انڈیا کا نام کیا بھارت میں تبدیل کیا جا رہا ہے ؟ صدر جمہوریہ کے دعوت نامہ پر پریسیڈنٹ آف انڈیا کے بجائے بھارت تحریر

انڈیا کا نام کیا بھارت میں تبدیل کیا جا رہا ہے؟
صدر جمہوریہ کے دعوت نامہ پر پریسیڈنٹ آف انڈیا کے بجائے بھارت تحریر
پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں ایجنڈہ پیش کرنے کی قیاس آرائیاں مسترد !!

نئی دہلی : 05۔ستمبر
(سحرنیوزڈاٹ کام/سوشل میڈیا ڈیسک)

کیا مرکزی حکومت انگریزی نام انڈیا کو سنسکرت کے لفظ بھارت میں تبدیل کرنے کے لیے منصوبہ بنا چکی ہے۔؟ موجودہ آثار و قرائن، میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاری بحث سے اس بات کا یقین ہوجاتا ہےکہ بی جے پی قیادت والی مرکزی حکومت اور وزیراعظم نریندرمودی انڈیا کو بھارت کا نام دینے کا تہیہ کرچکے ہیں۔!!

اس بات کو آج اس وقت تقویت حاصل ہوئی جب صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو نے G20 سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے مہمانوں کے لیے 9 ستمبر کو ترتیب دئےگئے عشائیہ کے دعوت نامہ میں سنسکرت کے لفظ بھارت کے ساتھ انڈیا کا نام بدل دیا۔اس دعوت نامہ کو مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان نے ایکس X (سابقہ نام ٹوئٹر) پر ٹوئٹ کیا ہے۔جس سے یہ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں کہ ملک کا نام سرکاری طور پر بھی تبدیل کر دیا جائے گا۔!!جبکہ صدر جمہوریہ ہند کے ٹوئٹر ہینڈل پر President Of India# ہی لکھا ہوا ہے۔

صدر جمہوریہ ہند محترمہ دروپدی مرمو کے نام سے جاری کردہ اس دعوت نامہ پر صدر بھارت The President Of Bharat# لکھا گیا ہے۔جبکہ اس سے قبل President Of India# تحریر کیا جاتا تھا۔

یادرہے کہ ہندوستان جاریہ ماہ جی۔20 کی میزبانی کر رہا ہے جس کا انعقاد 9 اور 10ستمبر کو دہلی میں نوتعمیر بھارت منڈپم میں عمل میں آئے گا۔اس جی۔20 سمٹ G20 Summit# میں دنیاکے 19 ترقی یافتہ ممالک کے سربراہان شریک ہو رہے ہیں۔جن میں امریکہ، برطانیہ ، سعودی عرب، روس، ترکی، فرانس،جرمنی، آسٹریلیا، انڈونیشیا، چین، جاپان، اٹلی، ساوتھ کوریا، ساوتھ افریقہ، میکسیکو، برازیل، کینیڈا، ارجنٹائنا کےسربران مملکت شرکت کریں گے۔

میڈیا اطلاعات کے مطابق دہلی میں منعقدہ جی۔20 سمٹ میں مصر،سنگاپور، ابوظہبی، ماریشس، بنگلہ دیش، عمان، نائجریا، نیدرلینڈ اور اسپین کے سربراہان مملکت کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔میڈیا میں زیرگشت اطلاعات کےمطابق روس اور چین کے صدور اس جی۔20 سمٹ میں شرکت نہیں کررہے ہیں۔!!

اب اس دعوت نامہ پر انڈیا کےبجائے بھارت لکھےجانے کےبعد میڈیا،اپوزیشن جماعتوں اور سوشل میڈیا پر بحث شروع ہوگئی ہے۔کہا جا رہا ہے کہ بی جے پی جولائی میں قائم کیے گئے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو انڈیا I.N.D.I.A#  نام دئیے جانے کے بعد سے اس کی شدید مخالفت کر رہی ہے اور الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ اس سے خوفزدہ بھی ہے۔!! وزیراعظم نریندر مودی لوک سبھا کے مانسون سیشن میں اپوزیشن کے انڈیا اتحاد کوگھمنڈیا اتحاد کا نام دے چکے ہیں۔

اسی دوران یہ بھی قیاس قائم کیے جارہے ہیں کہ 18 تا 22 ستمبر طلب کیےگئے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں بی جے پی باقاعدہ انڈیا کا نام بھارت میں تبدیل کرنے کے لیے بل پیش کرسکتی ہے۔؟ساتھ ہی اس اجلاس میں ون نیشن ون ووٹ،یکساں سول کوڈ، اوقافی اراضیات کی حکومتی تحویل کے علاوہ دیگر کئی اہم اور متنازعہ منصوبوں کی پیشکش کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ون نیشن ون ووٹ کے لیے باقاعدہ سابق صدر جمہوریہ جناب رام ناتھ کووند کی قیادت میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو رائے عامہ حاصل کرے گی۔

