سری لنکا کے صدارتی محل پر عوام کا قبضہ، صدر گوٹابایاراج پکشے فوج کی پناہ میں،وزیراعظم نے بھی دیا استعفیٰ

وقت کی ٹھوکر میں ہے کیا حکومت کیا سماج!

سری لنکا کے صدارتی محل پر عوام کا قبضہ،صدر راج پکشے فوج کی پناہ میں
لاکھوں مظاہرین محل میں داخل، وزیراعظم نے بھی دیا استعفیٰ
جزیرہ کے اقتصادی بحران میں مزید شدت،احتجاج کے تین ماہ مکمل

کولمبو/نئی دہلی:9۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

شدید معاشی اور اقتصادی بحران اور حکومت کی نااہلی کے خلاف عوام کے تین ماہ طویل احتجاج کے بعد سری لنکا میں آج لاکھوں احتحاجی مظاہرین کولمبو میں موجود صدارتی محل میں داخل ہوگئے اور اس پر قبضہ کرلیا۔جس کے بعد سری لنکا کے صدر گوٹابایا راج پکشے فوج کی حفاظت میں صدارتی محل سے فرار ہوگئے۔

بی بی سی کے مطابق محکمہ دفاع سے منسلک ایک سینئیر عہدیدار نے خبر رساں ادارہ اے ایف پی کو بتایا ہے کہ صدر کومحفوظ مقام پر لے جایا گیا ہے۔گوٹابایا راج پکشے اب بھی سری لنکا کے صدر ہیں اور فوجی یونٹ ان کی حفاظت کر رہا ہے۔تاہم ابھی تک صدر پکشے کہاں ہیں ان سے متعلق کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے۔

ڈیلی مرر کی اطلاع کے مطابق آج ہفتہ کی صبح احتجاجی مظاہرین کو صدارتی رہائش گاہ میں داخل ہونےسے روکنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا،پانی کی توپیں اور گولیاں چلائیں۔تاہم مظاہرین پولیس کی جانب سے کھڑی کی گئیں تمام رکاوٹوں کو رؤندتے ہوئے صدارتی رہائش گاہ میں داخل ہو گئے۔مظاہرین کی ریالیوں کے دؤران پولیس اور مظاہرین کےدرمیان پرتشدد جھڑپیں بھی ہوئیں جس میں سینکڑوں مظاہرین کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے زخمیوں کو کولمبو کے نیشنل ہسپتال کے علاوہ دیگر ہسپتالوں کولمبو کو منتقل کیا گیا۔

یہاں یہ تذکرہ غیر ضروری نہ ہو گا کہ جزیرہ نما سری لنکا جو کہ شدید معاشی و اقتصادی بدحالی کاشکارہوگیا تھا۔جہاں مہنگائی،بیروزگاری اور سرمایہ کاروں کی پشت پناہی کے خلاف 9 اپریل کو نوجوانوں نے احتجاج شروع کرتے ہوئے وسطی کولمبو میں گال فیس پرمنیڈ میں داخل ہوئے اور راجا پاکشے کے صدارتی دفتر کے داخلی دروازے کو مسدود کرتے ہوئے وہاں ڈیرے ڈال دئیے تھے۔

انہوں نے اس جگہ کو GGG "گوٹا گو گاما (گاؤں) کا نام دے کراپنی احتجاجی سرگرمیوں میں شدت پیدا کی تھی۔حکومت مخالف اس احتجاجی مظاہروں میں سری لنکا کے ایکٹرس سے لے کر کرکٹرس تک مزدوروں سے لے کر ڈاکٹرس تک،مذہبی رہنما،سیاسی جماعتوں،اساتذہ، کسان،ماہی گیر اور سماجی کارکن شامل ہیں سڑکوں پر اتر کر تائید کی۔

اس تین ماہ طویل احتجاج نے سری لنکا کی سیاست کوبھی الٹ پلٹ کر رکھ دیا۔یہ ایک عجیب اتفاق بھی ہے کہ 9 اپریل کو شروع کردہ اس احتجاجی مظاہروں کا جس میں ملک کے تمام طبقات،تمام تنظیموں نے حصہ لیا تھا میں آج 9 جولائی کو اس شدت پیدا ہوگئی جب احتجاجیوں نے صدارتی محل میں داخل ہوکر قبضہ کرلیا۔یعنی تین ماہ کے عرصہ میں کبھی مختلف سرکاری ہتھکنڈوں کا شکار ہوکر اپنے سر پر بٹھانے والے عوام نے اپنے ہی صدر کو بغیر چپل کے صدارتی محل سے آج بھاگنے پر مجبور کردیا!!۔

یاد رہے کہ اس احتجاجی مظاہروں کی شدت کو دیکھتے ہوئے 9 مئی کو سری لنکا کے وزیراعظم مہنداراجا پکشے (76سالہ) جوکہ صدر سری لنکا گوٹابایا راجا پکشے کے بھائی ہیں نے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔اور ان کی جگہ اپوزیشن جماعت کے سیاست دان رانیل وکرما سنگھے نے لے لی تھی۔لیکن ملک کے معاشی حالات سدھرنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔

سری لنکا میں تمام اشیائے ضروریہ کی شدید ترین قلت ہوگئی ہے 2.19 کروڑ آبادی کے حامل قدرتی وسائل اور خوبصورت و سیاحتی جزیرہ نما سری لنکا کےحالات اور اس کی حکومت کی نااہلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کے پاس نہ سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے پیسہ ہے اور نہ بجلی پیدا کرنے کے لیے کوئلہ موجود ہے۔میڈیا اطلاعات کے مطابق آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ سری لنکا میں دودھ کی فی لیٹر قیمت 2،000 روپئے تک پہنچ گئی ہے،جبکہ چاول 800 روپئے فی کلو،شکر 300 روپئے فی کلو تو نمک کا ایک پیاکٹ 400 روپئے میں مل رہا ہے۔ 

اس عوامی احتجاج کے دؤران صدر سری لنکا گوٹابایا راجا پکشے نے یکم اپریل سے 7 مئی تک پانچ مرتبہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تھی اور کرفیو بھی نافذ کیا گیا پھر بھی احتجاج کی شدت میں میں کمی نہیں آئی۔اس احتجاج کے دؤران زائد از دو درجن احتجاجی ہلاک اورسینکڑوں زخمی ہوئے

سری لنکا کے موجودہ حالات اور حکومت کے خلاف عوامی مظاہرے نامور شاعر ندا فاضلی کی اس غزل پر صادق آتے ہیں کہ؎
 
ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو
اگر نہ ہو کہیں ایسا تو احتجاج بھی ہو
٭٭
رہے گی وعدوں میں کب تک اسیر خوشحالی
ہر ایک بار ہی کل کیوں کبھی تو آج بھی ہو
٭٭
نہ کرتے شور شرابہ تو اور کیا کرتے
تمہارے شہر میں کچھ اور کام کاج بھی ہو
٭٭
حکومتوں کو بدلنا تو کچھ محال نہیں
حکومتیں جو بدلتا ہے وہ سماج بھی ہو
٭٭
بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں میں
مرض پرانا ہے اس کا نیا علاج بھی ہو
٭٭