پرگی میں ہونے والے تبلیغی اجتماع کے لیے فنڈ وقف بورڈ سے جاری کیا گیا ہے، بی جے پی کیوں منافرت پھیلانے میں مصروف ہے؟

پرگی میں ہونے والے تبلیغی اجتماع کے لیے فنڈ وقف بورڈ سے جاری کیا گیاہے
بی جے پی برادران وطن کے درمیان نفرت پھیلانے میں کیوں مصروف ہے؟
وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل بھی میدان میں،کانگریس حکومت پر تنقید

حیدرآباد/وقارآباد: 21/ڈسمبر
(سحر نیوز ڈاٹ کام/میڈیا ڈیسک)

سب کا ساتھ،سب کا وکاس اور سب کا وشواس یہ وہ دلفریب نعرہ ہےجو گزشتہ دس سال سے وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی قائدین یہ دلفریب نعرہ لگاتے ہوئے دنیا پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ تمام مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور ان مذاہب کو ماننے والوں کی آزادی اور مساوی ترقی کے پابند ہیں۔

لیکن تلنگانہ بی جے پی ترجمان رچنا ریڈی نےکل پریس کانفرنس سےخطاب کرتےہوئے کانگریس حکومت پرسخت تنقید کی کہ وقارآباد ضلع کے پرگی میں 6 جنوری تا 8 جنوری منعقد ہونےوالے سہء صوبائی سطح کےتبلیغی اجتماع کے انتظامات کےلیے ڈھائی کروڑ روپئے کیوں جاری کیے گئے۔؟

سوال یہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن رچنا ریڈی نے الزام عائد کیاکہ تبلیغی جماعت دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والی جماعت ہے۔اور انہوں نے یہ مضحکہ خیز الزام بھی عائد کیاکہ 2020ء میں دنیا بھر میں پھیلی کورونا وباءتبلیغی جماعت نے دہلی اور ہندوستان میں پھیلایا تھا ساتھ ہی تلنگانہ بی جے پی ترجمان رچنا ریڈی نےحکومت تلنگانہ سےمطالبہ کیاکہ تبلیغی جماعت کو جاری کردہ ڈھائی کروڑ روپئے فوری واپس لیے جائیں۔

https://www.facebook.com/tvn99urdu/videos/330913573063634

یہی الزامات سابق صدر تلنگانہ بی جے پی و رکن پارلیمان کریم نگر بنڈی سنجے کمارنے حکومت تلنگانہ اور تبلیغی جماعت پر عائد کیے ہیں۔وہیں آج وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل نے اپنے مشترکہ بیان میں کہاہےکہ ریاستی حکومت کے لیے تبلیغی جماعت تنظیم کو تین کروڑ روپے مختص کرنا مناسب نہیں ہے جو دہشت گردی، اسلام پھیلانے اور مذہب کی تبدیلی جیسے پروگراموں کے لیے تربیت دیتی ہے۔

وی ایچ پی کے ریاستی صدر سریندر ریڈی، سیکریٹری پنڈری ناتھ،پراچارا پرامک پگوداکولا بال سوامی اور بجرنگ دل کے ریاستی کنوینر شیوا رامولو نے آج جمعرات کوجاری کردہ اپنے بیان میں اس اجتماع کومنسوخ کرنے کامطالبہ کیا اور انہوں نے الزام عائد کیاکہ تبلیغی جماعت جبری مذہبی تبدیلی، لوجہاد کو فروغ دیتی ہے اور معاشرے میں تباہی پھیلاتی ہے۔

 وشواہندوپریشد نے کانگریس پر مخالف ہندو کارروائی کا الزام عائد کرتےہوئےکہاکہ انہوں نے دہشت گرد گروہوں کی پرورش جو ہندوستان کی روایت اور وجود پر حملہ کرتے ہیں۔کانگریس کے خون میں مسلم ڈی این اے چھپا ہوا ہے یہ آج ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے۔

اس معاملہ میں ملک بھر میں گھوم گھوم کر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرنے والے، رکن اسمبلی حلقہ گوشہ محل،حیدرآباد گستاخ رسولؐ راجہ سنگھ کہاں خاموش رہنے والےتھے۔راجہ سنگھ نے آج ویڈیو جاری کرتےہوئے سوال کیاکہ تبلیغی جماعت کے اجتماع کے 3 کروڑ روپئےکیوں جاری کیے گئے؟راجہ سنگھ نے کہا کہ اس سے قبل تلنگانہ میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کے بعد بھینسہ میں فساد ہوا تھا، کئی مکانات جلے تھے اور کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔

