اترپردیش میں بلڈوزر ایکشن،قانون کا مذاق
سپریم کورٹ کے تین سابق ججوں اور سینئر وکلا نے
اپنے مکتوب کے ذریعہ سپریم کورٹ سے از خود کارروائی کی اپیل کی
پریاگ راج میں منہدم کیا گیا مکان جاویدمحمد کی اہلیہ کی ملکیت تھا
نئی دہلی/لکھنئو: 14۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
پیغمبراسلامؐ کی شانِ اقدس میں بی جے پی کی حالیہ سابق قومی ترجمان نوپورشرما کی جانب سے گستاخی کے خلاف جاریہ ماہ اتر پردیش کے کانپور، سہارنپور اور پریاگ راج(سابقہ نام الہ آباد) میں نماز جمعہ کے بعدمسلمانوں کے احتجاج کے دؤران پتھراؤ اور تشدد کے واقعات کےبعداترپردیش میں ملزموں کے مکانات کے انہدام کے لیے بلڈوزر ایکشن کی ہرطرف سے شدید مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔سوشل میڈیا پرحکومت اتر پردیش اور ملک کی عدالتوں سے پوچھا جارہا ہے کہ الزامات ثابت ہونے سے قبل ہی ملزمین کے خلاف فوری فیصلہ اور اس پر جابرانہ عمل کی اجازت کیونکر حاصل ہے؟
اس سلسلہ میں آج 14 جون کو اترپردیش کی انتظامیہ پر”آئین کا مذاق اڑانے” کا الزام عائدکرتے ہوئے،سپریم کورٹ کے تین سابق ججوں کے بشمول 12 سینئر وکلاء نے سپریم کورٹ پر زور دیا ہے کہ وہ بی جے پی کےنمائندوں کے بیانات پراحتجاج کرنے والےمسلم شہریوں کے خلاف ریاستی حکام کے تشدد اور جبر پر ردعمل ظاہر کرے۔
معزز چیف جسٹس این وی رمنا کے نام لکھے گئے اس مکتوب میں خاص طور پر مظاہرین کے گھروں کو بلڈوزروں کے ذریعہ زمین بوس کرنے کو قانون کی حکمرانی کی ناقابل قبول خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے،اورسپریم کورٹ سے”از خود نوٹس” لینے کی درخواست کی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے سابق ججوں بی سدرشن ریڈی،وی گوپالا گوڑا اور اے کے گنگولی کے علاوہ اس خط پر ہائی کورٹ کے تین سابق ججوں اور 6 وکلاء کے دستخط ہیں۔
معزز چیف جسٹس آف انڈیا کے نام ارسال کردہ اس مکتوب میں لکھا گیا ہے کہ پولیس اور ترقیاتی عہدیداروں نے جس مربوط انداز میں کام کیا ہے اس نے واضح نتیجہ تک پہنچایا ہے کہ مسماری اجتماعی ماورائے عدالت سزا کی ایک شکل ہے۔
اترپردیش پولیس نے 10 جون کے احتجاج کے بعد 8 اضلاع سے 333 لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور 13 ایف آئی آر درج کی ہیں۔
سپریم کورٹ کولکھے گئے ججوں اور وکلا کے اس مکتوب میں لکھاگیا ہے کہ پولیس کی حراست میں نوجوانوں کو لاٹھیوں سے پیٹے جانے،مظاہرین کے گھروں کو بغیر کسی اطلاع یا کارروائی کے مسمار کیے جانے اور اقلیتی مسلم طبقہ کے مظاہرین کا پولیس کی طرف سے پیچھا اور مار پیٹ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں،جس نے لوگوں کے ضمیر کوجھنجھوڑ دیا ہے۔
اس مکتوب میں سپریم کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ وزیراعلی اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ کی جانب سے دئیے گئے بیانات نے کارروائی کومنظوری دی ہے جس نے ایک مثال قائم کی اور پولیس کو مظاہرین پر تشدد کرنےکے لیے مزید حوصلہ دیا۔

سپریم کورٹ کو روانہ کردہ اس مکتوب پر دستخط کرنے والوں میں جسٹس اے پی شاہ،دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور لاءکمیشن آف انڈیا کے سابق چیئرپرسن شامل ہیں۔
جسٹس کے چندرو،جنہوں نے مدراس ہائی کورٹ میں خدمات انجام دیں،اورجسٹس محمدانور،جنہوں نے کرناٹک ہائی کورٹ میں خدمات انجام دیں۔ جن 6 سینئر وکلا نے اس مکتوب پر دستخط کیے ہیں ان میں سابق وزیر قانون شانتی بھوشن،پرشانت بھوشن،اندرا جئے سنگھ،چندر ادے سنگھ، سری رام پنچو اور آنند گروور شامل ہیں۔
