” اسے روکیں یا ہم روکیں گے "
سی اے اے کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر
جرمانوں کے خلاف اترپردیش کی یوگی حکومت کو سپریم کورٹ کی سخت ہدایت
نئی دہلی: 11۔جنوری(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
مرکزی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ مخالف شہریت قانون CAA کے خلاف احتجاج کرنے والوں سے جائدادوں کو نقصان پہنچانے کے نام پر اتر پردیش کی آدتیہ ناتھ حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر جرمانوں کی وصولی اور جائدادوں کی ضبطی کے معاملہ میں ملک کی اعلیٰ عدالت نے آج ایک بار پھر آدتیہ ناتھ اور ان کی ٹیم کو پھٹکار پلائی ہے۔
معزز سپریم کورٹ نے آج اترپردیش حکومت کو سخت ہدایت دی ہے کہ اس عمل کو فوری طور پر روک دیں۔ساتھ ہی متنبہ کیا ہے کہ اگر نہیں روکا گیا تو وہ خود اس کو روک دیں گے۔
سپریم کورٹ نے آج جمعہ کو اس معاملہ میں اترپردیش حکومت کو دسمبر 2019 میں سی اے اے مخالف مظاہرین کو جاری کیے گئے "ریکوری نوٹسز ” پر کارروائی کرنے پرسخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے کارروائی واپس لینے کا ایک آخری موقع دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وہ خود قانون کی اس خلاف ورزی کی کارروائی کو منسوخ کر دے گی۔
سپریم کورٹ کی معزز جسٹس ڈی وائی چندراچوڑ اورجسٹس سوریہ کانت پرمشتمل دو رکنی بنچ نے کہا کہ دسمبر 2019 میں شروع کی گئی یہ کارروائی سپریم کورٹ کے وضع کردہ قانون کے خلاف ہے اور اسے برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
ان دونوں معزز ججوں نے ریمارک کیا کہ اتر پردیش حکومت نے ملزمین کی جائیدادوں کو ضبط کرنے کی کارروائی کرتے ہوئے خود ہی ایک شکایت کنندہ،پاسیکیوٹر اور جج کی طرح کام کیا ہے۔بنچ نے کہا کہ اس کارروائی کو واپس لیں یا ہم اس عدالت کے ذریعہ وضع کردہ قانون کی خلاف ورزی کی وجہ سے اسے منسوخ کر دیں گے۔
سپریم کورٹ پرویز عارف ٹیٹو کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی جس میں اتر پردیش میں شہریت ترمیمی قانون ایکٹ(سی اے اے)مخالف مظاہروں کے دؤران عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی وصولی کے لیے ضلع انتظامیہ کی طرف سے مبینہ مظاہرین کو بھیجے گئے نوٹسز کو منسوخ کرنے کی عدالت سے استدعا کی گئی تھی۔اورریاست سے اس کا جواب طلب کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔
سپریم کورٹ میں داخل کی گئی اس درخواست میں معززعدالت کو واقف کروایا گیا تھا کہ”ریکوری نوٹس”ایک ایسے شخص کے خلاف من مانی طریقہ سے بھیجی گئی ہے جن کا 6 سال قبل 94 سال کی عمرمیں انتقال ہوچکا ہے۔اور ان کے علاوہ کئی دیگر افراد کو بھی ایسی نوٹسیں روانہ کی گئی ہیں جن کی عمریں 90 سال سے زیادہ ہیں۔
اترپردیش حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل محترمہ گریما پرشاد نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ریاست میں 833 فسادیوں کے خلاف 106 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔اور ان کے خلاف 274 ” ریکوری نوٹس” جاری کی گئی ہیں۔ان میں سے 38 کیس کو بند کردیا گیا اور 236 کو جرمانے ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ 2020 میں وضع کردہ نئے قانون کے تحت کلیم ٹربیونلز تشکیل دئیے گئے ہیں جن کی سربراہی ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج کر رہے ہیں۔اور اس سے قبل اس کی سربراہی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس (اے ڈی ایم)کرتے تھے۔
جس پر سپریم کورٹ کی معزز بنچ نے استفسار کیا کہ”سپریم کورٹ نے 2009 اور 2018 میں دو فیصلے سنائے ہیں،جس میں کہا گیا تھا کہ کلیم ٹربیونلز میں جوڈیشل افسران کی تقرری کی جانی چاہیے لیکن اس کےبجائے آپ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹس مقرر کیے۔!”
