تلنگانہ بھی اب ڈبل انجن والی حکومت چاہتاہے، حیدرآباد بھاگیہ نگرہے جو ہم سب کے لیے اہم ہے: حیدرآباد میں وزیراعظم نریندرمودی کا خطاب

تلنگانہ بھی اب ڈبل انجن والی حکومت چاہتا ہے
حیدرآباد بھاگیہ نگر ہے جو ہم سب کے لیے اہم ہے
حیدرآباد میں وزیراعظم نریندرمودی کا خطاب

حیدرآباد:3۔جولائی(سحرنیوزڈاٹ کام)

وزیراعظم نریندرمودی نے حیدرآباد میں منعقدہ بی جے پی کی دو روزہ قومی ایگزیکٹو میٹنگ سےخطاب کرتےہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سردار پٹیل نے ایک متحد ہندوستان کی بنیاد رکھی اور اب اسے آگے لے جانے کی ذمہ داری بی جے پی کی ہے۔یاد رہے کہ  منعقد کی گئی جس میں بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا،مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بشمول بی جے پی برسراقتدار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے علاوہ پارٹی کے اعلیٰ قائدین نے شرکت کی۔

بعدازاں اتوار کی شام پریڈ گراؤنڈ واقع سکندرآباد میں منعقدہ "وجئے سنکلپ سبھا”جلسہ عام منعقدہ جلسہ عام سے وزیراعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ تلنگانہ کے عوام ملک کی ترقی کے تئیں اپنی محنت اور لگن کے لیے پوری دنیا میں جانے جاتے ہیں۔تلنگانہ میں فن، ہنر، محنت بہت زیادہ ہے۔تلنگانہ قدیم وراثت کا حامل اور طاقت کا ایک مقدس مقام ہے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی ہمہ گیر ترقی بھارتیہ جنتا پارٹی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے اپنے سب کا ساتھ،سب کا وکاس،سب کا وشواس اور سب کا پریاس کو دہراتے ہوئے کہا کہ اس منتر پرعمل کرتے ہوئےہم تلنگانہ کی ترقی کے لیے مسلسل کوشش کررہے ہیں۔وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ تلنگانہ بھی اب ڈبل انجن والی حکومت چاہتا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا اگر تلنگانہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ڈبل انجن والی حکومت بنتی ہے تو یہاں کی ترقی تیز ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ملک کی خود انحصاری کا اہم مرکز ہے اور تلنگانہ کے کسانوں کی زندگی آسان ہونی چاہئے۔انہیں فصلوں کی پیداوار کا فائدہ ملنا چاہئے اورحکومت اس کے لیے کام کررہی ہے۔مودی نے کہاکہ مرکزی حکومت 35,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے پانی سے متعلق 5 بڑے منصوبوں پر کام کررہی ہے۔گزشتہ 6 سالوں میں مرکز نے تلنگانہ کے کسانوں سے 1 لاکھ کروڑ روپے کا دھان طئے شدہ قیمت پرخریدا ہے

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدید انفراسٹرکچر ہر شعبے کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے،چاہے وہ زراعت ہو یا صنعت،ہماری کوشش ہے کہ بہترین رابطہ تلنگانہ کے کونے کونے تک پہنچ جائے۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں نیشنل ہائی وے کی طوالت گزشتہ 8 سالوں میں دوگنی کردی گئی ہے۔جبکہ 2014 میں ریاست تلنگانہ میں تقریباً 2500 کلومیٹر قومی شاہراہیں تھیں، آج 5 ہزار کلومیٹر کا نیٹ ورک ہے۔انہوں نے کہا کہ 2700 کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں نہ صرف شہروں بلکہ دیہاتوں کو نیشنل ہائی وے سے جوڑنے کے لیے بنائی گئی ہیں۔

