زندگی ایک سفر ہے سہانہ ، یہاں کل کیاہو کس نے جانا

دو فلم فیر ایوارڈ یافتہ ،55 موسیقاروں کے ہمراہ 350 فلموں میں 2000 سے زائد گیتوں کے خالق

 حسرت جئے پوری

(100؍ویں یوم پیدائش کے موقع پر خراج عقیدت)

 

۔۔۔۔۔ یحیٰی خان ۔۔۔۔۔

بات 1988ء کی ہے اس وقت بنگلور سے شائع ہونے والے ہفت روزہ فلم ایڈوانس میں مشہور گیت کار حسرت جئے پوری صاحب کا ایک انٹرویو شائع ہوا تھا جسے پڑھنے کے بعد میں نے ایک پوسٹ کارڈ پر انہیں مبارکباد دیتے ہوئے لکھا تھا کہ میں آپ کے لکھے ہوئے نغموں کا شیدائی ہوں اور فلم ایڈوانس میں آپ کا شائع شدہ انٹرویومجھے بہت پسند آیا۔

چند دن بعد مجھے حسرت جئے پوری کے ہاتھوں لکھا ہوا پوسٹ کارڈ مجھے موصول ہوا جس میں شکریہ کیساتھ لکھا تھا کہ اخبار کا وہ شمارہ انہیں موصول نہیں ہوا لہذا ممکن ہوتو میں وہ اخبار انہیں پوسٹ کے ذریعہ روانہ کروں۔میں نے فوری فلم ایڈوانس کا وہ شمارہ حسرت جئے پوری کو روانہ کردیا چند دن بعد دوبارہ اخبار کی موصولی اور ڈھیر ساری دعاؤں پر مشتمل ایک اور پوسٹ کارڈ مجھے موصول ہوا اب یہ سلسلہ کئی دن تک چلتا رہا۔

اسی دؤران تفریح کی غرض سے مجھے بمبئی جانا ہوا تو 5؍ڈسمبر 1988ء کو میں حسرت جئے پوری کے مکان واقع کیلاش بلڈنگ، کھار،بمبئی پہنچ گیاعمارت کی گیٹ پر کھڑے چوکیدار نے گراونڈ فلور پر موجود حسرت جئے پوری کے مکان پر جاکر اطلاع دی کہ ان سے ملنے کوئی حیدرآباد سے آئے ہیں۔ جسکے فوری بعد حسرت جئے پوری خود گیٹ تک آئے اور مجھے اپنے ساتھ مکان میں لے گئے۔

ادھر ادھر کی باتوں کے دؤران میں نے حسرت جئے پوری سے خواہش ظاہر کی کہ مجھے اس وقت دہلی سے شائع ہونے والے مشہور اسپورٹس میگزین ماہنامہ اخبار نوجواں کیلئے ان کا ایک تفصیلی انٹرویو چاہئے جس پر وہ فوری راضی ہوگئے پانچ گھنٹوں تک میں ان کے مکان میں موجود رہا اور ان سے مکمل انٹرویو حاصل کیا جس کو مضمون کی شکل میں یہاں قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔

حسرت جئے پوری کی پیدائش 15؍اپریل 1922ء کوراجستھان کے گلابی شہر جئے پور میں ہوئی جن کا اصل نام محمد اقبال حسین تھا چونکہ وہ حسرت موہانی سے زیادہ متاثر تھے تو اپنا تخلص بھی حسرت جئے پوری رکھ لیا اور اپنے نانا فدا حسین کے سامنے زانوئے ادب طئے کیا۔

حسرت جئے پوری نے اپنے انٹرویو میں بتایا تھا کہ اس وقت چند فلمی صحافی لکھتے ہیں کہ وہ فلمی دنیا میں داخلہ سے قبل اوپیرا ہاؤس بمبئی کے پاس "ہوا میں اُڑتا جائے میرا لال دوپٹہ ململ کا” گا گا کر دوپٹے فروخت کرتے تھے جبکہ حقیقت یہ ہیکہ وہ 1940ء میں تلاش معاش کے سلسلہ میں ممبئی آگئے اور مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ میں ماہانہ 40؍روپیوں کی تنخواہ پر بطوربس کنڈاکٹر ملازمت اختیار کرلی۔

