چھتیس گڑھ کی عدالت نے” یو اے پی اے ” کی دفعہ کے تحت 5 سال جیل میں گزارنے والے 121 قبائلیوں کو بری کردیا، جیل سے رہا

چھتیس گڑھ کی عدالت نے ” یو اے پی اے” کی دفعہ کے تحت
پانچ سال جیل میں گزارنے والے 121 قبائلیوں کو بری کردیا،جیل سے رہا

رائے پور: 16۔جولائی (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز )

چھتیس گڑھ کی ایک عدالت نے کل جمعہ کو 2017 کے برکاپال حملے میں ماؤنوازوں کی مبینہ مدد کرنے کے الزام میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے UAPA) کے تحت گرفتار 121 قبائلیوں کوپانچ سال جیل میں رہنے کے بعد ان کے خلاف ثبوت کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے بری کر دیا۔

دنتے واڑہ میں نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی ایک نامزد عدالت نے جمعہ کو ان تمام قبائلیوں کو رہا کرنے کاحکم جاری کیا جس کے بعد پانچ سال سے جیل میں قید ان 121 قبائلیوں کو آج ہفتے کے دن رہا کر دیا گیا۔

24 اپریل 2017 کو سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی 74ویں بٹالین برکاپال گاؤں سے 100 میٹر کے فاصلے پر ماؤنوازوں کی شدید فائرنگ کی زد میں آئی تھی جس میں ایک انسپکٹر رینک کے عہدیدار سمیت 25 جوان ہلاک ہوگئے تھے۔

اس حملے کے بعد چھتیس گڑھ پولیس نے چنتا گفا تھانے میں ایک کیس درج کیا اور 6 مواضعات برکاپال، گونڈاپلی، چنتا گفا، تلمیٹلا، کوریگنڈم اور ٹونگوڈا کے جملہ 120 قبائلیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔بعدازاں ایک خاتون کو بھی ملزم کے طور پر شامل کیا گیا تھا جس کے بعد گرفتار شدہ افراد کی جملہ تعداد 121 ہوگئی تھی۔

ان تمام کے خلاف ایف آئی آر میں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 147، 148، 149، 120 (بی)، 307، 302، 396، 397 اور آرمز ایکٹ کی دفعات 25، 27 اور دھماکہ خیز مواد ایکٹ کی دفعات 3 اور 5 چارج شیٹ میں چھتیس گڑھ وشیش جن سورکھشا ادھینائم (CVJSA) اور UAPA کو بھی شامل کیا گیا تھا۔چارسال کےبعد بالآخر اگست 2021 میں دنتے واڑہ کی این آئی اے عدالت میں اس مقدمہ کی سماعت کاآغاز ہوا تھا۔

پولیس کی تفتیش پر سوال اٹھاتے ہوئے عدالت نے کہاکہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا کہ گرفتاری کےوقت ملزموں کے پاس سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا تھا اور وہ گھات کی جگہ پر موجود تھے۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ استغاثہ کے ذریعہ ریکارڈ کیاگیا کوئی ثبوت یا بیان یہ ثابت نہیں کرسکا کہ ملزمان نکسل ونگ کے رکن تھے اور جرم میں ملوث تھے۔

پولیس کی جانب سے ضبط کیا گیا کوئی اسلحہ یا گولہ بارود ملزمان سے برآمد نہیں ہوا۔ملزموں کے وکیل بیچم پونڈی نے کہا کہ جملہ 25 استغاثہ کے گواہوں کا جائزہ لیا گیا اور 15 جولائی 2022 کو تمام ملزمان کو بری کرتے ہوئے عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ سنایا گیا۔