مہاراشٹرا : پونہ کے ایک اسکول کے پرنسپل پر ہندوتوا گروپ کے ارکان کا حملہ، پرنسپل کا شرٹ پھاڑکر دؤڑایا گیا

مہاراشٹرا : پونہ کے ایک اسکول کے پرنسپل پر ہندوتوا گروپ کے ارکان کا حملہ
پرنسپل کا شرٹ پھاڑکر دؤڑایا گیا، پولیس تحقیقات میں مصروف، ویڈیو وائرل

ممبئی : 06۔جولائی
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

مہاراشٹر کے پونےضلع کے ایک اسکول کے پرنسپل پر مبینہ طور پر ہندوتواتنظیم بجرنگ دل کے کارکنوں نے منگل کے دن حملہ کیا جنہوں نے دعویٰ کیا کہ طلبا کو عیسائی دعا گانے کے لیے کہا گیا تھا۔انہوں نے لڑکیوں اور لڑکوں کے واش رومز کے درمیان گزرنے والے راستہ پر کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن کیمرے (سی سی کیمروں) پر بھی اعتراض کیا۔

اس واقعہ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ بڑے پیمانے پر وائرل ہوا ہے۔اس ویڈیو میں پونے کے تالے گاؤں دبھاڈے میں ڈی وائی پاٹل ہائی اسکول کے پرنسپل الیگزینڈر کوٹس ریڈ کو” ہر ہر مہادیو ” کےنعرےلگاتےہوئے ایک ہجوم کےذریعہ پیچھاکرتےہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ پرنسپل الیگزنڈر ریڈ عمارت کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ایک پھٹی ہوئی قمیض میں نظر آ رہے ہیں۔

ہجوم میں شامل ایک شخص پھر ان پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن دوسرے اسے روک دیتے ہیں۔بعد ازاں وہ پرنسپل اپنی پھٹی ہوئی شرٹ اور ایک ہاتھ پر چسپاں پھٹا ہوا آستین نکال کر اسٹاف کو دیتے ہوئے اپنی گھڑی نکال کر پینٹ کی جیب میں رکھ لیتے ہیں۔ اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جب پرنسپل آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہجوم میں سے چند انہیں حکم دیتے ہیں کہ رک یہیں رُک۔!!

انگریزی ویب سائٹ اسکرول ڈاٹ ان نے ایم آئی ڈی سی تلے گاؤں علاقے کے پولیس انسپکٹر رنجیت ساونت کے حوالہ سے لکھا ہے کہ چند والدین نے ہندوتواتنظیم سےتعلق رکھنے والے ایک گروپ کے ساتھ مل کر پرنسپل الیگزینڈر کوٹس ریڈ پرحملہ کیا اور ان کے کپڑے پھاڑڈالے۔ پولیس انسپکٹر رنجیت ساونت نے کہا کہ جس کیمرہ پر انہوں نے اعتراض کیا تھا وہ کیوبیکلز کے اندر نہیں تھا بلکہ "راہداری میں ” تھا۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ طلباء کو ہرصبح ایک عیسائی دعا گانے کےلیے کہا جاتا تھا۔انسپکٹر رنجیت ساونت نے کہا کہ یہ ایک عام دعا ہے جس کا آغاز اوہ لارڈ سے ہوتا ہے۔جبکہ والدین نے کہا کہ یہ بائبل کی آیت ہے۔لیکن دعا میں کچھ بھی نہیں ہے جو تبدیلی یا بائبل سے کسی چیز کا اشارہ دیتا ہو۔پولیس انسپکٹر نے کہا کہ حکام والدین کی جانب سے داخل کی گئی شکایت کی بنیاد پر اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

اسکول انتظامیہ نے شکایت درج نہیں کروائی ہے۔انہوں نے کہاکہ ہم پرنسپل پر حملہ کرنے والوں کے خلاف احتیاطی کارروائی کر سکتے ہیں۔اسکول انتظامیہ کے مطابق یہ واقعہ منگل کے دن اس وقت پیش آیا جب زائد از 100 افراد کا ایک ہجوم اسکول میں داخل ہوگیا۔انہوں نے جھوٹے الزامات عائد کرتے ہوئے پرنسپل کے کپڑے پھاڑ د ئیے، تاہم پولیس نے پہنچ کر معاملہ پر قابو پالیا۔

پرنسپل کے کپڑے پھاڑنے اور ان پر حملہ کرنے والا یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔جس کی ایک بڑا طبقہ مذمت کررہا ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو تک بخشا نہیں جا رہا ہے۔اور جہاں تمام مذاہب کے بچےتعلیم حاصل کرتےہیں وہاں کسی ایک مخصوص مذہب کی تعلیم نہیں دی جاتی۔!! جبکہ سوشل میڈیا پر ایک گروپ اس حملہ کی تائید بھی کررہا ہے کہ یہ اسکولس مذہبی سوچ تبدیل کررہے ہیں۔!!