کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا

مشہور شاعر و گیت کار نِدا فاضلی
پانچویں برسی کے موقع پرخصوصی مضمون

 

 ندا فاضلی اس دؤر کا وہ شاعر جسے اسکے چنداشعار پر مذہبی اور ادبی حلقوں میں بہت زیادہ معتوب کردیا گیا تھا ، دراصل ندافاضلی کی ساری شاعری انسانیت اور انسانی پہلوؤں کے ارد گرد زیادہ گھومتی ہے ۔ندا فاضلی کے تین اشعار ایسے تھے جسے مذہبی اور ادبی سطح پر علماء دانشواران اور ادبی شخصیتوں کی سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جیسا کہ
؎ گھر سے مسجد ہے بہت دُور چلو یوں کرلیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
اس شعر پر اس وقت مذہبی اور ادبی حلقوں میں بہت لے دے ہوئی تھی حتیٰ کہ کئی مشاعروں میں انہیں گھیرا جاتا تھا کہ اس شعر کی وضاحت کریں ۔
ندا فاضلی ہی کے ہم عصر شاعر شکیل اعظمی نے اس شعر پر کہا تھا کہ ” یہ شعر انسان دوستی کا استعارہ نہیں بلکہ محض ایک اہم اور بنیادی مذہبی فریضے سے انکار کی حیلہ تراشی ہے۔
ندا فاضلی کے دیگر دو اشعار:
بچہ بولا دیکھ کر مسجد عالی شان
اللہ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان
اور ” اُٹھ اُٹھ کے مسجدوں سے نمازی چلے گئے
دہشت گردوں کے ہاتھ میں اسلام رہ گیا” پر بھی اس وقت چوطرفہ تنقید ہوئی تھی۔

ان سب تنازعات سے دور اردو اور ہندی دنیا کے اس عظیم شاعر ندا فاضلی کے سارے کلام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ انکے کلام میں انسانیت کا درد پنہا ہے! ،تقسیم ہند سے وہ قطعی اتفاق نہیں کرتے تھے ندا فاضلی اپنے کلام اور اپنے انوکھے انداز سے مذہب کے نام پر فسادات، سیاست دانوں اور فرقہ پرستوں پر جم کر تنقید کرتے رہے۔
ان کا اصلی نام مقتدا حسن تھا لیکن و ہ اپنے قلمی نام ندا فاضلی سے ہی مشہور ہوئے ان کی پیدائش 12 اکتوبر 1938ء کو مرتضیٰ حسن کے گھر دہلی میں ہوئی جو خود بھی شاعر ہوا کرتے تھے اوراس وقت کی ریاست گوالیار کے محکمہ ریلوے میں ملازم تھے۔چونکہ گھر میں شعر و شاعری کا چرچا تھا جس نے ندا کے اندر لڑکپن سے ہی شعر گوئی کا شوق پیدا کر دیا۔ ندا فاضلی کی ابتدائی تعلیم گوالیار میں ہوئی اور انہوں نے وکرم یونیورسٹی اُجین سے اردو اور ہندی میں ایم ۔اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔

ملک کی تقسیم کے بعد مہاجرین کی آمد اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے سبب ان کے والد کو گوالیار چھوڑنا پڑا اور وہ بھوپال آ گئے۔اس کے بعد انھوں نے پاکستان جانے کا فیصلہ کرلیا ندافاضلی گھر سے بھاگ نکلے اور پاکستان نہیں گئےگھر والوں سے بچھڑ جانے کے بعد ندافاضلی نے اپنی جدوجہد تنہا جاری رکھی اور اپنے وقت کو مطالعہ اور شاعری میں صَرف کیا۔

شاعری کی مشق کرتے ہوئے انھیں احساس ہوا کہ اردو کے شعری سرمایہ میں ایک چیز کی کمی ہے اور وہ یہ کہ اس طرح کی شاعری سننے سنانے میں تو لطف دیتی ہے لیکن انفرادی جذبوں کا ساتھ نہیں دے پاتی۔اس احساس میں اس وقت شدت پیدا ہو گئی جب ان کے کالج کی ایک لڑکی مس ٹنڈن کا،جس سے انھیں جذباتی لگاؤ ہو گیا تھا اک حادثہ میں انتقال ہو گیا۔ ندافاضلی کو اس کا بہت صدمہ ہوا لیکن ان کو اپنے دکھ کے اظہار کے لئے اردو کے سرمایہ ء ادب میں ایک بھی شعر نہیں مل سکا۔

یہیں سے ندا فاضلی نے اپنا نیا ڈکشن وضع کرنا شروع کیا۔تعلیم سے فراغت کے بعد انھوں نے کچھ دنوں تک دہلی اور دوسرے مقامات پر ملازمت کی تلاش میں ٹھوکریں کھائیں اور پھر 1964 میں بمبئی چلے گئے۔

