وقارآباد ضلع : پرگی کے قریب موٹرسیکل کو لاری کی ٹکر، دو نوجوانوں کی دردناک موت، تانڈور میں غم کی لہر

حسرت اُن غنچوں کی ہے جو بِن کھلے مرجھاگئے!
پرگی کے قریب موٹرسیکل کو لاری کی ٹکر،دو نوجوانوں کی دردناک موت،تانڈور میں غم کی لہر
تانڈور۔حیدرآبادکے درمیان اہم سڑک کی ابترحالت،راستے کی تبدیلی!! ذمہ دار کون؟

وقارآباد/تانڈور: 11۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

گزشتہ چند سالوں سے تانڈور اور حیدرآباد کے درمیان موجود اہم سڑک کی انتہائی ابتر حالت، کندینلی اور منسان پلی کی ندیوں پر تعمیر کردہ عارضی اور انتہائی ناقص پلوں کے باعث تانڈور سے حیدرآباد اور حیدرآباد سے تانڈور سفر کرنے والی سینکڑوں خانگی گاڑیوں،ایمبولنس،موٹرسیکلوں،آرٹی سی بسوں،مال بردار ٹرکس کے ڈرائیوروں اورعوام کو کن شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہ وہی جانتے ہیں۔

تاہم اس کے باوجود منتخبہ عوامی نمائندوں،ضلع انتظامیہ اور محکمہ آر اینڈ بی کے عہدیداروں کی خاموشی کو انتہائی قابل افسوسناک ہی کہا جاسکتا ہے!!

تانڈور سے حیدرآباد اور حیدرآباد سے تانڈور کا سفر جان ہتھیلی پر رکھ کر کرنے کے مماثل ہے اور اس سڑک پر روزآنہ حادثات عام بات بن کر رہ گئے ہیں۔

ایسے میں آج صبح کی اولین ساعتوں میں ضلع وقارآباد کے پرگی منڈل کے تحت موجود موضع گڈی سنگاپور کے قریب ایک موٹرسیکل کو لاری کی ٹکر کے باعث دو مسلم نوجوانوں کی دردناک موت واقع ہوگئی جن کا تعلق تانڈور سے تھا جو کہ حیدرآباد۔تانڈور اہم شاہراہ کی بدتر حالت کو دیکھتے ہوئے حیدرآباد سے براہ پرگی تانڈور آرہے تھے۔

اس واقعہ کی تفصیلات کے مطابق سید عمر رضوان 22سالہ،فرزند سید منا ساکن قدیم تانڈور جو کہ پان شاپ چلاتے تھے اور ان کے دوست شیخ ابرار 22سالہ،فرزند شیخ انور ساکن ترکاری مارکیٹ جو کہ طالب علم تھے۔

حیدرآباد سے موٹرسیکل نمبر AP28 TC 0943 کے ذریعہ حیدرآباد سے براہ پرگی تانڈور واپس ہورہے تھے کہ آج صبح کی ابتدائی ساعتوں میں ساڑھے چار بجے موضع گڈی سنگاپور کے قریب حیدرآباد۔بیجاپور نیشنل ہائی وے نمبر 163 پر ایک تیزرفتار لاری نے ان نوجوانوں کی موٹر سیکل کو عقب سے ٹکر دے دی۔

حادثہ اتنا شدید تھا کہ شیخ ابرار کی جائے حادثہ پر ہی دلخراش موت واقع ہوگئی جنہیں لاری نے بری طرح رؤندیا۔ جبکہ اس حادثہ کے شدید زخمی سید عمر رضوان کو فوری طور پر پرگی کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے ڈاکٹرس نے انہیں حیدرآباد کے ہسپتال منتقل کرنے کی صلاح دی حیدرآباد منتقلی کے دؤران معین آباد کے قریب ایمبولنس میں ان کی موت واقع ہوگئی۔

” پرگی کے گڈی سنگاپور کے قریب پیش آئے سڑک حادثہ کا ویڈیو "

بتایا جاتا ہے کہ حادثہ کے وقت گہری کہر چھائی ہوئی تھی۔

ان دونوں نوجوانوں کی نعشوں کو بعد پوسٹ مارٹم ورثا کے حوالے کیا گیا اس سلسلہ میں پرگی پولیس ایک کیس درج رجسٹر کرکے مصروف تحقیقات ہے۔

