تلنگانہ میں سرکاری ڈاکٹرز کی خانگی خدمات پر امتناع، جی او جاری

تلنگانہ میں سرکاری ڈاکٹرز کی خانگی خدمات پر امتناع،جی او جاری

حیدرآباد: 07۔جون(سحرنیوزڈاٹ کام)

حکومت تلنگانہ نے آج لیےگئے اپنے ایک فیصلہ میں سرکاری ہسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز پر خانگی ہسپتالوں یا کلینکس میں خدمات (پرائیوٹ پریکٹس) انجام دینے پر پابندی عائد کردی ہے۔اس کے لیے میڈیکل ایجوکیشن سرویس کے قواعد و ضوابط کو لاگو کرنےکا فیصلہ کیا ہے۔اس سلسلہ میں ریاستی محکمہ ہیلتھ نے احکام جاری کردئیے ہیں۔

دوسری جانب ریاستی وزیرصحت ٹی۔ہریش راؤ نے کہا ہے کہ یہ شرائط سرکاری ہسپتالوں میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے والے ڈاکٹرز پر لاگو ہوں گی اور اب تک جو ڈاکٹرز سرکاری ہسپتالوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں ان پر ان شرائط کا اطلاق نہیں ہوگا۔

بتایا جارہا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز کی جانب سے ڈیوٹی کےاؤقات کار پرعمل نہ کرنا،ڈیوٹی کے دؤران تساہلی برتنا،طویل تعطیلات پر چلے جانا اور اپنے اپنے یا کسی اور خانگی ہسپتالوں میں خدمات انجام دئیے جانے کی متعدد شکایتوں کے بعد حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے۔

ریاستی ڈاکٹر محکمہ ہیلتھ ڈاکٹر جی۔سرینواس نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقہ کے مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں ہمہ وقت بہترین علاج کی فراہمی کو یقینی بنانے کی غرض سے ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں G.O.Ms.NO:56 جاری کیا گیا ہے۔اور وزیرصحت ٹی۔ہریش راؤ کی جانب سے کل پیر کو اعلان کرنے کے ایک دن بعد یہ جی او جاری کیا گیا ہے۔انہوں نے کل کہا تھا کہ حکومت کی جانب سے ڈاکٹرز کے تقررات کے بعد بھرتی ہونے والے ڈاکٹرز کی خانگی خدمات (پرائیوٹ پریکٹس) پر پابندی ہوگی۔مئی 2002 میں جاری کردہ GO Ms No.154 میں جاری کردہ تلنگانہ میڈیکل ایجوکیشن سروس رولز کے خصوصی قواعد میں اس GO کے ذریعے کی گئی ترامیم کا حصہ ہے۔امکان ہے اب اس ترمیم شدہ جی او کے تحت ریاستی محکمہ صحت کی جانب سے زائد از 3،000 ڈاکٹرز کے تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