بٹوارے کا کرب!!
بچھڑے لوگوں سے کبھی ملاقات پھر ہوگی
دِِل میں امید تو کافی تھی یقین کچھ کم تھا
تقسیم کے وقت الگ ہونے والے دو بھائیوں کی 74 سال بعد جذباتی ملاقات
اسلام آباد : 13۔جنوری
(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)
پاکستانی میڈیا اطلاعات کے مطابق کل چہارشنبہ کو 1947میں ملک کی تقسیم اور پاکستان کے قیام کے دوران الگ ہوجانے والے دو بھائی 74 سال بعد بالآخر کرتار پور میں دوبارہ مل گئے۔ان دونوں بھائیوں کے ایک طویل عرصہ کے بعد ہونے والی جذباتی ملاقات کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔

دی نیوز انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے فیصل آباد کے رہائشی صدیق نے اپنے بڑے بھائی حبیب سے ملاقات کی جو کہ کرتارپور کوریڈور کے ذریعے بھارت کے پنجاب کے علاقے پھولنوال سے کرتارپور پہنچے تھے جو پاکستان میں گردوارہ دربار صاحب کو بھارت کی سرحد سے ملاتا ہے۔صدیق ملک کی تقسیم کے وقت ایک شیر خوار تھے جب ان کا خاندان تقسیم ہوگیا اور ان کے بڑے بھائی حبیب تقسیم ہند کی سرحدی کی لکیر کھینچے جانے کے وقت ہندوستان میں پلے بڑھے تھے۔
ٹوئٹر پر Manpreet Singh@ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے ” میں مانتا ہوں کہ میں رویا”کے کیاپشن کے ساتھ ان دونوں بھائیوں صدیق صاحب اور حبیب صاحب کی گردوارہ میں ہونے والی انتہائی جذباتی ملاقات کے موقع پر لیا گیا دلنشین ویڈیو پوسٹ کیا گیا ہے۔
ملک کے بٹوارے کا کرب جھیلنے والے ان دونوں بھائیوں کی 74 سال بعد دوبارہ ملاقات والے اس جذباتی ویڈیو کو ایک ہی دن میں اب تک 4،91،000 سے زائد ٹوئٹر صارفین نے دیکھا ہے۔جبکہ اس ویڈیو کو 23،000 سے زائد صارفین نے لائیک کیا ہے وہیں 5،400 صارفین نے ری ٹوئٹ کیا ہے۔اس ویڈیو پر کئی ٹوئٹر صارفین نے اچھوتے اور دلچسپ کمنٹس کیے ہیں۔
https://twitter.com/mjassal/status/1481084354780614656
جبکہ حیرت انگیز طور پر انسٹاگرام پر Ghanta@ نامی آئی ڈی سے پوسٹ کیے گئے اسی ویڈیو کو 50 لاکھ سے زائد انسٹاگرام صارفین نے دیکھا ہے اور 6،14،771 صارفین نے اس ویڈیو کو لائیک کیا ہے کرتے ہوئے 3،935 کمنٹس کیے ہیں۔
صدیق صاحب اور حبیب صاحب کی 74 سال بعد ملاقات ایک جذباتی لمحہ تھا اس موقع پر دونوں بھائی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ایک دوسرے سے گلے مل کر روپڑے اور اپنی پرانی یادیں تازہ کرتے ہوئے خوشی کے آنسو بہائے۔اپنے چھوٹے بھائی صدیق سے ملاقات کے دوران پاکستان میں مقیم ان کے بڑے بھائی حبیب نے کرتار پور کوریڈور کو دوبارہ کھولے جانے کے اقدام کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ اس راہداری نے انہیں اپنے بھائی سے دوبارہ ملانے میں مدد کی۔

دی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق حبیب نے اپنے چھوٹے بھائی صدیق سے وعدہ کیا کہ وہ اس کرتاپور کوریڈور کے ذریعہ ان سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔رپورٹس کے مطابق ان دونوں بھائیوں صدیق اور حبیب نے کرتارپور کوریڈور کو دوبارہ کھولنے پر بھارت اور پاک حکومتوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس کوریڈور کے ذریعہ بغیر ویزا کے لزوم کے کرتار پور تک سفر کی سہولت دی جائے۔
یاد رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت والی ہندوستانی حکومت نے ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے نومبر 2019 میں کرتار پور کوریڈور کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔4.7 کلومیٹر طویل کرتار پور کوریڈور کو کورونا وبا کے دؤران بند کر دیا گیا تھا۔جسے دوبارہ 17 نومبر 2021ء کو کھول دیا گیا تھا۔کرتار پور کوریڈور سرحد کے ہندوستانی جانب ڈیرہ بابا نانک صاحب گردوارہ کو اور پاکستان میں گردوارہ دربار صاحب سے جوڑتا ہے۔

