اتر اکھنڈ میں مذہبی منافرت کو شرمناک شکست، مسلمان پرولا واپس ہورہے ہیں، کاروبار کا بھی آغاز ، عام زندگی بحال

اتر کاشی میں مسلم مخالف مہم اور مذہبی منافرت کو شرمناک شکست
مسلمان پرولا واپس ہو رہے ہیں، کاروبار کا بھی آغاز، عام زندگی بحال
معاملہ کو لؤجہاد قرار دے کر منافرت پھیلانے کا شکایت کنندہ کا الزام

دہرہ دون : 19/جون
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

تاریخ گواہ ہےکہ نفرت اور جھوٹ کی عمر بہت چھوٹی ہوتی ہے۔اس کا مقدر ہمیشہ ذلیل ہونا ہی ہوتا ہے۔یہی حال پہاڑی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع اترکاشی کے پرولا میں بھی مذہبی منافرت کا ہوا ہے۔جہاں گذشتہ ماہ سے لؤجہاد اور زمین جہادکے نام پر (جو کہ گودی میڈیا کی جانب سے پھیلایا جا رہا زہر اور اس کے سڑے ہوئے ذہن کی اختراع ہے)مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا تھا اورخوفزدہ مسلمان پرولا سے نقل مکانی پر مجبور ہوگئے تھے۔

خوفزدہ مسلمانوں کی بند دکانات پر باقاعدہ پوسٹرز لگائے گئے تھے کہ 15 جون کو ہونے والی مہا پنچایت سے قبل مسلمان سارا علاقہ چھوڑ دیں ورنہ نتائج کے وہ خود ذمہ دارہونگے۔اس معاملہ میں گودی میڈیا نوئیڈا میں بیٹھ کر جہاں گھی ڈال کر آگ کو مزید تیز کرنے میں مصروف تھا وہیں آزاد و غیرجانبدارصحافیوں کی ساری ٹیم اور سوشل میڈیا پر کھلے ذہن کےبرادران وطن ان دائیں بازو کی شدت پسندتنظیموں پر شدیدتنقید کررہے تھے۔

یہ معاملہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ بھی پہنچا۔جس کے بعد اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت خواب خرگوش سے جاگی،زائد پولیس فورس کو میدان میں اتارا اور مہا پنچایت کی اجازت نہ دیتے ہوئے 19 جون تک دفعہ 144 نافذ کرتےہوئے احتجاجی مظاہروں کی اجازت نہیں دی۔ جو مسلمان پرولا سے چلے گئےتھے انہیں مکمل تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کرتےہوئے واپس آنے کی اپیل کی۔جبکہ 18 جون کومسلمانوں نے بھی مہاپنچایت کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔

حکومت،غیر جانبدارصحافیوں اور مقامی برادران وطن کی کوششوں کا بہترین اثر یہ ہواکہ مسلمان پرولا واپس لوٹ رہےہیں اور باقاعدہ انہوں نے اپنی دکانیں بھی کھول دی ہیں اوربرادارن وطن کی بڑی تعداد حسب معمول ان سے خریر و فروخت میں مصروف ہوگئی ہے۔

قومی آواز کی رپورٹ کےمطابق اترکاشی ضلع کے پرولا میں گذشتہ ماہ پیش آئے واقعہ میں ایک ہندو لڑکے اور لڑکی کے پیار کےمعاملہ کو لو جہاد قرار دیا گیاکیونکہ ان کا ایک دوست مسلمان ہے اور وہ ان دونوں کے ساتھ سیر کرنے چلا گیاتھا۔26 مئی کوجب یہ تینوں پرولا بازار کے قریب سیر کے لیےگئےتھے تو کچھ لوگوں نے انہیں گھیرلیا اور ہنگامہ برپا کردیا اور الزام عائد کیاکہ انہوں نےنابالغ لڑکی کو لوجہاد میں پھنساکر بھگایاہے۔اس معاملہ میں ان دونوں لڑکوں کو اسی وقت پولیس نے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔

قومی آواز کےمطابق اس معاملہ میں خاص بات یہ ہےکہ نابالغ لڑکی کےساتھ پکڑے گئے دو نوجوانوں میں سے ایک ہندو لڑکا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے عشق میں گرفتار تھے۔جتیندر سینی نام کا یہ نوجوان بجنور کا رہنے والا ہے۔ پرولا میں جتیندر کی دکان کے بالکل سامنے بجنور کے عبید خان کی بھی ایک دکان ہے۔دونوں اچھے دوست ہیں،محبت کے اس معاملہ میں عبید خان صرف ایک ساتھی کا کردار ادا کر رہا تھا۔لیکن اس پورے واقعہ میں صرف مسلمانوں کے خلاف ہی محاذ کھولا گیا۔

اس واقعہ کے دوسرے ہی دن تمام ہندوتنظیمیں سرگرم ہو گئیں۔28 مئی کو پرولا میں ایک بڑا جلوس منظم کیا گیا۔مسلم برادری کے لوگوں کی دکانیں بند تھیں۔ہندو رکھشا ابھیان نامی تنظیم کا ایک پوسٹر ان دکانوں پر چسپاں کردیا گیا تھا جس میں انہیں خبردار کیا گیا تھا کہ وہ 15 جون تک پرولا کو خالی کر دیں۔ساتھ ہی بند دکانات کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

