وقارآباد ضلع کے لیے ریڈ الرٹ جاری، تین دن تک انتہائی شدید ترین بارش کی پیش قیاسی
ضلع کے تمام تعلیمی اداروں کو تعطیل، ضلع کلکٹر کا جائزہ اجلاس، عہدیداروں کو چوکس رہنے کی ہدایت
حیدرآباد/ وقارآبا د : 13۔اگست (سحرنیوزڈاٹ کام)
خلیج بنگال میں ہوا کے دباؤ میں کمی کے باعث ریاست تلنگانہ گذشتہ ایک ہفتہ سے وقفہ وقفہ سے شدیدبارش کی لپیٹ میں ہے۔عام زندگی درہم برہم ہوگئی ہے، ریاست کے تمام بڑے اور چھوٹے ذخائر آب لبریز ہوگئے ہیں اور ان سے زائد پانی کا اخراج جاری ہے۔
محکمہ موسمیات کی جانب سے ریاست تلنگانہ کے جن اضلاع میں آئندہ تین دنوں تک انتہائی شدید ترین بارش کی پیش قیاسی کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کیا گیا ہے ان میں وقارآباد ضلع بھی شامل ہے۔
وقارآباد ضلع کےلیے انتہائی شدید ترین بارش کی پیش قیاسی کرتے ہوئے ریڈ الرٹ جاری کیے جانے کے بعد ڈی ای او وقارآباد ضلع رینوکا دیوی نے آج شام جاری کردہ اپنے پریس نوٹ میں کہا ہیکہ ضلع میں شدید بارش کی پیش قیاسی کے پیش نظر ضلع میں موجود تمام سرکاری، امدادی اورخانگی تعلیمی اداروں کوکل 14 ا گست بروز جمعرات اور 15 اگست بروز جمعہ کو تعطیل رہے گی۔ تاہم ان دو دنوں کے دوران اساتذہ اور اسٹاف کو حاضر رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ڈی ای او نے15 اگست کو ان تعلیمی اداروں میں یوم آزادی تقاریب کو حسب معمول جوش وخروش سے منانے کی ایم ای اوز اور اساتذہ کوہدایت دی ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی کے بعد آج 13 اگست کو ضلع کلکٹر پرتیک جین نے دفتر کلکٹریٹ وقارآباد کے کانفرنس ہال میں تمام متعلقہ محکمہ جات کے ضلعی عہدیداروں کیساتھ ایک اجلاس منعقد کیا کہ شدید بارش کے دوران کیا کیا اقدامات کیے جائیں۔
ضلع کلکٹر پرتیک جین نے اس اجلاس میں ہدایت دی کہ تمام محکمہ جات اور ساتھ ہی عوام بھی چوکس رہیں۔ضلع کلکٹر نے عوام کو مشورہ دیا کہ چونکہ آئندہ تین دن تک تعطیلات ہیں اس لیے کوئی بھی سیاح اننت گیری ہلز نہ آئیں جہاں احتیاطی طور پر ٹریکنگ بند رہے گی۔انہوں نے کہا کہ تمام عہدیدار اور ملازمین ہیڈ کوارٹر پر ہی موجود رہیں اور اس سلسلہ میں کسی کو بھی رخصت نہیں دی جائے گی۔
اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع کلکٹر پرتیک جین نے کہا کہ چونکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے ریڈ الرٹ کا اعلان کیا گیا ہے اس لیے ضلع میں عوا م انتہائی ضروری کام ہوں تو ہی اپنے مکانات سے باہر نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے میونسپل کمشنرز اور ایم پی ڈی اوز اپنے فیلڈ آفیسرز اور عملہ کو اپنی ایکشن ٹیموں کے حوالے سے چوکس رکھیں اور 24 گھنٹے خدمات انجام دینے کے لیے کنٹرول روم قائم کریں۔
ضلع کلکٹر نے ہدایت دی کہ برقی، ریونیو، پولیس، آر اینڈ بی، پنچایت راج اور آبپاشی محکمہ کے عہدیداران آپس میں تال میل قائم رکھیں، بارش سے متاثر ہونے والے علاقوں کی نشاندہی کریں اوربالخصوص اس بات کو یقینی بنائیں کہ شدیدبارش کی وجہ سے ضلع میں کوئی جانی (انسانی؍جانور) نقصان نہ ہو۔اسکولوں اور ہاسٹلوں کے ساتھ ساتھ خستہ حال عمارتوں کی نشاندہی کرکے انہیں خالی کر وایا جائے اور قدیم اور شکستہ عمارتوں میں موجود عام شہریوں کو بھی محفوظ عمارتوں میں منتقل کیا جائے۔
ضلع کلکٹر پرتیک جین نے کہا کہ اگر ضلع میں شدید بارش (15 سینٹی میٹر) ہو تو بھی اس کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں، بلدیات اور منڈلات میں مہم کے ذریعہ عوام میں بیداری پیدا کی جائے ساتھ ہی فنکشن ہالوں کوبھی تیار رکھا جائے۔انہوں نے کہاکہ تالابوں اور پراجیکٹس کامعائنہ کیاجائے اورہلکے شگاف کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کی فوری مرمت کی جائے۔ساتھ ہی محکمہ برقی کےعہدیداروں اور ملازمین کو ہمیشہ چوکس رکھا جائے ۔ضلع کلکٹر نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ضلع میں تیراکوں اور ماہی گیروں کو ہمہ وقت دستیاب رکھیں۔

ضلع ایس پی کے۔نارائن ریڈی آئی پی ایس نے اس اجلاس میں کہا کہ تمام عہدیداران اور ملازمین ہمہ وقت دستیاب رہیں اور تمام محکموں کے ساتھ تال میل کے ساتھ کام کریں تاکہ ضلع میں شدیداورموسلادھار بارش کی وجہ سے کسی جانی یا مالی نقصان کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر موجود پلوں اور ذخائر آب کے قریب رکاوٹیں کھڑی کی جائیں گی،پولیس عملہ کو بھی وہاں متعین کیا جائےگا جو سیلابی پانی سے لبریز ہوکر پلوں اور نالوں پر سے گزرنے والے پانی میں سے کسی کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
ضلع ایس پی نے کہا کہ عوام 72؍ گھنٹے چوکس رہیں اور جہاں بھی کوئی مسئلہ ہو تو وہاں دو ٹیمیں رسیوں کیساتھ فوری پہنچ جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ایس ڈی آر ایف اور این ڈی آر ایف کی ٹیموں کے ساتھ تال میل کیا جائے گا۔سیلاب اور حادثات کی صورت میں ہنگامی صورتحال میں دفتر کلکٹریٹ وقارآباد میں قائم کردہ کنٹرول روم کے نمبرات 7995061192، 08416235291 پر اطلاع دی جائے۔
ضلع کلکٹر پرتیک جین نے کہا کہ یہ کنٹرول روم 24؍ گھنٹے کام کرے گا۔اس اجلاس میں ایڈیشنل کلکٹران لنگیا نائیک،سدھیر،سب کلکٹر تانڈور اوما شنکر پرساد، اسسٹنٹ کلکٹر ہرش چودھری، آر ڈی او وقارآباد واسو چندرا کے علاوہ ضلعی عہدیداران اور دیگر شریک تھے۔
یہ بھی پڑھیں