قانونی اور سیاسی ماہرین کے مطابق دستور کی شق نمبر ایک میں ہی بھارت اور انڈیا دونوں کو شامل رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی اگر انڈیا کو بھارت میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ اس کے لیے ممکن یا آسان نہیں ہے۔اس کےلیے اگر بی جے پی لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں انڈیا کی بھارت میں تبدیلی کا بل لاتی ہے تو اس کے لیے دستور میں ترمیم کرنا ضروری ہوگا۔لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اس کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت کا ہونا لازمی ہوگا۔جبکہ بی جے پی کو لوک سبھا میں تو اکثریت حاصل ہے راجیہ سبھا میں نہیں۔اگر یہ بل لوک سبھا میں اکثریت سے منظور بھی کرلیا جاتا ہے تو راجیہ سبھا میں منظور ہونا مشکل ہے۔کیونکہ بی جے پی کو راجیہ سبھا میں 95 ارکان کی اکثریت حاصل ہے۔

اپوزیشن جماعتیں مودی حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت میں مصروف ہیں۔ان کا سوال ہے کہ جب بی جے پی نے اٹل بہاری واجپائی کی قیادت میں 2004 میں شائننگ انڈیا کا نعرہ دیاتھا تب بھارت کی یاد کیوں نہیں آئی؟ اور گذشتہ 9 سال کےدوران خود مودی حکومت نے کھیلو انڈیا،اسٹارٹ اپ انڈیا،میک ان انڈیا،اسکل انڈیا اور اسٹانڈ اپ انڈیا جیسے نام رکھے تھے۔

بی جے پی کی جانب سے انڈیا کے نام کو غلامی کی نشانی قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔جبکہ 2014 میں خود نریندر مودی ووٹ فار انڈیا کے نعرہ کے ساتھ مہم چلاتے ہوئے ووٹ حاصل کرچکے ہیں۔

بی جے پی قائدین کی جانب سے انڈیا نام کی مخالفت اور انڈیا کو غلامی کی نشانی قرار دیتے ہوئے بھارت میں تبدیل کرنے کی کوشش پر یہ سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں کہ ملک کے کئی اہم اداروں کے ناموں کے ساتھ پہلے ہی سے انڈیا لفظ جڑا ہوا ہے اس کا کیا کیا جائے گا۔؟ جیسا کہ انڈین آرمی،انڈین ایئر فورس،اسرو، انڈین پاسپورٹ، پان کارڈ، آدھا کارڈ،الیکشن کمیشن آف انڈیا سمیت کئی مرکزی حکومت کے ادارے ہیں جن کے نام کے ساتھ انڈیا نام کئی سال سے جڑا ہوا ہے۔

اور ساتھ ہی ریزرو بینک آف انڈیا کے نام اور اس کی کرنسی پر بھی انڈیا موجود ہے۔سوال یہ بھی اٹھائے جارہےہیں کہ ان سب کے ناموں کو بھارت میں تبدیلی کےلیے کتنی رقم درکار ہوگی۔؟اور کیا کرنسی نوٹوں پر موجود ریزرو بینک آف انڈیا کو ہٹانے کےلیے نئے نوٹ چھاپےجائیں گے؟ کیا عوام کو دوبارہ نوٹوں کی تبدیلی کے لیے قطاروں میں کھڑا کیا جائے گا۔؟

آج رات دی۔ہندو نے حکومتی ذرائع کے حوالہ سےلکھا ہے کہ” پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں ہندوستان کا نام تبدیل کرنےکےلیے باضابطہ کارروائی کی تمام باتیں بے کار ہیں۔”

اسی دؤران آج رات مرکزی وزیر اطلاعات انوراگ ٹھاکر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ”میں بھارت سرکار کا وزیر ہوں۔ کئی چینلوں کے نام بھی بھارت سے شروع ہوتے ہیں۔اور اگر دعوت نامے میں لفظ بھارت ہے تو پھر اس پر اعتراض کیوں؟مرکزی وزیر نے کہا کہ اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ بھارت مخالف کون ہیں۔؟بھارت کی مخالفت کون کررہے ہیں۔؟کیا اب نام سے بھی درد شروع ہوگیا۔؟ انہوں نے کہا کہ باہر سے بھی ملک کی شبیہ خراب کرنے کا کام کرتے ہیں۔

اس بحث کے دوران اداکار امیتابھ بچن نے آج ایکس X (سابقہ ٹوئٹر ) پر ” بھارت ماتا کی جئے ” لکھتے ہوئے اس کے ساتھ ملک کا نقشہ اور ساتھ ہی زعفرانی پرچم پرمشتمل ایموجی ٹوئٹ کی ہے جو زیادہ تر بجرنگ دل اور ہندو تنظیموں کی جانب سے کیا جاتا ہے۔ جس کے بعد ایک نئی بحث چھڑگئی ہے۔سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد امیتابھ بچن کے خلاف کمنٹ کرتے ہوئے مختلف سوالات داغ رہے ہیں۔!!

دوسری جانب چیف منسٹر دہلی و کنوینر عام آدمی پارٹی اروند کیجریوال نے کہا کہ ایسا سنا جارہا ہے کہ انڈیا کا نام بدل کر بھارت کیا جانے والا ہے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے جب اپنے اتحاد کا نام انڈیا رکھ لیا تو کیا ملک کا نام  بدل دیں گے۔؟ ملک تو 140 کروڑ لوگوں کا ہے کسی ایک پارٹی کا تھوڑی ہی ہے۔! کل مان لیجئے انڈیا الائنس نے اپنا نام بدل کر بھارت رکھ لیا تو کیا پھر بھارت بھی بدل دیں گے۔؟ پھر کیا بھارت کا نام بی جے پی رکھیں گے۔؟ انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد سے ووٹ کم ہوجائیں گے تو کیا ملک کا نام بدل دیں گے۔؟