میگھالیہ الیکشن ترنمول کانگریس بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لیے لڑ رہی ہے
گوا اسمبلی انتخابات میں بھی ایسا ہی کیا گیا،جلسہ عام سے خطاب میں راہل گاندھی کا الزام
نئی دہلی: 22۔فروری (سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
ڈھائی ماہ طویل 4،000 کلومیٹر پرمشتمل کنیاکماری تاجموں وکشمیر پیدل بھارت جوڑو یاترا کی کامیابی کے بعدمحسوس ہوتا ہے کہ سابق صدر آل انڈیا کانگریس کمیٹی ورکن پارلیمان راہل گاندھی نے ملک کی 9 ریاستوں میں جاریہ سال ہونےوالے اسمبلی انتخابات میں کانگریس پارٹی کومضبوط بنانے کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔!
آج شمال مشرقی ریاست میگھالیہ میں ہونےوالے اسمبلی انتخابات کی مہم کےدؤران رکن پارلیمان حلقہ ویاناڈ (کیرالا) راہل گاندھی نے میگھالیہ کے دارلحکومت شیلانگ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) پر سخت حملہ کیاہے۔
میگھالیہ کے روایتی لباس میں ملبوس راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیاکہ ترنمول کانگریس پارٹی (ٹی ایم سی) میگھالیہ میں انتخابات لڑ رہی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ بی جے پی شمال مشرقی ریاست میں اقتدار میں آئے۔راہل گاندھی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ترنمول کانگریس نے گوا اسمبلی انتخابات کے دوران بھی ایسا ہی کیا تھا اور ان کا خیال بی جے پی کی مدد کرنا تھا۔
یاد رہے کہ میگھالیہ اسمبلی کی جملہ 60 نشستوں میں سے 59 اسمبلی حلقوں کے لیے 27 فروری کو رائے دہی ہونے والی ہے۔اور 2 مارچ کو ناگالینڈ اور تریپورہ اسمبلی کے نتائج کے ساتھ ان کا اعلان ہوگا۔جہاں 27 جنوری کو ان ریاستوں کے 60-60 اسمبلی حلقہ جات میں رائے دہی کاعمل مکمل کرلیا گیا ہے۔میگھالیہ میں سابق وزیر داخلہ کے انتقال کے باعث ایک اسمبلی حلقہ میں رائے دہی کو ملتوی کیا گیا ہے۔
راہل گاندھی نے اس جلسہ میں عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ ترنمول کانگریس(ٹی ایم سی) کی تاریخ جانتے ہیں۔ مغربی بنگال میں ہونے والے تشدد اور گھوٹالے،آپ ان کی روایت سے واقف ہیں۔انہوں نے گوا کے اسمبلی انتخابات میں بڑی رقم خرچ کی اور ان کا خیال بی جے پی کی مدد کرنا تھا۔میگھالیہ میں بالکل یہی خیال ہے۔شیلانگ میں جلسہ سےخطاب کرتےہوئے راہل گاندھی نے کہاکہ میگھالیہ میں ترنمول کانگریس کا خیال یہ یقینی بنانا ہے کہ بی جے پی مضبوط ہو اور اقتدار میں آئے۔
راہل گاندھی نے جلسہ سے اپنے خطاب کو بی جے پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھگوا پارٹی ایک طبقاتی بدمعاش کی طرح ہے جو کسی کی بھی عزت نہیں کرتی،کیونکہ یہ سمجھتی ہے کہ اسے سب کچھ معلوم ہے۔انہوں نے کہا،” بی جے پی۔آر ایس ایس ایک طبقاتی بدمعاش کی طرح ہیں جو یہ سوچتے ہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں،سب کچھ سمجھتے ہیں اور کسی اور کی کوئی عزت نہیں کرتا۔ہمیں ان سے اجتماعی طور پر لڑنا ہے۔”
راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس بی جے پی کو میگھالیہ کی زبان، ثقافت اور تاریخ کو نقصان پہنچانے نہیں دے گی۔
انتخابی ریلی سے اپنے خطاب میں وزیراعظم نریندر مودی پر حملہ کرتےہوئے راہل گاندھی نے کہاکہ میں نے وزیراعظم سے گوتم اڈانی کے ساتھ ان کے تعلقات کے بارے میں پوچھا،میں نے ایک تصویر بھی دکھائی جس میں گوتم اڈانی اور نریندر مودی ایک ہوائی جہاز میں ایک ساتھ بیٹھے تھے اور وزیر اعظم ایسے آرام کر رہے تھے جیسے یہ ان کا اپنا گھر ہو۔
کانگریس کے سابق صدر نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں ان کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔ بجٹ سیشن کے دوران پارلیمنٹ میں اپنی تقریر کے اخراج پر بات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا،” جب میں پارلیمنٹ میں تقریر کرتا ہوں تو وہ کہیں نظر نہیں آتا اور جب وزیر اعظم تقریر کرتے ہیں تو وہ تمام ٹیلی ویژن پرنظر آتا ہے۔”
اپنے اس خطاب میں راہل گاندھی نے کہاکہ وہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی وجہ سے بھارت جوڑو یاترا کرنے پر مجبور ہوئے۔” ہم نے کنیا کماری سے کشمیر تک تقریباً 4,000 کلومیٹر کا سفر کیا۔ ہمیں ایسا کرنے پر مجبور کیا گیا کیونکہ بی جے پی اور آر ایس ایس نے پارلیمنٹ،میڈیا، بیورو کریسی،الیکشن کمیشن اور عدلیہ سمیت ہندوستان کے ہر ایک ادارے پر قبضہ کر لیا ہے۔