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل حکومت اترپردیش محترمہ گریما پرشاد نے کہا کہ شہریت ترمیمی قانون(سی اے اے) مخالف مظاہروں کے دوران 451 پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور متوازی مجرمانہ کارروائی اور بازیابی کی کارروائیاں چلائی گئیں۔دورکنی معزز بنچ نے کہا کہ ” آپ کو قانون کے تحت مقررہ قواعد پرعمل کرنا ہوگا۔اس کی جانچ کریں،ہم 18 فروری تک ایک موقع دے رہے ہیں”۔
جسٹس سوریہ کانت نے کہا”میڈم پرشاد،یہ صرف ایک تجویز ہے۔یہ عرضی صرف دسمبر 2019 میں بھیجے گئے نوٹسز کے ایک سیٹ سے متعلق ہے،جو کہ ایک قسم کی تحریک یا احتجاج کے سلسلہ میں ہے۔آپ انہیں قلم کے زور سے واپس لے سکتے ہیں۔اترپردیش جیسی بڑی ریاست میں 236 نوٹسوں کو واپس لینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔” اگر آپ سننے والے نہیں ہیں تو نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں”۔ہم آپ کو بتائیں گے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔”
معزز جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ نے کہا کہ”جب اس عدالت نے یہ ہدایت دی تھی کہ فیصلہ ایک عدالتی افسر کو کرنا ہے تو پھر اے ڈی ایم کیسے کارروائی کر رہے ہیں۔”جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل محترمہ پرشاد نے ٹریبونل کی تشکیل پر 2011 میں جاری ایک سرکاری حکم کا حوالہ دیا اور کہا کہ اسے ہائی کورٹ نے اپنے بعد کے احکامات میں منظور کیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ریاست نے 31 اگست 2020 کو اتر پردیش ریکوری آف ڈیمیجز ٹو پبلک اینڈ پرائیویٹ پراپرٹی ایکٹ کو نافذ کیا ہے۔
جس پر معزز جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ حکومتی حکم نامہ کو ہائی کورٹ نے 2011 میں مسترد کردیا تھا اور اس وقت ریاست نے ایک قانون لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن ریاست کو قانون لانے میں 8-9 سال لگے۔
معزز جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ ہم 2011 میں سمجھتے ہیں،آپ اس وقت وہاں نہیں تھیں لیکن آپ غلطیوں کو اچھی طرح سے درست کر سکتی تھیں۔”
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل حکومت اترپردیش محترمہ گریما پرشاد نے کہا کہ تمام ملزمان جن کے خلاف ریکوری نوٹس جاری کیے گئے تھے اب ریاستی ہائی کورٹ کے سامنے ہیں اور طویل سماعتیں ہو چکی ہیں۔انہوں نے کہا کہ فسادیوں کے خلاف یہ کارروائیاں 2011 سے ہورہی ہیں اور اگر عدالت ان”سی اے اے مخالف کارروائیوں کو ایک طرف کر دیتی ہے تو یہ سب راحت حاصل کریں گے”۔
جس پر معزز جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ نے کہا کہ”ہمیں دیگر کارروائیوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ہمارا تعلق صرف ان نوٹسز سے ہے جو دسمبر 2019 میں سی اے اے کے احتجاجیوں کے خلاف بھیجے گئے ہیں”۔آپ ہمارے احکامات کو نظرانداز نہیں کر سکتے۔آپ اے ڈی ایمز کی تقرری کیسے کر سکتے ہیں؟ جب کہ ہم نے کہا تھا کہ یہ جوڈیشل افسران کو ہونا چاہیے۔معزز جسٹس ڈی وائی چندرا چوڑ نے کہا کہ” دسمبر 2019 میں جو بھی کارروائی ہوئی وہ اس عدالت کے وضع کردہ قانون کے خلاف تھی”۔
سپریم کورٹ کی اس دو رکنی بنچ نے کہا کہ”ہم قانون سازی سے پہلے کی گئی کارروائی کو نئے قانون کے تحت اختیار کرنے کی آزادی کے ساتھ منسوخ کر دیں گے۔جو کارروائی زیر التوا ہے وہ نئے قانون کے تحت ہوگی۔آپ اگلے جمعہ کو ہمیں بتائیں کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں اور ہم کریں گے۔اس معاملے کو احکامات کے لیے بند کر دیں گے”۔ محترمہ پرشاد نے کہا کہ عدالت جو بھی کہے گی اس پر غور کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ سال 9 جولائی کو سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی تھی کہ وہ ریاست میں سی اے اے مخالف مظاہروں کے دوران عوامی املاک کو پہنچنے والے نقصانات کی وصولی کے لیے ضلع انتظامیہ کے ذریعہ مبینہ مظاہرین کو بھیجے گئے پہلے نوٹس پر کارروائی نہ کرے۔تاہم ریاست قانون کے مطابق اور نئے قوانین کے مطابق کارروائی کر سکتی ہے۔