حسرت جئے پوری نے مجھے بتایا تھا کہ وہ بس کنڈاکٹر کی ملازمت کے ساتھ ساتھ مشاعروں میں بھی اپنا کلام سنایا کرتے تھے اسی دؤران ڈونگری میں پرتھوی راجکپور کی صدارت میں منعقدہ ایک مشاعرہ میں حسرت جئے پوری نے اپنی مشہور نظم ‘مزدور‘سنائی تھی مشاعرہ کے اختتام پر پرتھوی راجکپور نے حسرت جئے پوری کو گلے لگاکر کہا کہ میرا لڑکا ( راجکپور ) ‘ برسات ‘بنا رہا ہے اور مجھے پورا یقین ہیکہ تم اس فلم میں بہترین گیت لکھوگے اور اس سلسلہ میں راجکپور سے ضرور مل لینا۔

شاید حسرت جئے پوری بھی اسی موقع کی تلاش میں تھے اور فوری راجکپور سے جاملے جسکے بعد فلم برسات سے پانچ نوجوانوں کی ٹولی ایک نئی پہچان کے ساتھ فلمی دنیا کے افق پر نمودار ہوئی اورکامیابی نے راتوں رات اس جوڑی کے قدم چوم لیے یہ ٹولی تھی اداکار،فلم ساز و ہدایت کار راجکپور، موسیقار جوڑی شنکر اور جئے کشن، گیت کار حسرت جئے پوری اور شیلندر کی۔

راجکپور اور حسرت جئے پوری۔

زائد از 40 سال تک یہ ٹولی فلمی دنیا میں دھوم مچاتی رہی اور شائقین کے دلوں پر راج کرتی رہی۔حسرت جئے پوری نے 55 سے زائد موسیقاروں کے ساتھ کام کیازائد از 500فلموں میں 2؍ہزار سے زائد گیت لکھے

حسرت جئے پوری ایک لمبے عرصہ تک اپنے شائقین کے کانوں میں اپنے نغمات،غزل،گیت اور گانوں کی شیرینی انڈیلتے رہے پیار،محبت،غم والم،ہجر و وصال غرض انسانی زندگی کا ایسا کوئی جذبہ و پہلو نہیں جسے حسرت جئے پوری نے اپنے نغمات میں سمویا نہ ہو حسرت جئے پوری کے لاتعداد گیت چل نکلے جن میں

تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤگے(فلم : پگلا کہیں کا)،میں زندگی میں ہر دم روتا ہی رہا ہوں ،جیا بے قرار ہے چھائی بہار ہے،ہم تجھ سےمحبت کرکے صنم اور چھوڑ گئے بالم (فلم : برسات )،

جانے کہاں گئے وہ دن (فلم: میرا نام جوکر )،دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی ( تیسری قسم) ،چاہے کوئی مجھے جنگلی کہے،احسان تیرا ہوگا مجھ پر(فلم : جنگلی )،دل کے جھروکے میں تجھ کو بٹھا کے( برہمچاری )،بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے،تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے چشم بددور (فلم : سورج )، زندگی ایک سفرہے سہانہ ، یہاں کل کیا ہو کس نے جانا (فلم : انداز)،لال چھڑی میدان کھڑی( جانور )،

شہنشاہ گلوکار محمد رفیع اور حسرت جئے پوری فلم فیر ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد۔