دوسری جانب کل پیر کو الہ آباد ہائی کورٹ کے چار وکلاء کے کے رائے،ایم سعید صدیقی،راجویندرسنگھ اور پربل پرتاپ نے چیف جسٹس آف انڈیا کو ایک مکتوب لکھا ہے کہ وہ پریاگ راج میں ایوان کی ‘غیر قانونی’انہدام کا نوٹس لیں۔اتوار کی شام مقامی حکام نے ویلفیئرپارٹی آف انڈیا کے رہنما اور سماجی کارکن و سابق اسٹوڈنٹ لیڈر آفرین فاطمہ کے والد جاویدمحمد کے گھر کومسمار کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ کل ہی جمعیۃ علماء ہند نے بھی سپریم کورٹ سے اس معاملہ کو رجوع کیا ہے اور ریاست اتر پردیش کو ہدایت دینے کی درخواست کی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ آئندہ مزید انہدام نہ ہو۔اب سب کی نظریں سپریم کورٹ اور معزز چیف جسٹس این وی رمنا پر ٹکی ہوئی ہیں کہ وہ اس معاملہ میں کیا احکام جاری کرتے ہیں۔؟
یاد رہے کہ پریاگ راج میں جمعہ کو ہوئے احتجاج،پتھراؤ اور تشدد کے لیے ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اتوار کے دن وہاں کےمسلم رہنما جاویدمحمد اور ان کی دختر آفرین فاطمہ جو کہ سماجی کارکن اور سابق اسٹوڈنٹ لیڈر ہیں کے عالیشان مکان کوغیر قانونی تعمیرات قرار دے کر بلڈوزر اور جے سی بی کی مدد سے ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا گیا۔
جبکہ جاوید محمد کومختلف دفعات کے تحت پہلے ہی گرفتار کرلیا گیا ہے۔ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور ایک دختر کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جنہیں بعد ازاں رہا کردیا گیا۔اب یہ خاندان اپنے آشیانے سے محروم ہوگیا ہے۔زمین دوز کیے گئے مکان اور اس کے ملبہ کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہیں۔
https://twitter.com/RanaAyyub/status/1535933516445552641
قابل غور بات یہ ہے کہ سیاسی و سماجی قائد اور تاجر جاوید محمدکے جس مکان کو پریاگ راج میں منہدم کیا گیا دراصل وہ مکان ان کی اہلیہ پروین فاطمہ کی ملکیت ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کےمطابق پروین فاطمہ نے8 فروری کو مقامی بلدیہ کو4,578 روپئےبطور پانی کاٹیکس اداکیے تھےجس کی رسید موجود ہے
28 جنوری کو پریاگ راج نگر نگم کے ذریعہ جاری کردہ ایک سرٹیفکیٹ سے پتہ چلتا ہے کہ مکان نمبر 39C/2A/1 پروین فاطمہ کے نام پرہے اور مالی سال 2020-2021 کا ہاؤس ٹیکس ادا کر دیا گیا ہے۔
انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس کے باوجودپریاگ راج انتظامیہ نے صرف ایک دن کا نوٹس دینے کے بعد یہ کہتے ہوئے اتوار کو یہ گھر مسمار کردیا کہ اس مکان کی تعمیرات اتر پردیش اربن پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ایکٹ،1973 کی دفعات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی تھیں۔نوٹس،جس میں گھر کا نمبر درج ہے،پروین فاطمہ کونہیں بلکہ ان کے شوہر جاویدمحمدکے نام جاری کیا گیا ہےکو مخاطب کیا گیا تھا۔
انڈین ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے جاویدمحمد اور پروین فاطمہ کی چھوٹی بیٹی سمیہ فاطمہ نے بتایا کہ پریاگ راج ڈیولپمنٹ اتھارٹی)نے میرے والد کو نوٹس جاری کیا اور میری والدہ کی رہائش گاہ کو منہدم کردیا۔یہ گھر میری والدہ پروین فاطمہ کے والد کلیم الدین صدیقی کی ملکیت تھا۔ جنہوں نے یہ میری ماں کو دو دہائیوں قبل بطور تحفہ میں دیا تھا۔
19 سالہ سمیہ فاطمہ نے کہاکہ اس کےبعد سےکسی بھی سرکاری ایجنسی نےہمیں یہ نہیں بتایا کہ یہ غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ہاؤس ٹیکس، واٹر ٹیکس اور بجلی کے کنکشن میری والدہ کے نام ہیں۔تمام ٹیکس وقت پر ادا کیے گئے ہیں۔اتوار سے پہلے کسی بھی عہدیدار نے ہمیں نہیں بتایا کہ ہمارا گھر غلط طریقے سے بنایا گیا ہے۔اتوار کو ایڈوکیٹ کے کے رائے جو جاویدمحمد کے خاندان کی نمائندگی کررہے ہیں،نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ اتوار کو گرایا گیا گھر جاویدمحمد کی اہلیہ پروین فاطمہ کے نام پر ہے۔ ہفتہ کو نوٹس جاویدمحمد کو بھجوا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم قانون کے مطابق بیوی کی جائیداد شوہر کی ملکیت نہیں ہوتی۔
آج کا شعر : شاعر : عطاالحق قاسمی
ظلم بچے جن رہا ہے کوچہ و بازار میں عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہئے

