الفاظ ہی نہیں بلکہ اپنے کام کے ذریعہ بھی شہریوں کے اعتماد کو یقینی بنانے
50 ویں چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کا عزم
نئی دہلی : 10۔نومبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز )
معزز جسٹس دھننجے وائی۔چندر چوڑ(ڈی وائی چندر چوڑ)نے کل 9 نومبر کو چیف جسٹس آف انڈیا کے جلیل القدر عہدہ کاحلف لے لیا۔راشٹر پتی بھون میں منعقدہ تقریب میں صدر جمہوریہ ہندمحترمہ دروپدی مرمو نےانہیں عہدہ کاحلف دلایا۔اس تقریب میں نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھنکر، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ،وزیر قانون کرن رجیجو،عہدہ سے سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس آف انڈیا ادئے امیش للت( یو یو للت ) کے علاوہ سپریم کورٹ کے معزز ججس اور دیگر معززین نے شرکت کی۔
ازروئے قواعد 11 اکتوبر کو اپنے عہدہ سے 8 نومبر کوسبکدوش ہورہے چیف جسٹس آف انڈیا یو یو للت نےسپریم کورٹ کے سب سے سینئر جج جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کو اپنا جانشین نامزد کیاتھا۔جسٹس یویوللت 8 نومبر کوریٹائرڈ ہوگئے۔جسٹس یویو للت کی معیاد بہت کم رہی۔جنہوں نے 27 اگست 2022ء کو عہدہ سے سبکدوش ہوئے اس وقت کےچیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا کے بعد اس عہدہ کاجائزہ حاصل کیا تھا اور یویو للت 8 نومبر کو اس عہدہ جلیلہ سے سبکدوش ہوگئے۔جن کی معیاد صرف 74 دن ہی رہی۔
نومنتخب معزز چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ دوسال تک چیف جسٹس کے عہدہ پر برقرار رہیں گے۔راشٹرپتی بھون میں حلف برداری کی تقریب کے بعد چیف جسٹس چندرچوڑ سپریم کورٹ پہنچے اور احاطہ میں موجود بابائےقوم مہاتما گاندھی کےمجسمہ کو گلہائے عقیدت پیش کیے۔بعدازاں معز ز چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے اپنی اہلیہ محترمہ کلپنا داس کےساتھ اپنے چیمبر میں قومی پرچم کے سامنے ہاتھ جوڑکر اپنے عہدہ کا جائزہ حاصل کرلیا۔
50 ویں چیف جسٹس آف انڈیا کی حیثیت سے حلف لینے کے بعد معزز جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ ہندوستانی عدلیہ کی سربراہی ایک بہترین موقع اور ذمہ داری ہے۔معزز چیف جسٹس نے کہا کہ عام لوگوں کی خدمت کرنا ان کی ترجیح ہے اور وہ ملک کے تمام شہریوں کے لیے کام کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی ہو یا رجسٹری ہو یا جوڈیشیل اصلاحات میں ہر پہلو سے شہریوں کا خیال رکھوں گا۔عدلیہ پر لوگوں کے اعتماد کو یقینی بنانے سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا کہ” میں نہ صرف الفاظ کے ذریعہ بلکہ اپنے کام کے ذریعہ شہریوں کے اعتماد کو یقینی بناؤں گا۔”
ڈی وائی چندرچوڑ کی بحیثیت چیف جسٹس آف انڈیا ترقی کی منازل طئے کرنا ہندوستانی عدلیہ میں تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔کیونکہ وہ ایک ایسے اکلوتے فرزند ہیں جو اس عہدہ پر خدمات انجام دیں گے،جہاں ان کے والد محترم سابق چیف جسٹس آف انڈیا وائی وی چندر چوڑ اس عہدہ پر فائز رہ چکے ہیں۔یقیناً یہ ملک اور خود ان خاندان کے لیے تاریخی لمحات ہیں۔
معزز چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کے والد محترم جسٹس وائی وی چندرچوڑ 1978ء میں چیف جسٹس آف انڈیا کے عہدہ پر مقرر کیے گئے تھے اور وہ 1985ء میں سبکدوش ہوئے تھے۔جو کہ آج تک کی سب سے طویل مدت یعنی سات سالہ خدمات ہیں۔اب ان کے فرزند چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی مدت کار دو سال کی ہوگی،جو کہ ماضی قریب میں یہ سب سے طویل ہے۔
اپنے دؤر میں ان کے والد محترم وائی وی چندر چوڑ نے سنجے گاندھی کوفلم” قصہ کرسی کا”کے ایک کیس میں جیل بھیج دیاتھا۔یہ فلم محترمہ اندرا گاندھی اور ان کےفرزند سنجے گاندھی کی سیاست پرطنزیہ فلم تھی،جس پراس وقت حکومت ہند نے ایمرجنسی کےدؤران پابندی عائدکردی تھی۔
چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ نےسپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سےاپنے دؤر میں اپنے والد کے دو فیصلوں کو پلٹ دیا۔یہ فیصلے زنا اور رازداری کے حق سے متعلق تھے۔
جسٹس چندر چوڑ 11 نومبر 1959 کو پیدا ہوئے۔ان کی ابتدائی تعلیم بمبئی کے کیتھڈرل اینڈ جون کینن اسکول بمبئی اور سینٹ کولمبا اسکول،دہلی سے ہوئی۔1979ءمیں سینٹ اسٹیفن کالج دہلی سے اکنامکس میں گرائجویشن کی تکمیل کی۔1982ءمیں دہلی یونیورسٹی کے کیمپس لاءسنٹر سےایل ایل بی اور ہارورڈ لا اسکول،امریکہ سے ایل ایل ایم اور ہارورڈ سے ہی 1986ء جوڈیشیل سائنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔
جسٹس چندر چوڑ کو جون 1998ء میں بمبئی ہائی کورٹ نے سینئر وکیل نامزد کیا تھا اور اسی سال انہیں ایڈیشنل سالیسٹر جنرل مقرر کیا گیا تھا۔جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ 29 مارچ 2000ء سے 31 اکتوبر 2013ء تک بمبئی ہائی کورٹ کے جج رہے۔اس کےبعد وہ الہ آباد ہائی کورٹ کےچیف جسٹس مقرر ہوئے۔
13 مئی 2016 کو سپریم کورٹ کے جسٹس کے طور پر ان کی ترقی ہوئی تھی۔جسٹس چندر چوڑ کئی آئینی بنچوں اور سپریم کورٹ کی بنچوں کا حصہ رہے ہیں جنہوں نے تاریخی فیصلے صادرکیے تھے۔جس میں ایودھیااراضی تنازعہ،آئی پی سی کی دفعہ 377 کےتحت ہم جنس پرست تعلقات کومجرم قرار دینا،آدھاراسکیم کی درستگی سے متعلق معاملات،سبری ملامندر کامسئلہ،فوج میں خاتون افسران کو مستقل کمیشن کی منظوری،ہندوستانی بحریہ میں خاتون افسران کومستقل کمیشن دینا جیسے فیصلے شامل ہیں۔
انہوں نے کوویڈ وباء کے دوران ورچوئل(آن لائن) سماعتوں کو متعارف کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے،جو اب ایک مستقل خصوصیت بن چکی ہے۔


