یوکرین سے سلوواکیہ میں داخل ہونے والےتلنگانہ کےسات طلبہ
بحفاظت حیدرآباد پہنچ گئے،تانڈور کی مدیحہ انم بھی شامل
جذبات سے مغلوب والدین نے ایرپورٹ پر استقبال کیا
حیدرآباد/وقارآباد: 03۔مارچ (سحرنیوزڈاٹ کام)
روس کی جانب سے تھوپی گئی جنگ سے متاثرہ یوکرین میں پھنسے ہوئے 189 ہندوستانی طلبہ بس یوکرین کے پڑوسی ملک سلوواکیہ میں داخل ہوئے تھے۔جہاں کل شام مرکزی وزیرقانون و انصاف مسٹر کرن رجیجو نے سلوواکیہ میں ان سے ملاقات کرنے کے بعد بتایا تھا کہ یہ طلبہ آج رات ہی ہندوستان کے لیے روانہ کیے جائیں گے۔
اس طرح ان طلبہ کا قافلہ گزشتہ رات دس بجے سلوواکیہ سے اسپائس جیٹ کی فلائٹ ایس جی 9524 کے ذریعہ روانہ ہوا اورآج جمعرات کی صبح 6؍بجے دہلی پہنچا۔سلوواکیہ سے ہندوستان پہنچنے والے ان طلبہ میں سات کا تعلق ریاست تلنگانہ سے ہے جو کہ آج دوپہر45-12 بجے وسٹارا کی فلائٹ یوکے 859 کے ذریعہ حیدرآباد کے راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچے جہاں ان کے والدین اور رشتہ داروں نے فرط مسرت سے ان کا استقبال کیا۔
طلبہ نے بتایا کہ دہلی میں موجود حکومت تلنگانہ کے قائم کردہ ہیلپ سنٹر کے ذریعہ انہیں حیدرآباد روانہ کیا گیا ہے۔حیدرآباد پہنچنے والے ان طلبہ میں مدیحہ آنم ،لکھیتا،آکاش،جانس،دشیانت،راج کماری سائی منی کنٹا شامل ہیں۔یوکرین سے سلوواکیہ پھر دہلی سے حیدرآباد پہنچنے والے ان طلبہ میں تانڈور کی ساکن 23 طالبہ مدیحہ انم بھی شامل ہیں جن کا تعلق تانڈور کےعسکری لین علاقہ سے ہے۔

آج بحفاظت حیدرآباد پہنچنے پر ایرپورٹ پر ان کے والدمحمد فیاض علی(رحمن) والدہ عابدہ پروین،ماموں سیدمسعود احمد اور دیگر رشتہ داروں نے فرط مسرت سے ان کا استقبال کیا جن کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے کہ ان کی لڑکی جنگ زدہ ملک سے سلامت لوٹ آئیں۔
مدیحہ انم جون 2019 میں یوکرین روانہ ہوئی تھیں اور وہ یوکرین کی ایوانوفرانسکلی یونیورسٹی میں میڈیکل کے چوتھے سال میں زیرتعلیم تھیں۔
مدیحہ انم جنوری 2021 میں یوکرین سے اپنے گھر آئی تھیں بعدازاں وہ جون 2021 میں یوکرین واپس چلی گئیں۔مدیحہ انم کے ماموں و ٹی آر ایس قائد سیدمسعود احمد نے انکشاف کیا کہ مدیحہ انم یکم مارچ کو ہندوستان واپس ہونے والی تھیں ان کی فلائٹ ٹکٹ بھی بک ہوگئی تھی تاہم اس سے قبل 24 فروری کو روس نے یوکرین پر حملہ کردیا۔

