وقارآباد ضلع: قدیم تانڈورکے ریلوے گیٹ پر کب تعمیر ہوگا روڈ اوؤر بریج؟ رقمی منظوری اور سنگ بنیاد کو پانچ سال گزرگئے !!

وقارآبادضلع: قدیم تانڈور کے ریلوے گیٹ پر کب تعمیر ہوگا روڈ اوؤر بریج؟
رقمی منظوری اور سنگ بنیاد کو پانچ سال گزرگئے !!
ریاستی حکومت کی جانب سے دیگر چار اضلاع میں روڈ اوؤر بریج کی تعمیر کو منظوری

وقارآباد/تانڈور:22۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام )

وقارآباد ضلع کے حلقہ اسمبلی تانڈور کے قدیم تانڈور ریلوے گیٹ پر برسوں سے روڈ اوؤر بریج یا روڈ انڈر بریج کی تعمیر کاعوامی مطالبہ، حکومت اور مقامی منتخبہ عوامی نمائندوں کی جانب سے برسوں سے کئے جارہے وعدے اور اعلانات ایک بار پھر سرد بستے میں ڈال دئیے گئے ہیں!!

حکومت تلنگانہ نے کل چار اضلاع میں چار روڈ اوور بریج (آراوبی) کی تعمیرکو منظوری دے دی ہے جس کے لیے 404.82 کروڑ روپئے صرف ہونگے۔ان چاروں روڈ اووربریج کی تعمیر کے لئے ریاستی حکومت 250.02 کروڑروپئے ادا کرے گی جبکہ محکمہ ریلوے کی جانب سے 154.80کروڑ روپئے ادا کئے جائیں گے۔ان چاروں روڈ اوؤربریجس کی تعمیر ریاستی محکمہ آر اینڈ بی کی جانب سے کی جائے۔

وزیر آر اینڈ بی تلنگانہ ویمولہ پرشانت ریڈی کے مطابق نظام آباد کے مادھو نگر میں روڈ اوور بریج کی تعمیر پر 93.12 کروڑ روپئے،عادل آباد یارڈ میں روڈ اوؤر بریج کی تعمیرکے لیے 97.20 کروڑ روپئے،پیدا پلی کے لیے 119.50 کروڑ اور شاد نگر کے چٹان پلی میں روڈ اوور بریج کی تعمیر کے لیے 95 کروڑ خرچ کئے جائیں گے۔ 

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ سال 2015-16ء کے لیے پیش کیے گئے بی جے پی حکومت کے اولین ریلوے بجٹ میں اس وقت کے وزیر ریلوے سریش پربھو کی جانب سے فلائی اوؤر اور انڈر بریجس کی تعمیر کیلئے فنڈ س کی اجرائی کا اعلان کیا گیا تھا۔جسکے بعد 9 مارچ 2016ء میں مرکزی وزارت ریلوے نے قدیم تانڈور کے ریلوے گیٹ پر فلائی اوؤر بریج کی تعمیر کو ہری جھنڈی دکھا دی تھی۔

اس سلسلہ میں اس وقت کے انجینئراِن چیف ( آراینڈ بی ) حکومت تلنگانہ کے دفتر سے جاری کردہ ایک میمو میں اعلان کیا گیا تھا کہ قدیم تانڈور کے ریلوے گیٹ پر فلائی اوؤر بریج کی تعمیر کیلئے مرکزی وزارت ریلوے کی جانب سے 20 کروڑ 42 لاکھ روپئے اور پھر ریاستی حکومت کی جانب سے اس کا حصہ 31 کروڑ 33 لاکھ روپئے جاری کیے جائیں گے۔اس طرح 51 کروڑ 75 لاکھ روپئے کے صرفہ سے قدیم تانڈور کے ریلوے گیٹ پر فلائی اوؤر بریج کی تعمیر کا اعلان ہواتھا۔

پھر 5 فروری 2017ء کو اس وقت کے ریاستی وزیر آر اینڈ بی تملا۔ناگیشورراؤ اور وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی نے قدیم تانڈور کے ریلوے گیٹ پر فلائی اوؤر بریج کی تعمیر کے لیے باقاعدہ سنگ بنیاد بھی رکھا تھا۔

بعدازاں اس وقت کے وزیر ٹرانسپورٹ و سابق رکن اسمبلی تانڈور ڈاکٹر پی۔مہندر ریڈی نے 25 جولائی 2018ء کو اس وقت کے وزیر ریلوے پیوش کمار سے نئی دہلی میں خصوصی ملاقات کرتے ہوئے نمائندگی کی تھی کہ قدیم تانڈور کے ریلوے گیٹ پر منظورہ فلائی اوؤر بریج کے تعمیری کاموں کا جلد آغاز کیا جائے۔اس کے بعد اطلاع دی گئی تھی کہ انڈر گراؤنڈ بریج کی تعمیر کے لیے مرکزی حکومت کی جانب سے 64 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ہیں۔

بعد ازاں 27 اگست 2018 کو قدیم تانڈور کے ریلوے گیٹ کے قریب سے مٹی کے نمونے بھی جانچ کی غرض سے لے جائے گئے تھے وہ دن اور آج کا دن! رقم کی منظوری اور سنگ بنیاد کے پانچ سال بعد بھی سنگ بنیاد کا پتھر آج بھی وہیں کھڑا ہے!!