بعد ازاں شیخ ابرار کی آج 11 اکتوبر کو ہی بعد نماز عصر جامع مسجد نئی پیٹ میں نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد یوسف سیٹھ قبرستان میں اور سید عمر رضوان کے جسد خاکی کی نماز جنازہ بعد نماز مغرب جامع مسجد قدیم تانڈور میں ادائیگی کے بعد قدیم تانڈور کے قبرستان میں سینکڑوں نم آنکھوں، دلگیر رشتہ داروں،دوست و احباب کی موجودگی میں سپرد لحد کردیا گیا۔

تانڈور کے ان دونوں نوجوانوں کی اس حادثہ میں دلسوز اموات پر تانڈور میں غم اور افسوس کی لہر پیدا ہوگئی ہے۔

وہیں مہلوک سید عمررضوان کے رشتہ داروں اور دوستوں نے بتایا کہ حادثہ کے فوری بعد انہیں صبح ساڑھے چار اور پانچ بجے کے درمیان پرگی کے سرکاری ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے ان کا علاج کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک زخمی نوجوان کے رشتہ دار ہسپتال نہیں آئیں گے وہ علاج فراہم نہیں کریں گے۔!!

جبکہ تانڈور سے پرگی کا فاصلہ زائد از 40 کلومیٹر ہے اس دؤران ڈیوٹی ڈاکٹر کو تانڈور سے بارہا مرتبہ فون کرکے منت سماجت کی گئی کہ وہ زخمی کا علاج شروع کردیں اور ان کے رشتہ دار ، دوست  پرگی ہسپتال پہنچ رہے ہیں۔

تاہم ڈاکٹر ٹس سے مس نہیں ہوئے اور مجبوراً سید عمررضوان کو حیدرآباد کے ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ معین آباد کے قریب وہ زخموں سے جانبر نہ ہوسکے۔

اسی طرح عوام بالخصوص نوجوانوں کی جانب سے سڑک حادثہ میں ان دونوں نوجوانوں کی دردناک موت پر تانڈور میں شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ تانڈور۔حیدرآباد اہم شاہراہ کی انتہائی ابتر حالت اور دو تین مقامات پر پلوں کے ٹوٹ جانے کے باعث براہ پرگی حیدرآباد تک کاطویل سفر کرنا پڑرہا ہے اور اس حادثہ کی وجہ بھی یہی ہے کہ تانڈور۔حیدرآباد اہم شاہراہ کی بدتر حالت کے باعث ہی مہلوک نوجوان براہ پرگی تانڈور لوٹ رہے تھے۔

” تانڈور اور حیدرآباد کے درمیان اہم سڑک،جس پر روزآنہ ہزاروں گاڑیاں دؤرتی ہیں،رات اور دن کے وقت کا نظارہ ” (ویڈیو)

 

عوام کی جانب سے منتخبہ عوامی نمائندوں،رکن اسمبلی تانڈور پائلٹ روہت ریڈی،رکن قانون ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی اور محکمہ آراینڈ بی کے عہدیداروں سے استفسار کیا جارہا ہے کہ آخر کتنی قیمتی انسانیں ضائع ہونے کے بعد اس شاہراہ کی حالت کو بہتر بنایا جائے گا!جو کہ گزشتہ تین چار سال سے عوام کے لیے موت کی سڑک بنی ہوئی ہے!!

عوام کا کہنا ہے کہ قابل غور بات یہ بھی ہے کہ عوامی منتخبہ نمائندے،محکمہ آراینڈ بی کے عہدیدار اور دیگرسرکاری محکمہ جات کے عہدیدار حیدرآباد اور وقارآباد سے تانڈور آنے اور جانے کے لیے اسی راستے کا استعمال کرتے ہیں پھر بھی انہیں عوام کی تکالیف کا احساس نہیں ہے!!

وہیں عوام کی یہ بھی شکایت ہے کہ حیدرآباد جانے کے لیے جہاں تانڈور۔حیدرآباد اہم سڑک کی حالت یہ ہے تو وہیں براہ ظہیرآباد اور کوڑنگل سفر کرنے کے لیے بھی سڑکوں کی حالت انتہائی ابتر ہے۔