آریان خان کے ساتھ سیلفی لینے والے کے پی گوسوی کے خلاف پونے پولیس نے الرٹ جاری کردیا

آریان خان کے ساتھ سیلفی لینے والے
کے پی گوسوی کے خلاف پونے پولیس نے الرٹ جاری کردیا

ممبئی؍پونے:14۔اکتوبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

بالی ووڈ اداکار شاہ رخ خان کے فرزند آریان خان کو ممبئی کے سمندر میں ہفتہ 2 اکتوبر کی رات نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے دیگر سات نوجوانوں کے ساتھ تحویل میں لیا تھا جو کہ ممبئی سے گوا جانے والی کروز (کشتی) میں سوار تھے۔

اسی دؤران 3 اکتوبر کو نارکوٹکس کنٹرول بیورو کی تحویل میں موجود آریان خان کے ساتھ لی گئی ایک شخص کی سیلفی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

جس کے بعد عہدیداروں نے وضاحت جاری کی تھی کہ اس شخص کا نارکوٹکس کنٹرول بیورو سے کوئی تعلق نہیں ہے!

اسی دؤران 7 اکتوبر کو مہاراشٹرا ریاستی کابینہ کے وزیر، سینئر سیاستداں و نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے قومی ترجمان نواب ملک نے پریس کانفرنس طلب کرتے ہوئے نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) پر مختلف الزامات عائد کیے تھے۔

ساتھ ہی دو ویڈیوس اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر پوسٹ کرتے ہوئے مہاراشٹرا کے وزیر نواب ملک نے یہ انکشاف کیا تھا کہ 2 اکتوبر کی رات نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے دفتر میں آریان خان کو لے کر داخل ہونے والوں میں سے ایک بی جے پی لیڈر "منیش بھانوشالی” ہے اور دوسرا شخص”کے پی گوسوی” ہے جس کی آریان خان کے ساتھ لی گئی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے۔

جس کے بعد منیش بھانوشالی نے خبررساں ادارہ اے این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کیس سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ این سی بی کو کروز کی نقل وحرکت سے متعلق اپ ڈیٹ دے رہا تھا۔

ساتھ ہی منیش بھانوشالی نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ وہ کے پی گوسوی کو نہیں جانتا اور نہ ہی بی جے پی سے اس کا کوئی تعلق ہے۔

جسکے بعد سوشل میڈیا پر منیش بھانوشالی کی ایسی تصاویر وائرل ہوئیں جن میں وہ بی جے پی کے کئی اعلیٰ قائدین کے ساتھ نظر آرہا ہے۔

وہیں منیش بھانوشالی اور کے پی گوسوی کی خوشگوارموڈ میں لی گئی تصویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔

اس کے بعدمنیش بھانوشالی اور کے پی گوسوی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس غائب ہوگئے!!

کے پی گوسوئی کے متعلق یہ انکشاف ہوا کہ وہ ملیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں رہتا ہے اور پرائیوٹ ڈٹیکٹیوہے۔

کل 13 اکتوبر کو مہاراشٹرا کے پونے پولیس نے 2018 میں دھوکہ دہی کے ایک کیس کے سلسلہ میں "کے پی گوسوی” کے خلاف ایک” لُک آؤٹ سرکلر ” جاری کرتے ہوئے تمام ایرپورٹس کو الرٹ کیا ہے کہ اس شخص کو ملک سے باہر جانے نہ دیا جائے اور اس پر نظر رکھی جائے۔

کمشنر پولیس پونے امیتابھ گپتا نے میڈیا کو بتایا کہ” ہم نے کے پی گوسوی کے خلاف ایک "لک آؤٹ سرکلر نوٹس جاری” کیا ہے جو 2018 میں فراش خانہ پولیس اسٹیشن پونے میں درج دھوکہ دہی کے ایک کیس میں مفرور ہے”۔

پونے پولیس کے مطابق چنمے دیشمکھ جنہیں کے پی گوسوی نے مبینہ طور پر تین لاکھ 9 ہزار روپئے کا دھوکہ دیا تھا نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ کے پی گوسوی نے سوشل میڈیا پر اشتہار دیا تھا کہ وہ ملیشیا میں ہوٹل انڈسٹری میں ملازمت فراہم کروائے گا جس کے بعد دیشمکھ نے اس سے رابطہ قائم کیااور ملیشیا میں ملازمت کا وعدہ کرتے ہوئے کے پی گوسوی نے ان سے قسطوں میں یہ رقم حاصل کی تھی۔

تاہم اس نے نہ تو انہیں کوئی ملازمت فراہم کروائی اور نہ ہی ان کی رقم واپس کی۔جس کے بعد چنمے دیشمکھ نے 2018 میں کے پی گوسوی کے خلاف پونے کے فراش خانہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی تھی جس پر پولیس نے کے پی گوسوی کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات بشمول 420 (دھوکہ دہی) اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت ایک کیس درج رجسٹر کیا گیا تھا۔

اب پونے پولیس نے اس کیس میں کے پی گوسوی کی گرفتاری کے لیے لُک آؤٹ نوٹس جاری کیا ہے۔