چہروں پرمسکراہٹیں بکھیرنے والے مشہور مزاحیہ اداکار عمرشریف نہیں رہے

کراچی: 02۔اکتوبر (سحرنیوزڈاٹ کام؍ایجنسیز)
برصغیر کے مشہور مزاحیہ اداکار و رائٹر عمر شریف کا آج انتقال ہوگیا۔
مقامی میڈیا اطلاعات کے مطابق 66 سالہ عمر شریف جرمنی میں انتقال کرگئے جنہیں علاج کی غرض سے امریکہ منتقل کیا جارہا تھا۔
اپنی منفرد اداکاری، اعلیٰ اور معیاری مزاح ، برجستہ مکالموں کے ذریعہ تین نسلوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے عمرشریف دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اپنے مداحوں کو غم زدہ کرگئے۔
ان کی موت کی اطلاع کے فوری بعد ان کے مداح اور ساتھی ٹوئٹر اور سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس کے ذریعہ اظہار تعزیت کررہے ہیں۔
کل ہی میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ دل کے عارضے میں مبتلا معروف مزاحیہ اداکار عمر شریف کو آپریشن کے لیے امریکہ لے جایا جارہا تھا تاہم اس وقت نمونیہ کے مرض میں مبتلا ہونے کے باعث انہیں جرمنی کے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
اسٹیج سے اداکاری کا آغاز کرنے والے معروف کامیڈین اور میزبان عمر شریف دل کی ہائی رسک سرجری کے لیے ایئر ایمبولینس کے ذریعہ پاکستان سے 28 ستمبر کو جرمنی منتقل کیے گئے تھے جہاں سے انہیں امریکہ کے لیے سفر کرنا تھا۔
عمر شریف جرمنی پہنچنے پر بخار، ہلکے نمونیہ اور نقاہت کا شکار ہوگئے تھے جس پر انہیں نیورمبرگ کے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ تاحال زیر علاج تھے اور طبیعت کی بحالی کے بعد ہی امریکہ کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔
امریکہ میں عمرشریف کے دل کے آپریشن کے لیے 8 ماہرین امراض قلب کی ٹیم تشکیل دی گئی تھی جس میں ڈاکٹر سید طارق شہاب بھی شامل ہیں جو معروف پاکستانی اداکارہ ریما کے شوہر ہیں ریما اور ان کے شوہر نے عمر شریف کے علاج کے لیے خصوصی دلچسپی ظاہر کی تھی۔
گزشتہ تین دہوں سے ساری دنیا بالخصوص برصغیر میں پھیلے ہوئے اپنے کروڑہا مداحوں اور اردو شائقین کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے اور انہیں قہقہوں کے ذریعہ اپنے مسائل اور دکھوں کو کچھ دیر کے لیے بھلادینے پر مجبور کرنے والے عمر شریف 19 اپریل 1955ء کو لیاقت آباد کراچی میں پیدا ہوئے تھے جن کا نام محمدعمر تھا تاہم انہوں نے اپنے نام کو عمر شریف میں بدل لیا۔
عمر شریف نے اپنے کیرئیر کا آغاز 1974ء میں 14 سال کی عمر میں اسٹیج اداکاری سے کیا تھا۔1980ء میں پہلی بار انہوں نے آڈیو کیسٹ کے ذریعہ اپنے ڈرامے پیش کیے اور مقبولیت حاصل کی۔
عمر شریف بعد ازاں ویڈیو کیسٹس VCD کے ذریعہ اپنے کئی مشہور ڈراموں کے ذریعہ بے پناہ مقبولیت کی سیڑھیاں چڑھتے گئے وہ پاکستان کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور جہاں کہیں اردو بولنے والے موجود ہیں وہاں بھی کافی مقبول تھے۔
عمرشریف کو سب سے زیادہ شہرت ان کے اسٹیج ڈرامے ” بکرا قسطوں پر ” سے 1989 میں حاصل ہوئی تھی جس کی چار قسطیں آئیں۔
” عمر شریف کے ڈرامہ بکرا قسطوں پر کا یہ آداب والا منظر بہت مشہور ہوا تھا جسے آج بھی سوشل میڈیا پر دیکھا جاتا ہے ۔(ویڈیو تین منٹ) "
پھر اس کے بعد ” بڈھا گھر پہ ہے ” کو بھی وہی مقبولیت حاصل ہوئی۔
اس وقت وی سی آر / وی سی پی ، VCP اور VCR کا دؤر تھا اور ہر گھر میں بکرا قسطوں پر دیکھ کر لوگ لوٹ پوٹ ہوجاتے تھے کہا جاتا تھا کہ عمر شریف کے ڈرامے دیکھنے والے بناء قہقہے لگائے نہیں رہ سکتے۔
عمر شریف نے 55 سے زائد اسٹیج ڈرامے کئے تھے۔جبکہ پانچ فلموں حساب، کندن، مسٹر420، خاندان اور لاٹ صاحب میں اداکاری کی تھی۔
عمر شریف اور معین اختر دنیا بھر میں طنز و مزاح ، شائستہ اور معیاری مزاح کے دو اہم ستون مانے جاتے تھے جنہوں نے کئی ایک ڈراموں میں ایک ساتھ کام کیا تھا۔

عمر شریف نے بحیثیت مزاحیہ اسٹیج اداکار کے ساتھ ساتھ اداکار،ہدایت کار،فلم پروڈیوسر، سماجی جہدکار اپنی شناخت قائم کی تھی۔جنہیں بطور ہدایت کار فلم مسٹر 420 کے لیے 1992ء میں پاکستان کا نیشنل ایوارڈ حاصل ہوا تھا۔
جبکہ عمر شریف نے پاکستان کے سب سے بڑے اور مستند ایوارڈ کی حیثیت کے حامل دس ” نگار ایوارڈ ” حاصل کیے تھے۔
عمر شریف پاکستان کے وہ واحد اداکار رہے جنہوں نے ایک سال میں لگاتار چار مرتبہ نگار ایوارڈ اور تین مرتبہ ” گرائجویٹ ایوارڈ ” حاصل کیا تھا۔
عمر شریف پاکستان کے ” تمغہء امتیاز ” سے بھی سرفراز کیے گئے تھے۔بالخصوص ہندوستان میں عمر شریف کو کنگ آف کامیڈی کہا جاتا تھا۔اس کے علاوہ بھی عمر شریف کو متعدد ایوارڈ حاصل ہوئے تھے۔
ہندوستان کے مشہور مزاحیہ فنکار”کپل شرما”نے عمر شریف کے انتقال پر اپنے ٹوئٹ کے ذریعہ لکھا ہے”الوداع لیجنڈ "۔
2017 میں کسی نے سوشل میڈیا پر افواہ اڑادی تھی کہ عمر شریف کا انتقال ہوگیا یہ افواہ بہت زیادہ وائرل ہوگئی تھی بعدازاں وقفہ وقفہ سے ان کی موت کی اطلاع سوشل میڈیا پر پھیلائی جاتی رہی۔
آج جب عمرشریف کا انتقال ہوا تو زیادہ تر سوشل میڈیا صارفین نے اسے بھی ایک افواہ ہی سمجھا!! تاہم جب میڈیا ذرائع سے یہ اطلاع عام ہوئی تو مزاح کے دلدادہ اور عمر شریف کے مداحوں میں غم اور افسوس کی لہر دؤڑ گئی ہے

