مِرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے

غزل 
افتخار عارف

مِرے  خدا   مجھے   اِتنا   تو   معتبر    کر  دے
میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

٭٭
یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دن
جو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے
٭٭
میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت
جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے
٭٭
ستارۂ سحری ڈوبنے کو آیا ہے
ذرا کوئی مِرے سورج کو با خبر کر دے
٭٭
قبیلہ وار کمانیں کڑکنے والی ہیں
مرے لہو کی گواہی مجھے نڈر کر دے
٭٭
میں اپنے خواب سے کٹ کر جیوں تو میرا خدا
اجاڑ دے مِری ی مٹی کو در بدر کر دے
٭٭
مِری زمین مرا آخری حوالہ ہے
سو میں رہوں نہ رہوں اس کو بارور کر دے