یہ میرا پریم پتر پڑھ کر کہ تم ناراض نہ ہونا، میں کا کرو رام مجھے بڈھا مل گیا ( سنگم )، بے دردی بالماں تجھکو میرا من یاد کرتا ہے،اجی روٹھ کر اب کہاں جائیے گا( فلم: آرزو )،غم اٹھانے کے لئے میں تو جئے جاؤنگا،کیا کیا نہ سہے ہم نے ستم آپ کی خاطر،رخ سے ذرا نقاب ہٹادو (میرے حضور )، گمنام ہے کوئی بدنام ہے کوئی ، ہمیں کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں ( گمنام ) ،اپریل فول بنایا تو ان کو غصہ آیا،احسان میرے دل پہ تمہارا ہے دوستو(فلم : غبن) بدن پہ ستارے لپیٹے ہوئے، اکیلے اکیلے کہاں جارہے ہو ( فلم این ایوننگ ان پیرس)،تم نے پکارا اور ہم چلے آئے، جانے والوں ذرا ہوشیار (راج کمار)،سو سال پہلے مجھے تم سے پیار تھا (جب پیار کسی سے ہوتاہے) سے لیکرسن سائبا سن پیا ر کی دھن( رام تیری گنگا میلی )جیسے مقبول نغمے شامل ہیں۔

حسرت جئے پوری انہیں حاصل ہونے والے درجنوں ایوارڈس کے ساتھ۔(تصویر بشکریہ : ڈاکٹر حسرت جئے پوری، فیس بُک پیج)

اس دؤر میں ان کی کئی فلمیں ہٹ ہوئیں برسات، آوارہ، شری 420، چوری چوری، سنگم، جس دیش میں گنگا بہتی ہے،میرا نام جوکر،تیسری قسم،دل اپنا اور پریت پرائی، آرزو، جنگلی، جانور، بلف ماسٹر، بدتمیز،پگلا کہیں کا،پرنس ،سسرال ، سورج، میرے حضور،دل ایک مندر، راجکمار،انداز،ہمالیہ سے اونچا، دھرتی،اناڑی اوربرہمچاری جیسی ان گنت فلمیں شامل ہیں 1951ء میں حسرت جئے پوری نے فلم ہلچل کے لئے اسکرین پلے بھی لکھا تھا۔

ایک لمبے عرصہ کے بعد 1982ء میں راجکپور اپنے لڑکے راجیو کپور کو لیکر فلم رام تیری گنگا میلی بنارہے تھے اس وقت راجکپور نے حسرت جئے پوری سے خواہش کرکے اس فلم کے لیے ایک گیت لکھوایا تھا جبکہ اس فلم کی موسیقی اور دوسرے گیت موسیقار رویندر جین نے لکھے تھے تا ہم اس فلم کے لیے حسرت جئے پوری کا لکھا ہوا گیت 1985ء کا سب سے سوپر ہٹ گیت ثابت ہواتھا جس کے بول تھے "سن سا ئباسن،پیار کی دھن ،میں نے تجھے چن لیا ،تو بھی مجھے چن”۔

حسرت جئے پوری کو فلمی گیت لکھنے میں شہرہ حاصل تھا خاص کر وہ فلم کے ٹائٹل گیت لکھنے کیلئے مشہور تھے۔ لندن کی ورلڈ یونیورسٹی راؤنڈ ٹیبل نے حسرت جئے پوری کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی تھی۔

ترقی پسند و انقلابی شاعر و نغمہ نگار ساحر لدھیانوی اور حسرت جئے پوری کی ایک یادگار تصویر۔(تصویر بشکریہ :ڈاکٹر حسرت جئے پوری فیس بُک پیج)

1966ء میں فلم سورج کے گیت بہارو پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے کے لیے حسرت جئے پوری کو فلم فیر ایورڈ حاصل ہواتھا جبکہ دوبارہ 1972ء میں راجیش کھنہ کی فلم انداز کے گیت ‘ زندگی ایک سفر ہے سہانہ یہاں کل کیا ہو کس نے جانا ‘ پر بھی حسرت جئے پوری کو فلم فیر ایورڈ حاصل ہواتھا