انہوں نے وزیراعلیٰ ریونت ریڈی کو مشورہ دیا کہ اگر وہ تبلیغی جماعت کے کاموں سے واقف نہیں ہیں تو میں آپ کو بتانا چاہوں گا کہ یہ وہ جماعت ہےکہ گستاخ رسولؐ نوپور شرما کی حمایت میں مہارشٹرا کےساکن اومیش کی جانب سے واٹس ایپ پر پوسٹ کرنے پر اس کا قتل کیا گیا تھا۔ ملعون راجہ سنگھ نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا کہ 2002ء میں گجرات کے گودھرا میں 59 ہندوؤں کو ٹرین کی بوگی میں جلایا گیاتھا اس واقعہ میں بھی تبلیغی جماعت کا نام ہی آیا تھا۔راجہ سنگھ نے دور کی کوڑی لاتے ہوئے مزید کہا کہ قندھار سے طیارہ کے اغواء میں بھی تبلیغی جماعت کا نام آیا تھا۔

راجہ سنگھ نے ریونت ریڈی سے سوال کیاکہ ایسی دہشت گردانہ سوچ رکھنےوالی جماعت کو آپ 3 کروڑ روپئے کافنڈ کیسے دےسکتے ہیں۔؟انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے بعد کانگریس کا جواصلی چہرہ ہے آج وہ سامنے آگیا ہے۔راجہ سنگھ نے بردارن وطن سے کہاکہ آنے والے پارلیمانی انتخابات میں جوکوئی کانگریس کی تائید کرے گا تو یہی حال ہوگا جو آج تلنگانہ میں ہواہے۔اس سے واضح ہوگیا کہ ان کا نشانہ تبلیغی جماعت کیوں ہے اور ان کی منشاء کیا ہے۔؟

https://www.facebook.com/tvn99urdu/videos/913352163476309

بی جے پی کے گستاخ رسولؐ ٹی۔راجہ سنگھ اور تلنگانہ بی جے پی ترجمان رچنا ریڈی کے سیاسی شعور سے عاری ہونے کا پہلا ثبوت یہ ہے کہ وقارآباد پرگی میں منعقد ہونےوالے تبلیغی جماعت کے اجتماع کےلیے ڈھائی کروڑ روپئے ریاست کے عوامی خزانے سے نہیں بلکہ تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ سے جاری کیے گئے ہیں اور وقف بورڈ ایک مسلم ادارہ ہے۔یہ دونوں بی جے پی قائدین زہر افشانی، برادران وطن میں غلط فہمی اور نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرنے سے قبل کم ازکم اس سلسلہ میں جاری کردہ جی او کو ہی دیکھ لیتے تو کافی ہوتا ۔

جاری کردہ جی او نمبرG.O.No.Rt.123 میں باقاعدہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ کو ہدایت دی گئی ہے کہ 2 کروڑ 45 لاکھ 93 ہزار 847 روپئے جاری کیے جائیں۔اس جی او کےتحت جاری کردہ مذکورہ رقم میں سے اجتماع گاہ میں 85 لاکھ روپئے کےصرفہ سے مشن بھاگیرتا کے ذریعہ پانی کی سربراہی اور دو عارضی تالابوں کی تعمیر کی جائے گی،جبکہ 68 لاکھ روپئے عارضی تالابوں سے وضو خانوں تک پانی کی سربراہی کے لیے پائپ لائن بچھائی جائے گی۔

اسی طرح محکمہ پنچایت راج کےشعبہ انجینئرنگ کی جانب سے اجتماع گاہ تک سڑکیں بچھانے اور پارکنگ قائم کرنےکےلیے 40 لاکھ روپئے صرف کیےجائیں گے۔وہیں بلاء وقفہ برقی سربراہی کےلئے 48 لاکھ 35 ہزار 847 روپئے کےمصارف سےمحکمہ برقی کی جانب سے اجتماع گاہ میں خصوصی برقی ٹرانسفارمرس نصف کیے جائیں گے اور رؤشنی کا نظم کیا جائے گا اور ساتھ ہی مزدوروں،ٹریکٹرس اور ٹرالی کے علاوہ صفائی کے دیگر امور پر 4 لاکھ روپئے خرچ کئے جائیں گے۔یہ فنڈ کلکٹر ضلع وقارآباد نارائن ریڈی کو جاری کیا گیا جائے گا اور یہ تمام امور چیف ایگزیکٹیو آفیسر تلنگانہ اسٹیٹ وقف بورڈ بطور نوڈل آفیسر کی نگرانی میں انجام دئیےجائیں گے۔اس طرح جاری کردہ رقم واپس حکومت کےخزانے میں ہی جائے گی۔

