سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں ہجوم پر قابو پانے کے باعث
بہت بڑا جانی و مالی حادثہ ٹل گیا،تشدد سے 12 کروڑ کا نقصان
ساؤتھ سنٹرل ریلوے ڈویثرنل مینیجر اے کے گپتا کا انکشاف
تشدد کے سلسلہ میں ایک اکیڈیمی کا ڈائرکٹرکھمم ضلع سے گرفتار
حیدرآباد: 18۔جون(سحرنیوز ڈاٹ کام)
مرکزی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ فوج میں چار سال کے لیے بھرتی والی اگنی پتھ اسکیم کے خلاف جاری پرتشدد احتجاج کی آگ کل حیدرآبادکے جڑواں شہرسکندرآباد کےسکندرآباد ریلوے اسٹیشن جو کہ ریاست تلنگانہ کاسب سے بڑا اور اہم جنکشن ماناجاتاہے تک پہنچ گئی تھی۔
جہاں احتجاجیوں نے پانچ ریل انجنوں اور 30 بوگیوں کے علاوہ مختلف مقامات کو روانہ کیے جانے والے پارسل کو آگ لگادی تھی،پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ کرتے ہوئے ٹرین کی بوگیوں کو نقصان پہنچایا،ریلوے اسٹیشن کے فرنیچر کوتباہ کیا،ریل کی پٹریوں پر رکاوٹیں کھڑی کیں اور ریلوے کی املاک کو تباہ کی۔وہیں اسٹیشن کے باہر 40 مختلف گاڑیوں کوبھی آگ کی نذرکردیاتھاجو کہ مسافرین کی املاک تھی۔اس تشدد کے دؤران پولیس فائرنگ میں ورنگل ضلع کا ساکن راکیش ہلاک ہوگیا تھا ایک اور نوجوان بھی زخمی ہوا تھا۔
اس سلسلہ میں آج ریلوے ڈویثرنل مینیجر ساؤتھ سنٹرل ریلوے مسٹر اے کے گپتا نے انکشاف کیا ہے کہ پرتشدد ہجوم کوقابو میں کرنےکے باعث سکندرآباد ریلوے اسٹیشن اور اطراف کے علاقوں میں بہت بڑا جانی اور مالی نقصان ٹل گیا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ اس آگ زنی کے دؤران ریلوے اسٹیشن میں موجود ڈیزل ٹینکر Power Car محفوظ رہی جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان ٹل گیا۔انہوں نے کہا کہ اگر بدقسمتی سے اس ڈیزل ٹینکر کو آگ لگ جاتی تو بھاری پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوسکتا تھا۔
ریلوے ڈویثرنل مینیجرساؤتھ سنٹرل ریلوےمسٹر اے کےگپتانے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ کل کے پرتشدد احتجاج کے باعث سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں 12 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرینوں کی منسوخی کے باعث ہونے والے نقصان کا بھی اندازہ لگایا جارہا ہے۔
مسٹر اے کے گپتا نے کہا کہ اس پرتشدد احتجاج کےدؤران مسافرین کی جانب سے روانہ کیا جانے والا پارسل مکمل آگ کی نذر ہوگیا ہے ان واقعات کی تحقیقات میں مختلف ایجنسیاں مصروف ہیں۔انہوں نے بتایا کہ فی الحال تمام مال گاڑیوں کی خدمات کا دوبارہ آغازکردیا گیا ہے۔اور سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں حسب معمول خدمات بھی بحال کردی گئی ہیں۔
دوسری جانب کل سکندرآباد ریلوے اسٹیشن میں ریلوے پروٹیکشن فورس کی فائرنگ میں ہلاک ضلع ورنگل کے ساکن راکیش دامودرن کی موت پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گزشتہ رات ریاستی چیف منسٹر کے۔چندراشیکھرراؤ نے مہلوک کے افراد خاندان کو 25 لاکھ روپئے کی ایکس گریشیا اور افراد خاندان میں سے ایک فرد کو سرکاری ملازمت کا اعلان کیا ہے۔
اسی دؤران کل سکندرآبا د ریلوے اسٹیشن میں پیش آئے پرتشدد واقعات کےبعد پولیس نےآج کھمم ضلع سے آؤلا سباراؤ کو گرفتار کرتے ہوئے مزید تحقیقات کی غرض سے آندھراپردیش کے نرساپور لےگئی ہے جہاں وہ ایک پرائیوٹ اکیڈیمی چلاتے ہیں۔
آولا سبا راؤ کو اس سارے تشدد کا ماسٹر مائنڈ مانا جارہا ہے۔اور دعویٰ کیا جارہا ہے کہ انہوں نے فوج میں بھرتی ہوانے والے امیدواروں کو اس تشدد کے لیے اکسایا تھا اور اس کے لیے باقاعدہ واٹس ایپ گروپس چلائی گئی تھی؟ دستیاب اطلاعات کےمطابق پولیس نے کل کے اس واقعہ میں ملوث 27 نوجوانوں کو گرفتار کرلیا ہے ۔اور اس سلسلہ میں مزید تحقیقات اور کارروائی جاری ہے۔