3،000 کی آبادی والے پرولامیں زائداز 400 دکانات میں مسلمانوں کی زائداز 45 دکانات ہیں۔ان میں بنیادی طور پر ملبوسات کی دکانیں،ہیئر سیلون ،فرنیچر کی دکانات وغیرہ شامل ہیں۔اور یہ دکانیں 28 مئی سے بند تھیں۔مسلم برادری کے زیادہ تر لوگ راتوں رات پرولا سے بھاگ گئے تھے۔26 مئی کو یہ واقعہ منظر عام پر آنے کے بعد ہی بنیادی طور پر ہندو رکھشا ابھیان نامی تنظیم اس معاملے میں کود پڑی۔سوامی درشن بھارتی اس تنظیم کے کرتا دھرتا ہیں۔انہوں نے 28 مئی کو پرولا میں ایک بڑی ریلی منظم کی اور 15 جون کو مہا پنچایت کا اعلان کیا تھا۔

جسےبعد میں ضلع انتظامیہ نےمسترد کر دیاتھا۔ 5 جون کو دفعہ 153-A (مختلف گروپوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)،تعزیرات ہند(آئی پی سی) کی 506 (مجرمانہ دھمکی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا،لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

چاروں جانب سے مخالفت اور سوشل میڈیا کے ردعمل کے بعد اب پرولا میں یہ نفرت کی آگ بجھ گئی ہے۔ہندو۔مسلم پہلے کی طرح ساتھ مل کر رہنے لگے ہیں۔اسی دوران دکانوں کے ایک غیرمسلم مالک نےہندو شدت پسندوں سے جم کربحث کرتےہوئے انہیں وہاں سے بھگادیا۔

دوسری جانب ہندوستان ٹائمز کے مطابق جس لڑکی کے چا چا نے پرولا پولیس میں شکایت درج کر وائی تھی ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملہ کو کبھی بھی لوجہاد نہیں کہا تھا جیسا کہ لوجہاد کے نام پر ہنگامہ ارائی کرتے ہوئے پرامن اور خوبصورت ریاست میں موجود امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کی گئی۔شکایت کنندہ لڑکی کے چاچا جو کہ ٹیچر بتائے گئے ہیں کا کہناہے کہ جب کوئی اس معاملہ میں مذہبی زاویہ موجود ہی نہیں ہے تو اسے فرقہ وارانہ رنگ دیا جا رہا ہے۔؟

نیوز لانڈری کی رپورٹ کے مطابق اس سارے واقعہ کو لوجہاد کا رنگ دے کر اکسانے میں ایک مقامی صحافی انیل اسوال ملوث ہے۔جو کہ بی بی سی خبر کے نام سے ایک ویب سائٹ چلاتا ہے،جس کا بی بی سی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ آر ایس ایس اور اے بی وی پی سے وابستہ ہے۔اسی نے لڑکی کے چاچا کو لوجہاد پرمشمل شکایت لکھ کر دی تھی کہ جس میں صرف عبید خان کا نام درج کیا گیا تھا اور دوسرے لڑکے اجیت سینی کو منظر سے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔

انہوں نے ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ کے ایک گھنٹہ بعد ہی اسے فرقہ وارانہ مسئلہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ دائیں بازو کے کارکنوں نے اپنے طور پر ان کی جانب سے ایک پولیس شکایت بھی تیار کی تھی لیکن پولیس نے اسے قبول نہیں کیا۔انہوں نےکہا کہ یہ کبھی لو جہاد کا کیس نہیں تھا بلکہ ایک باقاعدہ جرم تھا۔جنہوں نے اس کا ارتکاب کیا وہ سلاخوں کے پیچھے ہیں۔عدلیہ اب فیصلہ کرے گی۔

پرولا واقعہ پر اتر اکھنڈ کانگریس کے سربراہ کرن مہارا نے اتوار کو کہا کہ وہ پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ حکمراں بی جے پی اور اس سے جڑی تنظیمیں پرولا کیس کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہیں۔یہ بدقسمتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس دائیں بازو کی تنظیمیں اس وقت مکمل خاموش رہی تھیں جب اترا کھنڈ کے پوری گڑھوال کے ایک ریسارٹ میں 19 سالہ ریسپشنسٹ کومبینہ طور پر VIPمہمانوں کو اضافی خدمات فراہم کرنے سے انکار کرنے پر قتل کر دیا گیا تھا۔سابق وزیر ونود آریہ کے بیٹے پلکت آریہ اس ریسارٹ کا مالک ہے اور وہ اس کیس کے ملزمین میں سے ایک ہے۔

"اتر اکھنڈ : اتر کاشی کے پرولا معاملہ پر نامور و بےباک صحافی ساکشی جوشی کےاس ویڈیو میں پرولا کے موجودہ حالات کی پیشکش "

https://www.facebook.com/sakshijoshi85/videos/806788607360420

 

" پرولا واقعہ کی تفصیلی رپورٹ اور ویڈیوز سحر نیوز کی اس لنک پر

اتر اکھنڈ میں مذہبی منافرت کا پھیلتا زہر، مسلمانوں کے خلاف شدت پسندوں کی مہم، اترکاشی کا پرولا 15جون تک چھوڑنے کی دھمکی