بنڈی سنجے کمار،ٹی۔راجہ سنگھ اور رچنا ریڈی کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ اگرحکومت وقف بورڈ کے ذریعہ یہ رقم جاری نہ بھی کرواتی تو تبلیغی جماعت اجتماع کا یہ انعقاد ہر صورت میں منعقدہوتا۔کیونکہ اس کےانتظامات گزشتہ 6 ماہ سے بناء کسی حکومت کی امداد کے جاری ہیں حتیٰ کہ اجتماع گاہ کی تیاری کے لیے 6 ماہ قبل کسانوں اور زمینداروں سےجن میں مسلم،ایس سی،ایس ٹی اور بی سی طبقہ کے کسان شامل ہیں سے جملہ 130 ایکڑ زرعی اراضیات حاصل کی گئیں اور گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے علحدہ 50 ایکڑ اراضی حاصل کرتےہوئے کسانوں کو معاوضہ ادا کیا گیا کہ وہ اجتماع کے اختتام تک اپنی اراضیات پر کاشت کاری نہ کریں۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہوگا کہ تبلیغی جماعت کا سالانہ اجتماع ہر سال ماہ اکتوبر اور نومبر میں مدھیہ پردیش کے بھوپال میں منعقد ہوتا ہے۔دستیاب اطلاعات کے مطابق وہاں کی بی جے پی حکومت خود اس اجتماع کے انعقاد کے لیے اجازت دیا کرتی ہے اور ساتھ ہی انتظامات کے لیے باقاعدہ فنڈ بھی جاری کرتی ہے۔!! 

بی جے پی قائدین بنڈی سنجے کمار،راجہ سنگھ اور رچنا ریڈی کو یاد رہے کہ ریاست تلنگانہ دؤر نظام سے ہی گنگا جمنی تہذیب کی ایک اعلیٰ اور زندہ مثال رہی ہے۔نظام دؤر حکومت میں کئی منادر کے لیے اراضیات اور عطیات دینے کی تفصیلات تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہیں۔

ویکیپیڈیا کےمطابق نواب میر عثمان علی خان نے اپنے دؤر حکومت میں بھونگیر کی یادگیری گٹہ مندر کو 82 ہزار 825 روپئے،سیتا راما چندراسوامی مندر بھدراچلم کو 29 ہزار 999 روپئے اور ملک بھر میں مشہور تروپتی مندر کو 8 ہزار روپئے کے عطیات دئیے تھے۔اسی طرح نواب میر عثمان علی خان نے حیدرآباد کے پرانے شہر میں موجود سیتارام باغ کی مندر کی دوبارہ تعمیر و تزئین کے لیے 50 ہزار روپئے کاعطیہ تھا۔وہیں ورنگل میں موجود تاریخی ہزار ستون کی مندر کی تعمیر و تزئین کےلیے ایک لاکھ حیدرآبادی روپئے کا عطیہ دیا تھا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کی نمائندگی پر نواب میر عثمان علی خان نے اپنے دؤر حکومت میں امرتسر کے گولڈن ٹمپل کو بھی سالانہ گرانٹ جاری کی تھی۔

بات یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ نواب میرعثمان علی خان نے اپنے دؤرحکومت میں بنارس ہندو یونیورسٹی کو ایک کروڑ روپئے کا عطیہ تھا جبکہ اسی دؤران 5 لاکھ روپئےعلی گڑھ یونیورسٹی کو اور تین لاکھ روپئے انڈین انسٹیٹیوٹ آف سائنس کو بطور عطیہ دئیے تھے۔ویکیپیڈیا کےمطابق 1920 میں نواب میر عثمان علی خان نے اجنتہ اور ایلورہ کے غار جوکہ اس وقت ریاست حیدرآباد کا حصہ تھے کی سائنسی طریقہ سے ان کی دیکھ بھال، تحفظ،مرمت اور بحالی کےلیے اس وقت کے نامور ماہرین آثار قدیمہ لارنس سیسونی اوران کےاسسٹنٹ کےطور پر اورسینی کو مقرر کرتے ہوئے وہاں میوزیم کی تعمیر،سڑکیں بچھاتے ہوئے اسے سیاحتی مقام کے طور پر ترقی دی تھی جو کہ آج بھی جوں کا توں قائم ہیں۔

