تلنگانہ: وقارآباد ضلع میں ناگ سانپ نے تین کتے کے بچوں کو ڈس لیا، بے بس ماں مزاحمت کے باؤجود تینوں بچوں سے محروم

تلنگانہ: وقارآباد ضلع میں ناگ سانپ نے تین کتے کے بچوں کو ڈس لیا
بے بس و بے زبان ماں مزاحمت کے باؤجود تینوں بچوں سے محروم

وقارآباد/تانڈور: 25۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام)

مختلف نسل کے جانوروں میں لڑائی عام بات ہے۔اس لڑائی میں وہی جیت جاتا ہے جو طاقتور،زہریلا اور سفاک ہوتا ہے۔تاہم ہم عام طورپر اور سوشل میڈیا پر اکثر ایسے ویڈیوز دیکھ کر حیرت میں پڑجاتے ہیں کہ الگ الگ نسل کے ہونے کے باؤجود مختلف جانور آپس میں مل جل کر رہتے ہیں،اور مذہب کے نام پر منافرت پھیلانے والےانسانوں کے لیے بھی ایسے ویڈیوز ایک پیغام ہوتے ہیں۔تاہم ہمیشہ کہاجاتاہے کہ سانپ کی فطرت ہی ڈسنا ہے۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ سانپ پر آپ مہربانی کر کے خوش ذائقہ دودھ بھی پلا دیں یہ آپ کو موقع پا کر ڈسنے سے گریز نہیں کرے گا۔

زیادہ تر سانپوں کی جانب سے انسانوں کو ڈسنے کے واقعات منظر عام پر آتے رہتے ہیں۔ممکن ہوکہ اپنی فطرت کے باعث یہ جنگلوں میں دیگر جانوروں کو بھی ڈستے رہتے ہوں گے لیکن اس کی اطلاعات عام نہیں ہوتیں۔

لیکن ریاست تلنگانہ کےضلع وقارآباد میں ایک ایسا روح فرسا واقعہ پیش آیا ہے جس کا ویڈیو دیکھ کر جہاں انسان کے رؤنگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں،وہیں اس سانپ نامی زہریلی نسل پرغصہ بھی آتا ہے اور اس زہریلے سانپ کا شکار بننے والے تین کتے کےچھوٹےبچوں کےساتھ ہمدردی اور ان کی بے زبان و لاچار ماں پر ترس بھی آتا ہے۔

جہاں ایک زہریلے ناگ سانپ نے کتے کے تین معصوم بچوں کو ڈستے ہوئے انہیں ہلاک کردیا۔ناگ سانپ کے اس حملہ کےدؤران بے بس و لاچار ماں نے اپنے بچوں کو اس کے زہر یلے ناگ سے بچانے کی کوشش بھی کی تاہم ناکام ہی رہی۔

حلقہ اسمبلی تانڈور کے بشیرآباد منڈل کےموضع منتٹی میں حال ہی میں ایک کتیا نے تین بچوں کو جنم دیا تھا۔اور محفوظ مقام مان کرایک چھوٹی سی کٹیا جسے کسی نے بناکر چھوڑ دیا تھا میں اپنے بچوں کی پرورش کررہی تھی۔اسی دؤران کل ماں اپنے ان تین بچوں کو وہاں چھوڑ کر غذا کی تلاش میں گئی تھی کہ کہیں سے ایک طویل ناگ سانپ ان کتے کے بچوں کی قیام گاہ میں داخل ہوگیا۔

پہلے تو کٹیا کے باہر ہی اس نے ایک کتے کے بچہ کو ڈس کر ہلاک کردیا۔اس ناگ سانپ کے غصہ کی حالت اس ویڈیو میں دیکھی جاسکتی ہے کہ وہ کیسے ایک کتے کے بچہ کو جھونپڑی میں ڈسنے کے بعد ایک اور بچہ کو اپنے منہ میں دبوچ کرجھونپڑی سے باہر کھینچ کر لاتا ہے۔اسی دؤران ان کتوں کی ماں وہاں پہنچ جاتی ہے۔بیچاری بے زبان،بے بس و لاچار کتیا سانپ کے چنگل میں اپنے بچہ کو دیکھ کر سوائے سانپ پر بھونکنے کے کچھ نہ کرسکی۔کیونکہ اس کو بھی معلوم تھا کہ اگر اس نے اپنے بچہ کو اس ظالم کےچنگل سے آزاد کروانے کی کوشش کی تو وہ اس کو بھی ڈس لے گا۔کتیا بھونکتی ہی رہی اور اس ناگ سانپ نے پھنکار مارتے ہوئے اس کے بچہ کو بھی ڈس کر ہلاک کردیا۔بعدازاں وہ وہاں سے روانہ ہوگیا۔

فی الحال یہ معاملہ موضع میں اور سوشل میڈیا پر موضوع بحث بنا ہواہے۔اس کتیا کےساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جارہا ہے کہ آن واحد میں چند دن قبل ہی جنم دینے والی اس ماں کے تینوں بچوں کو سانپ نے ہلاک کرکے اس کو دوبارہ یکا و تنہا کردیا۔وہیں موضع کےلوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سانپ جو کہ انتہائی زہریلا اورطویل تھا ساتھ ہی غصہ کی حالت میں بپھرا ہوا بھی تھا اگر بدقسمتی سے کسی مکان میں داخل ہوجاتا تو۔!!

اس ایک گھنٹہ سے زائد تک پیش آنے والےسارے واقعہ کا ایک انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہےکہ وہاں موجود رہ کر اس دلخراش واقعہ کی صرف ویڈیو لینے والے افراد آپس میں بات کرتے ہوئے افسوس ظاہر کرنے میں مصروف نظر آرہے ہیں۔

اگر یہ لوگ چاہتے تو پتھر پھینک کر سانپ کووہاں سےبھاگنے پرمجبور بھی کرسکتے تھے۔شاید اس سے جھونپڑی میں موجود دو بے بس و لاچار کتے کے بچوں کی جان بچ جاتی۔!

لیکن برا ہو سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل کرنے کے جنون کا کہ سڑکوں پر چاہے انسانوں کا قتل ہو یا جانوروں پرظلم،یا حادثات آج کے زیادہ تر انسان انسانیت بھول کر صرف ویڈیو لینے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔!! پتہ نہیں کہ مدد کے بجائے ویڈیو لینے میں مصروف ہوجانے والوں کو کونسااور کیسا ذہنی سکون حاصل ہوجاتا ہے۔؟