بمبئی میں شروع میں انھیں خاصی جدو جہد کرنی پڑی۔انہوں نے دھرم یگ اور بلٹز جیسے رسالوں اور اخبارات میں کام کیا۔اس کے ساتھ ہی ادبی حلقوں میں بھی ان کی پہچان بنتی گئی۔وہ اپنے پہلے مجموعہ ء کلام "لفظوں کا پُل ” کی بیشتر نظمیں،غزلیں اور گیت بمبئی آنے سے پہلے لکھ چکے تھے اور ان کی نئی آواز نے لوگوں کو انکی طرف متوجہ کر دیا تھا۔یہ کتاب 1971ء میں منظر عام پر آئی اور ہاتوں ہاتھ لی گئی۔وہ مشاعروں کے بھی مقبول شاعر بن گئے تھے ۔

تصویر بشکریہ : ریختہ ڈاٹ آرگ

فلمی دنیا سے ان کا تعلق اس وقت شروع ہوا جب کمال امروہی نے اپنی فلم رضیہ سلطان 1983ءکے لئے ان سے دو گیت لکھوائے۔ دراصل اس فلم کے گیت جان نثار اختر کو لکھنا تھا تاہم اس دوران ان کا انتقال ہوگیااس فلم میں "ندا فاضلی کا لکھا اور خبن مرزا کا گایا ہوا گیت ،آئی زنجیر کی جھنکار خدا خیر کرے "،مقبول ہواجسکے موسیقار خیام تھے اس فلم کی تاخیر سے ریلیز کے دؤران ندا فاضلی کو بطور نغمہ نگار اور مکالمہ نویس مختلف فلموں میں کام ملنے لگا اور ان کی فاقہ مستی دور ہو گئی۔

بہرحال وہ فلموں میں ساحر لدھیانوی، شکیل بدایونی ، حسرت جئے پوری،،مجروح سلطان پوری یا پھرگلزار جیسی کوئی کامیابی یا مقبولیت حاصل نہیں کرپائے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ندا فاضلی نےفلموں میں ادب کا معیار برقرار رکھا۔ ندافاضلی نے بطور شاعر اور نثر نگار ادب پر اپنی گہری چھاپ چھوڑی۔لفظون کا پل کے بعد ان کے کلام کے کئی مجموعے،مور ناچ،آنکھ اور خواب کے درمیان،شہر تو میرے ساتھ چل،زندگی کی طرف ،شہر میں گاؤں اور کھویا ہوا سا کچھ شائع ہوئے۔ان کی نثری تحریروں میں دو سوانحی ناول "دیواروں کے بیچ” اور "دیواروں کے باہر "کے علاوہ مشہور شعراء کے خاکے "ملاقاتیں ” شامل ہیں۔ندا فاضلی کی شادی ان کی تنگدستی کے زمانہ میں عشرت نامی ٹیچر سے ہوئی تھی لیکن نباہ نہیں ہو سکا ۔پھر مالتی جوشی ان کی رفیقہء حیات بنیں۔


ندا فاضلی نے 2003ء میں ریلیز ہونے والی فلم "دھوپ” کیلئے ایک انقلابی گیت بھی لکھا تھا جو زیادہ مقبول نہیں ہوا جسے جگجیت سنگھ نے گایا تھا اس فلم میں اوم پوری ،ریوتی ، گل پنانگ نے اداکاری کی تھی وہ گیت یہ تھا :
ہر ایک گھر میں دیا بھی جلے اناج بھی ہو
اگر نہ ہو کہیں ایسا تو احتجاج بھی ہو
۔۔
رہے گی وعدوں میں کب تک اسیر خوشحالی
ہر ایک بار ہی کل کیوں کبھی تو آج بھی ہو
۔۔
نہ کرتے شور شرابہ تو اور کیا کرتے
تمہارے شہر میں کچھ اور کام کاج بھی ہو
۔۔
حکومتوں کو بدلنا تو کچھ محال نہیں
حکومتیں جو بدلتا ہے وہ سماج بھی ہو
۔۔
بدل رہے ہیں کئی آدمی درندوں میں
مرض پرانا ہے اس کا نیا علاج بھی ہو
۔۔
ندا فاضلی نے 1981ء میں اسماعیل شراف کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ” آہستہ آہستہ "کے لیے ایک گیت ” کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا ، کہیں زمیں تو کہیں آسماں نہیں ملتا” لکھا تھا اس فلم کے موسیقار خیام تھے اور بھوپیندر سنگھ اور آشا بھونسلے نے الگ الگ اپنی خوبصورت آوازیں دی تھیں اور یہ گیت آج بھی مقبول ہے۔

اسی طرح ندا فاضلی نے راج ببر ، دیپک پراشر ، رنجیتا ۔ مدن پوری اور اوم شیوپوری کی اداکاری والی 1980ء میں بنائی گئی فلم” آپ تو ایسے نہ تھے ” میں بھی گیت لکھے تھے اس فلم کاایک گیت ” تُو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے ، جہاں بھی جاؤں یہ لگتا ہے تیری محفل ہے ” کو محمد رفیع ، منہر اُدھاس اور ہیم لتا کی آوازوں میں الگ الگ پیش کیا گیا تھا اوشا کھنہ نے اس فلم کی موسیقی دی تھی یہ گیت بھی بہت مقبول ہوا تھا۔