نفرت کے سوداگر اوربی جے پی قائدین تاریخ کے اؤراق کا کبھی کھلے دل و ذہن سے مطالعہ بھی کرلیا کریں جس میں یہ بات سنہری لفظوں میں موجودہے کہ 1965ء میں انڈیا۔چین کے درمیان ہوئی جنگ کےدوران اس وقت کے وزیراعظم لال بہادر شاستری نےحیدرآباد پہنچ کر نواب میر عثمان علی خان سے ملاقات کرتے ہوئے ڈیفنس فنڈ میں عطیہ کی اپیل کی تھی تب فوری نواب میر عثمان علی خان نے پانچ ٹن(پانچ ہزار کلو) سونا انڈین آرمی کو عطیہ دیا تھا۔جس کی قیمت آج بین الاقوامی مارکیٹ میں ایک ہزار 500 کروڑ روپئے ہوتی ہے۔

بنڈی سنجے کمار، راجہ سنگھ اور رچنا ریڈی کو ریاستی حکومت کی جانب سے وقف بورڈ کےفنڈ سے تبلیغی جماعت کو ڈھائی کروڑ روپئے کافنڈ جاری کیے جانے پر نفرت پھیلانے اور برادران وطن میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کا موقع مل گیا ہے جو ہمیشہ ان مواقعوں کی تاک میں رہتے ہیں۔بی جے  پی ترجمان رچنا ریڈی کا یہ الزام مضحکہ خیز ہے کہ 2020ء میں دہلی اور ملک میں کورونا وبا پھیلانے کی ذمہ دار تبلیغی جماعت ہے۔

ان کی کم عقلی اور کم ذہنی پر قہقہہ لگائیں یا افسوس کریں کہ اس معاملہ میں 21 اگست 2020ء کو ممبئی ہائی کورٹ کی اؤرنگ آباد بنچ نے کورونا پھیلانے کے الزامات کے تحت درج کردہ متعدد یف آئی آرز کو مسترد کرتے ہوئے ریمارک کیا تھا کہ ایک سیاسی حکومت اس وقت قربانی کا بکرا تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہے جب کوئی وبا یا آفت آتی ہے اور حالات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس بات کا امکان ہےکہ ان غیر ملکیوں کو قربانی کا بکرا بنانےکے لیے منتخب کیا گیاتھا۔غیر ملکی شہری وہ تھے جنہوں نے مارچ 2020ءمیں نئی دہلی میں تبلیغی جماعت کے مرکز نظام الدین کے ایک اجتماع میں شرکت کی تھی۔

تلنگانہ کے ان بی جے پی قائدین سے کوئی یہ پوچھے کہ کورونا وباء نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس میں افسوسناک طوپر کروڑں افراد لقمہء اجل بن گئےتھے تو وہاں کونسی جماعت نے کورونا پھیلایاتھا۔؟جس کا ڈھنڈورہ اس وقت گودی میڈیا نے بھی خوب پیٹا تھا؟

حکومت تلنگانہ نے حال ہی میں سمکا سارکا جاترا کے انتظامات کےلیے 75 کروڑ روپئے منظور کیے ہیں،وہیں وزیراعلیٰ ریونت ریڈی نے سرکاری سطح پر 25 ڈسمبر کو کرسمس تقاریب کے انعقاد کا اعلان کیا ہے یہ اس ریاست کی گنگا جمنی تہذیب اور قومی یکجہتی و آپسی بھائی چارگی کی ایک مثال ہےکہ اس پر کسی جانب سے بھی کوئی سوال نہیں اٹھائےگے تو بی جے پی کی اس نفرتی ٹولی کو کس نےحق دیا کہ وقف بورڈ جو کہ ایک مسلم ادارہ ہے کی جانب سے ڈھائی کروڑ روپئے کی منظوری پر ان کے پیٹ میں مروڑ شروع ہوگئی ہے اور کیوں برادران وطن کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرنے میں مصروف ہیں۔؟؟