قدیم تانڈور کے عوام کے لیے یہ ریلوے گیٹ برسوں سے وبال جان بنا ہوا ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہیکہ کوویڈ وبا سے قبل روزآنہ 100 سے زائد مسافر اور ریل گاڑیاں براہ تانڈور گزرتی تھیں اب وبا کے باعث مسافر ٹرینوں میں کمی پیش آئی ہے جبکہ مال گاڑیوں کا گزر جاری ہے۔اس دؤران ہر گھنٹہ،نصف گھنٹہ کے دؤران اس ریلوے گیٹ کو بند کرنا لازمی ہوجاتاہے۔جب کبھی یہ ریلوے گیٹ بند ہوتا ہے تو قدیم تانڈور کے عوام مکمل طور پرمحصور ہوکر رہ جاتے ہیں۔

اس ریلوے گیٹ سے عوام کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ اتوار کو اس بند ریلوے گیٹ سے گزار کر ایک جنازہ قدیم تانڈور کے قبرستان تک لے جایا گیا۔

جبکہ بارہا مرتبہ قدیم تانڈور کے اس ریلوے گیٹ پر ایسے نظارے دیکھے جاتے ہیں کہ 108ایمبولنس مریضوں کو لادے ہوئے بے بس کھڑی ہو جاتی ہے اور اس کے قدیم تانڈور میں داخل ہونے اور پھر مریض کو لیکر واپس ہونے کے دوران ایسے نظارے عام ہیں۔خود سابق وزیر ٹرانسپورٹ اور موجودہ رکن اسمبلی تانڈور کا قافلہ بند ریلوے گیٹ پر کھڑا ہوا دیکھا گیا۔

دوسری طرف رات کے اوقات حاملہ خواتین اور دیگر مریضوں کو ہسپتالوں تک منتقل کرنے کے لیے بھی ایسے ہی حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔

اسی ریلوے گیٹ سے گزر کر قدیم تانڈور کے سینکڑوں طلباء و طالبات روزآنہ جدید تانڈور میں موجود کالجس اور خانگی اسکولس تک پہنچتے ہیں۔جبکہ جدید تانڈور سے سینکڑوں مسلم طالبات جان کو جوکھم میں ڈال کر اسی ریلوے گیٹ سے ہوکر قدیم تانڈور میں موجود اردو میڈیم گورنمنٹ گرلز اسکول تک پہنچتی ہیں۔بند ریلوے گیٹ عبور کرتے وقت ذرا سی بھی بھول جان کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔

جبکہ خرید وفروخت، کاروبار، ملازمتوں اور دیگر کاموں کیلئے قدیم تانڈور سے روزآنہ بڑی تعداد میں لوگ جدید تانڈور آیا اور جایا کرتے ہیں کیونکہ تمام کاروباری ادارے،سرکاری اور خانگی ہسپتال،میڈیکل ہالس جدید تانڈور میں ہی موجود ہیں۔

 

قدیم تانڈور جہاں 6 بلدی حلقے موجود ہیں وہاں ایک ہیلتھ سنٹر تک موجود نہیں ہے! قدیم تانڈور کے اس ریلوے گیٹ اس کے قریب ایک شکستہ اور تنگ انڈر بریج تو موجود ہے لیکن وہ صرف موٹرسیکلوں اور آٹورکشا کے استعمال میں ہی آسکتا ہے۔ہنگامی حالات میں قدیم تانڈور کے مکینوں کو تانڈور میں موجود ہسپتالوں تک پہنچنے کے لیے براہ گرین سٹی،کوڑنگل روڈ اور ریلوے فلائی اوور کا طویل فاصلہ طئے کرنا پڑتا ہے۔

قدیم تانڈور کے عوام کا مطالبہ ہے کہ ریاستی وزیرتعلیم پی۔سبیتا اندراریڈی جن کا ضلع اور تانڈور سے تعلق ہے،رکن پارلیمان چیوڑلہ ڈاکٹر جی۔رنجیت ریڈی،رکن قانون ساز کونسل متحدہ ضلع رنگاریڈی و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر  پی۔مہندر ریڈی اور رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی اس سلسلہ میں حکومت سے موثر نمائندگی کرتے ہوئے پانچ سال قبل منظورہ فلائی اوؤر یا انڈر بریج کے تعمیری کاموں کے آغاز کو یقینی بنائیں۔