اور پی ایم گرامین سڑک یوجنا کے تیسرے مرحلے کےتحت تقریباً 2.5 ہزار کلومیٹر نئی سڑکوں کے لیے 1700 کروڑ روپے سے زیادہ کی منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت 1500 کروڑ روپئے کی لاگت سے 4 اور 6 لائن کے کئی فلائی اؤور اور ایلی ویٹیڈ کوریڈور بنارہی ہے۔

انہوں نےکہاکہ حیدرآباد کے ہائی ٹیک شہر میں ٹریفک جام کے مسئلے کو کم کرنے کے لیے 350 کلومیٹر کے دائرے میں ایک علاقائی رنگ روڈ بھی تعمیر ہونے جارہی ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی نے کہاکہ تلنگانہ کےدیگر شہروں اور دیہاتوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔میں یقین دلاتا ہوں کہ جب تلنگانہ میں بی جے پی کی ڈبل انجن والی حکومت بنے گی تو تلنگانہ کے ہر شہر اور ہر گاؤں کی ترقی کے لیے تیزی سے کام کیا جائے گا۔ ہمیں سب کو مثبتیت سے جوڑنا ہے۔ترقی میں سب کو شامل ہونا چاہئے۔ہمیں تلنگانہ کی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہوگا۔سب کی کوششوں سے ہم تلنگانہ کو ترقی کی نئی بلندیوں پر لے جا سکتے ہیں۔

وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مرکزی حکومت تلنگانہ کے کسانوں کی زندگی کو آسان بنانے کے لیے 5 بڑے پروجیکٹس پر کام کررہی ہے۔خود انحصاری کے لیے مودی نے فارم،فائبر،فیکٹری،فیشن،غیر ملکی کا منتر بھی دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ اسی سوچ کے تحت ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ٹیکسٹائل میں ملکی برآمدات بڑھانے کے لیے ملک میں 7 میگا ٹیکسٹائل پارکس قائم کیے جائیں،ٹیکسٹائل پارک قائم ہو جائے تو کسانوں کو فائدہ ہو گا۔مزدوروں کو کام مل جاتا ہے۔کاروبار بھی پھلتا پھولتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان میں سے ایک میگا ٹیکسٹائل پارک تلنگانہ میں بھی تعمیر ہونے والا ہے۔اگر یہاں ٹیکسٹائل پارک بنایا جائے گا تو نہ صرف تلنگانہ کے کسانوں کو فائدہ ہوگا بلکہ یہاں کے ہزاروں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

قبل ازیں حیدرآباد میں منعقدہ بی جے پی کی دو روزہ قومی ایگزیکٹو میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے الزام عائد کیا کہ کانگریس پارٹی وزیراعظم نریندر مودی کی اہمیت اور عزت کو کم کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔انہوں نے کانگریس کو وہم زدہ پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس ہمیشہ موقع پرست اور بدعنوانیوں میں ماہر رہی ہے۔

وزیرداخلہ امیت شاہ نے 2002 کی گجرات نسل کشی کے معاملہ میں سپریم کورٹ کی جانب سے وزیراعظم مودی کو کلین چٹ دئیے جانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری کی درخواست کو خارج کیے جانے پر امیت شاہ نے کہا کہ یہ مودی کو بدنام کرنے کی ایک سازش تھی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملہ میں کانگریس نریندر مودی سے معافی مانگے۔

امیت شاہ نے اپوزیشن جماعتوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کوویڈ، سرجیکل اسٹرائیک،راہول گاندھی سے ای ڈی کی پوچھ تاچھ جیسے معاملات میں بھی سیاست میں گھسیٹا جارہا ہے۔انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ کشمیر کے مسئلہ کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی بھی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کانگریس پر الزام عائد کیا کہ وہ اس ملک کے نوجوانوں کو غلط راستہ دکھارہی ہے اور نوجوانوں کو تشدد پر اکسارہی ہے۔مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے دعویٰ کیا کہ تلنگانہ مین بی جے پی اقتدار حاصل کرے گی۔