ندا فاضلی نے1999ء میں بنائی گئی فلم ” سرفروش ” کیلئے ایک غزل لکھی تھی ” ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے،عشق کیجے پھر سمجھئے زندگی کیا چیز ہے ” عامر خان کی اداکاری والی اس فلم کی اس غزل کو جگجیت سنگھ نے اپنی مخملی آواز دی تھی۔ندا فاضلی کو جو شہرت مشاعروں اور انکی لکھی ہوئی غزلوں سے حاصل ہوئی وہ فلموں سے نہیں مل پائی۔جگیجت سنگھ نے ندا فاضلی کی کئی ایک غزلوں کو اپنی آواز دیکر انہیں شہرت کی بلندی پر پہنچادیا تھا۔

 گلوکار جگجیت سنگھ اور نِدا فاصلی کی ایک یادگار تصویر

ندا فاضلی کی وہ غزلیں جنہیں جگجیت نے گایا ہے:

٭کس کا چہرہ اب میں دیکھوں تیرا چہرہ دیکھ کر
٭سفر میں دھوپ تو ہوگی چو چل سکو تو چلو
٭ہر طرف ہر جگہ بے شمار آدمی، اپنی تنہائی کا خود شکار آدمی دنیا
٭جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے ،مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے
٭اپنا غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے
٭میں رویا پردیس میں بھیگا ماں کا پیار
٭بے نام سا یہ درد ٹھہر کیوں نہیں جاتا ، جو بیت گیا ہے وہ گزر کیوں نہیں جاتا
٭اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں،رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں
٭اب خوشی ہے نہ کوئی درد رُلانے والا ، ہم نے اپنا لیا ہر رنگ زمانے والا
٭اس کے دشمن ہیں بہت آدمی اچھا ہوگا، وہ بھی میری ہی طرح شہر میں تنہا ہوگا
٭ہر گھڑی خود سے الجھنا ہے مقدر میرا، میں ہی کشتی ہوں مجھی میں ہے سمندر میرا
٭گرج برس پیاسی دھرتی کو پھر پانی دے مولا ،چڑیوں کو دانے بچوں کو گڑ دھانی دے مولا

قابل ذکر بات یہ ہیکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 
9 مارچ 2016 کو راجیہ سبھا کے ارکان سے اپنے خطاب میں 

ندا فاضلی کی یہ مشہور غزل مکمل پڑھی تھی ۔


سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو
سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو
۔۔
کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں
تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو
۔۔
یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا
مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو
۔۔
کہیں نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا
خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو
۔۔
یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں
انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو

ندافاضلی کو ان کی کتاب "کھویا ہوا سا کچھ” پر 1998 ء میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈسے نوازا گیا تھا ۔2013 ءمیں حکومت ہند نے انہیں "پدم شری” کے اعزاز سے نوازا۔

فلم "سُر” کے نغمہ "آج بھی جا،ائے صبح آ بھی جا” کے لیے انہیں اسکرین ایوارڈ ملا۔

اس کے علاوہ مختلف ریاستی اردو اکیڈیمیوں نے انھیں انعامات سے نوازا تھا۔ان کی شاعری اور دوہوں کا مختلف ملکی اور غیر ملکی زبانوں میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ندا فاصلی 8 فروری 2016 ءکوقلب پر حملہ کے بعد انتقال کرگئے۔

 ندا فاضلی کے کچھ منتخب اور مشہور اشعار پیش ہیں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دشمنی لاکھ سہی ختم نہ کیجے رشتہ
دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہئے
۔۔
بچوں کے چھوٹے ہاتھوں کو چاند ستارے چھونے دو
چار کتابیں پڑھ کر یہ بھی ہم جیسے ہو جائیں گے
۔۔
ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی
جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا
۔۔
کوئی ہندو کوئی مسلم کوئی عیسائی ہے
سب نے انسان نہ بننے کی قسم کھائی ہے
۔۔
اس کو رخصت تو کیا تھا مجھے معلوم نہ تھا
سارا گھر لے گیا گھر چھوڑ کے جانے والا
۔۔
اب کسی سے بھی شکایت نہ رہی
جانے کس کس سے گلا تھا پہلے
۔۔۔
تم سے چھٹ کر بھی تمہیں بھولنا آسان نہ تھا
تم کو ہی یاد کیا تم کو بھلانے کے لئے ۔
۔۔
دھوپ میں نکلو گھٹاؤں میں نہا کر دیکھو
زندگی کیا ہے کتابوں کو ہٹا کر دیکھو
۔۔
کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا
کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا
۔۔
کوشش بھی کر امید بھی رکھ راستہ بھی چن
پھر اس کے بعد تھوڑا مقدر تلاش کر
۔۔
ہر ایک بات کو چپ چاپ کیوں سنا جائے
کبھی تو حوصلہ کر کے نہیں کہا جائے

 

٭٭ مضمون نگار: محمدیحییٰ خان ٭٭

نوٹ: اس مضمون کی تیاری اور تصاویر کے انتخاب میں مختلف ذرائع سے مدد لی گئی ہے۔