وہیں حسرت جئے پوری 1962ء میں فلم سسرال کے گیت تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے،1963ء میں فلم پروفیسر کے گیت ائے گلبدن پھولوں کی مہک کانٹوں کی چبھن، کیلئے ،1966ء ہی میں فلم آرزو کے گیت اجی روٹھ کر اب کہاں جائیے گا،اور 1968ء میں فلم برہمچاری کے گیت دل کے جھروکے میں تجھ کو بٹھا کے یادوں کو تیری میں دلہن بناکے، کے لیے وہ فلم فیر ایوارڈ کے لئے نامزد ہوئے تھے ۔اس کے علاوہ بھی حسرت جئے پوری کے حصہ میں بہت سارے ایوارڈس بھی آئے تھے۔

تصویر بشکریہ : ڈاکٹر حسرت جئے پوری فیس بک پیج۔

افسوس کہ اپنی زندگی کے 55 سے زیادہ قیمتی سال فلمی دنیا کو دینے والے حسرت جئے پوری اپنی زندگی کے آخری ایام میں فلمی دنیا میں ہی گمنام بن کر رہ گئے تھے۔جب میں نے ان سے پوچھا تھا کہ اتنے مشہور گیتوں کے خالق کا نام اور کام آج کل کم ہی دکھائی دے رہا اس کی کیا وجہ ہے؟ جس پر حسرت جئے پوری خلاؤں میں گھورتے رہے اور بولے جانے کہاں گئے وہ دن ؟ اور کہا تھا کہ فلمی دنیا میں گروپ بندی ضروری ہے جیسا کہ ہمارا گروپ ہوا کرتا تھا۔

دؤران ملاقات حسرت جئے پوری نے مجھے بتایا تھا کہ جب تک راجکپور بقید حیات تھے اس وقت تک انہیں آرکے اسٹوڈیو کی جانب سے ماہانہ 500  روپئے باقاعدہ روانہ کیے جاتے تھے تاہم راجکپور کے انتقال کے بعد یہ رقم بند کردی گئی۔

حسرت جئے پوری کے بھانجے مشہور موسیقار انوملک نے اپنی چند فلموں کیلئے ان سے گیت لکھوائے تھے لیکن حسرت جئے پور ی مطمئین نہیں ہوئے اور اس وقت انہوں نے ایک فلمی میگزین کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ انوملک مجھے ننگا کرنا چاہتا ہے۔حسرت جئے پوری نے بھلے ہی بے روزگار رہ کرہی سہی اپنی باقی ماندہ زندگی گذاری ہو لیکن گھٹیا اور نچلی سطح کے گیت لکھ کر خود کو نئے زمانہ سے ہم آہنگ کرنے کی بھو ل کبھی نہیں کی یہ ان کا ظرف تھا۔

حسرت جئے پوری

ایک قابل ذکر بات یہ ہیکہ اپنے ساتھی گیت کار شیلندر کی جانب سے راجکپور اور وحیدہ رحمن کو لیکر بنائی گئی فلم تیسری قسم کے مشہور گیت دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی ، کاہے کو دُنیا بنائی حسرت جئے پوری نے لکھا تھا لیکن نقادوں نے اس گیت کو شیلندر سے منسوب کیا تھا۔بالآخر طویل مدت کی علالت کے بعدجگر اور گردہ کے عارضہ کے باعث مشہور زمانہ نغموں کے خالق حسرت جئے پوری 17؍ستمبر 1999ء کو ممبئی کے ایک خانگی ہسپتال میں انتقال کرگئے۔

جب کبھی ہندوستانی فلموں میں بلند پایہ شاعری، کانوں میں رس گھولتے نغموں اور درد بھرے گیتوں و نغموں کی بات چلے گی تو حسرت جئے پوری کا نام اور کام سب سے اوپر رہے گا اوراپنے مقبول زمانہ گیتوں کے ذریعہ وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔

مضمون نگار : محمدیحیٰی خان 
 e-mail: khanreport@gmail.com 


حسرت جئے پوری کے لکھے ہوئے چند مشہور گیتوں کے یوٹیوب لنکس یہاں پیش ہیں۔

https://www.youtube.com/watch?v=XbGLZxRCZCs