،گاڑیاں،کمپیوٹر، موبائل فونس اور دیگر اشیا کی چوریاں عام بات ہیں۔چوری کی ان وارداتوں کی تحقیقات کے بعد زیادہ تر معاملات پولیس چوروں کو گرفتار کرکے چوری کی گئیں اشیا برآمد کرتی ہے۔

لیکن امریکہ جیسے سوپر پاور ملک کی ایک ریاست میں نامعلوم چوروں نے کسی کی یاد میں بنایا گیا ایک 58 فیٹ طویل بریج ہی چوری کرلیا۔اس بریج کی چوری مقامی پولیس اور عوام کے لیے حیرت کا باعث بنی ہوئی ہے اور پولیس اس بات کا پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ کس نے راتوں رات اتنے بڑے بریج کا سرقہ کرلیا؟۔اس واقعہ کی تفصیلات میڈیا اور سوشل میڈیا پر زیر گشت ہے۔

امریکی میڈیا اطلاعات کے مطابق برسوں قبل امریکی ریاست اوہائیو کے اسمال اکران ایسٹ اینڈ علاقہ میں”مڈل بیری رن پارک میں”کیویا ہوگا ندی” پر پیدل راہرؤں کے لیے ایک بریج تعمیر کیا گیا تھا۔لیکن چند دنوں قبل گیلے علاقوں کی بحالی کے منصوبے کے تحت پارک سے مکمل 58 فٹ طویل بریج کو ہٹا کر اسے سیبرلنگ اسٹریٹ کے ایک کھیت میں منتقل کیا گیا تھا۔اور اکرون شہر میں 40,000 ڈالر کے صرفہ سے اس بریج کی مرمت اور دوبارہ اسی مقام پرنصب کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔

لیکن 11 نومبر کو مقامی افراد نے پولیس کو اطلاع دی کہ یہ بریج چوری ہو گیا ہے۔اس اطلاع پر جب پولیس نے جائے مقام پر پہنچ کر معائنہ کیا تو کھیت میں ٹرک کے پہیوں کے نشان موجود تھے جس سے پولیس نے اندازہ لگایا کہ چور اس بریج کو ٹرک میں لاد کر لے گئے ہیں۔

اس انوکھی اور حیرت انگیز چوری کی واردات کی تحقیقات کرنے والے پولیس عہدیداروں کا کا کہنا ہے کہ انہیں یقین نہیں ہے کہ چور اس بریج کیا کریں گے کیا؟۔

تحقیقاتی عہدیدار مائیک ملر نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اس بریج کی اشیا سے کوئی مختلف خوبصورت اشیا بنائی جاسکتی ہیں یا پھر اسے انجینئرنگ کے کسی دوسرے پروجیکٹ یا کسی دوسرے بڑے پیمانے کے پروجیکٹ کے لیے استعمال کرسکتے ہیں!تحقیقاتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس بریج کو الگ الگ ٹکڑوں میں کھولا جاسکتا ہے۔کیونکہ وہ ” پولیمر ” سے بنا ہوا اور نٹ بولٹس سے فِٹ کیا ہوا ہے۔

جبکہ اس بریج کی چوری کا پتہ لگانے میں مصروف جاسوسوں کو کہنا ہے کہ اس بریج کی چوری دراصل مرحلہ وار طور پر کی گئی ہے اور اس چوری کا آغاز 3 نومبر سے ہوا جب چوروں نے اس بریج کے ارد گرد صفائی کی اور پھر بریج کے ڈھانچے کو ٹکڑوں میں کھول دیا۔

تحقیقاتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس بریج کی ری سائیکلنگ کرتے ہوئے اسے دوسرے ڈھانچہ میں ڈھالنے کا امکان کم ہے اور ان چوروں نے کسی بڑے مکان کے پارک میں نصب کرنے کے لیے یہ بریج فروخت کردیا ہے یا پھر گاہک کی تلاش میں ہوں گے؟

تحقیقاتی عہدیدار مائیک ملر نے کہا کہ اس بریج کے متعلق جانکاری رکھنے والے مقامی لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہے جو ہمیں اس کی مکمل تفصیلات فراہم کرتے ہوئے پولیس کی مدد کریں۔

اور ساتھ ہی ان لوگوں کو بھی تلاش کیا جارہا ہے جنہوں نے اس مقام سے ہٹاکر بریج کو کھیت میں منتقل کیا تھا۔فی الوقت اکران پولیس اس بریج کے چوروں کی تلاش میں مصروف ہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس بریج کو ٹرک کے ذریعہ منتقل کرنے کے لیے کرین کی ضرورت بھی پڑتی ہے!