مدھیہ پردیش میں گائے کے ذبیحہ کے شبہ میں 2 افراد کی موب لنچنگ
پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے والے 12 غنڈےگرفتار
تین کا تعلق بجرنگ دل سے اور 9 کا تعلق رام سینا سے،دیگر مفرور
بھوپال:04۔اپریل(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ملک میں چند سال سے گائے کے نام پر،بچے چوری کے نام پر،لؤجہاد کے نام پر،ٹرینوں اور بسوں میں ایک مخصوص طبقہ کے نوجوانوں کی موب لنچنگ کے واقعات عام ہوگئے تھے۔بعض غیر جانبدار کرائم ریکارڈ جمع کرنے والی ایجنسیوں اور چند میڈیا کی جانب سےگزشتہ سال کے اواخر میں انکشاف کیا گیا تھا کہ سات سال کے دؤران ملک میں زائد از 150 موب لنچنگ کے واقعات ہوئے ہیں۔
تاہم امور داخلہ کے وزیرمملکت نتیا نندرائے نے 16 ڈسمبر 2021 کو راجیہ سبھا میں پوچھے گئے سوال پر کہا تھا کہ"نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے ذریعہ چوکس گروہوں،ہجوم یا ہجوم کے ذریعہ ہلاک یا زخمی ہونے والے لوگوں کے بارے میں کوئی الگ ریکارڈ موجود نہیں رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ حکومت نے آڈیو وژول میڈیا کے ذریعہ ہجومی تشدد کے خطرے کوروکنے کے لیے عوامی بیداری پیدا کی ہے۔
ریاست مدھیہ پردیش کے سیونی ضلع کے کُرائی پولیس اسٹیشن کے حدود میں موجود موضع سماریہ میں گائے کو ذبح کرنے کے شبہ میں منگل کی صبح دو قبائلی افراد سمپت بٹی 60 سالہ اور دھن شن نامی 54 سالہ افراد کو ایک ہجوم نے حملہ کرتے ہوئے پٹائی کی اور اس ہجومی تشدد میں ان دونوں کی موت واقع ہوگئی۔بتایا گیاہے کہ اس موب لنچنگ میں ایک اور نوجوان شدید زخمی ہوگیا ہے۔
پولیس نے ان دو قبائلی افراد کی موت کے سلسلہ میں 12 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔جن پر مبینہ طور پر مدھیہ پردیش کے سیونی ضلع میں گائے کو ذبح کرنے کے شبہ میں لوگوں کے ایک گروپ کے ذریعہ حملہ کرنے کا الزام ہے۔پولیس نے گرفتارشدگان کا تعلق”بجرنگ دل”اور "رام سینا”سے بتایاہے!۔
تاہم مقامی رکن پارلیمان اور مرکزی وزیر فگن سنگھ کلستے نے کہاہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ آیا ملزمین کاتعلق کسی تنظیم سے ہے؟۔مرکزی وزیر فگن سنگھ نےمنگل کی رات سیونی میں نامہ نگاروں کوبتایا کہ تنازعہ(گائے کے)گوشت کولےکر شروع ہوا اور ابھی یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اس واقعہ میں کوئی تنظیم ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا چاہے ان کا کسی سے بھی تعلق ہو۔
موب لنچنگ میں زخمی برجیش بٹی کی شکایت کے بعد درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق 15-20 لوگوں کے ایک گروپ نے منگل کی صبح 2.30 اور 3 بجے کے درمیان مبینہ طور پر ساگر گاؤں کے رہنے والےسمپت لال بٹی اور سماریہ کے رہنے والے دھن شن انوتی پر گائے ذبح کرنے کا الزام لگاتے ہوئے لاٹھیوں سے مارا گیا اور برجیش بٹی جب وہاں پہنچے تو ان پر بھی حملہ کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتال منتقلی کے بعد 6 بجے صبح سمپت بٹی اور دھن شن کی موت واقع ہوگئی۔
پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے پریس نوٹ کے مطابق موب لنچنگ کے اس واقعہ کے سلسلہ میں پولیس نے شیر سنگھ راٹھور28 سالہ،اجئے ساہو27 سالہ،ویدانت چوہان 18 سالہ،دیپک اودھیا38سالہ،بسنت رگھوونشی 32 سالہ اور راگھونندن رگھوونشی 20 سالہ کو گرفتار کیا ہے جن کے نام ایف آئی آر میں درج ہیں۔
جبکہ مزید تین مشتبہ نوجوانوں انشول چورسیا 22سالہ، شیوراج رگھوونشی23سالہ اور رنکوپال 30سالہ کو بھی گرفتار کیا گیا۔
انچارج پولیس اسٹیشن کُرئی نے تصدیق کی ہے کہ اب تک 12 افراد گرفتار کرلیے گئے ہیں۔ان میں 3 کا تعلق بجرنگ دل سے اور 6 کا تعلق رام سینا سے ہے۔اور ان کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی دفعات 147،148،149،302،323،325 اور ایس سی،ایس ٹی ایکٹ کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔
موب لنچنگ میں ہلاک والے دونوں قبائیلی افراد کی ہلاکت کے بعد قبائیلیوں نے نعشوں کے ساتھ احتجاج منظم کرتے ہوئے”تمام ملزمین کے گھروں کو بلڈوزروں کے ذریعہ مسمار کرنے اور دائیں بازو کے غنڈوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پولیس نے بتایا کہ اس واقعہ میں ملوث دیگر افراد کی تلاش جاری ہے۔دوسری جانب ضلعی انتظامیہ نے ایک سرکاری ریلیز میں کہا ہے کہ دونوں مہلوکین کے ورثا کے لیے 8 لاکھ 25 ہزار روپئے ایکس گریشیا منظوری کی گئی ہے۔اور دونوں مہلوکین کی بیٹیوں کو عارضی ملازمت فراہم کی گئی ہے۔

