اردو کے تحفظ و استحکام کے لیے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر کام کرنے کی ضرورت
آزاد لٹریری فورم (الف) کے مشاورتی اجلاس سے مختلف شخصیتوں کا خطاب
حیدرآباد، 26؍ڈسمبر
(پریس نوٹ/سحر نیوز)
اردو زبان و ادب کی ترقی و استحکام کےلیے تمام محبان اردو کومشترکہ طور پر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار آزاد لٹریری فورم (الف) کے زیر اہتمام منعقدہ ادبی و مشاورتی اجلاس کے شرکاء نے کیا۔
ڈاکٹر محمد مصطفی علی سروری نے اس اجلاس سے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اردو زبان و ادب کے لیے کام کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی ضرورت ہے،تاکہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر موثر اقدامات کیےجائیں اور ایک مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دے کر آگے بڑھا جاسکے۔
ڈاکٹر عابد معز نے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ دورِ حاضر میں اردو زبان میں نت نئے عصری موضوعات پر لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ان کے مطابق اہل اور موزوں افراد کو نہ صرف کتابیں لکھنے کےلیے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے بلکہ ان کی اشاعت اور نکاسی کا بھی باضابطہ اہتمام ہونا چاہیے۔

جناب غوث ارسلان نے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئےتجویز پیش کی کہ اردو زبان و ادب کے تحفظ کی کوئی بھی تحریک اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتی ہے۔جب تک کہ نئی نسل کو اردو نوشت و خواند سے واقف نہ کر وایا جائے۔اس لیے ضروری ہے کہ نئی نسل کو اردو زبان سے جوڑنے کے ہر ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔ڈاکٹر وصی الدین فاروقی ایڈوکیٹ نے اس محفل میں تجویز پیش کی کہ اردو سے محبت رکھنے والے ہر فرد کو اپنے حصہ کی شمع جلانی ہوگی۔

ورنگل کے سینئر صحافی و ایڈوکیٹ جناب جمال شریف نے اس موقع پر اپنےخطاب میں اس بات کی وکالت کی کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد اردو سے اپنے رشتہ کو دوبارہ استوار کرے۔جناب جمال شریف کے مطابق اردو ذریعہ تعلیم سے تعلیم حاصل کرکے کیا حاصل ہوتا ہے؟ کے سوال نے اردو کو مساجد کے اعلانات کے بورڈ سے بھی دور کر دیا ہے۔اردو اسکولی نصاب سے فراموش کردی گئی۔اردو کو نہ صرف ہر فرد کو سکھانا ہے بلکہ ہر گھر میں اردو کو پہنچانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اردو صحافت کی ترقی کے لیے اردو قارئین کی تعداد میں اضافہ بھی ضروری ہے۔
جناب طارق جمال صدیقی،دہلی نے بطور مہمان خصوصی اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ اردو میڈیم اسکولوں کومستحکم کیا جائے،ان اسکولوں سے فارغ طلباء عصری علوم میں پیچھے نہ رہ جائیں اس کے لیے برج کورس کی مدد سے انہیں دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے زبان کے فروغ کے لیے حکومت سے فنڈمنظور کروائے جائیں اور سرکاری سطح پر زبان کے نفاذ کے عملی اقدامات پر نظر رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اردو زبان کے مسائل ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں یکساں ہیں اس کے لیے مشترکہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔

ہندی اور اردو کے سینئر صحافی جناب ایف ایم سلیم نے اس مشاورتی اجلاس کو مخاطب کرتےہوئے کہاکہ اردو زبان و ادب کی ترقی کےلیے مرکزی حکومت سے اب کوئی بھی توقع فضول ہے۔اور جس کسی ریاست میں اردو کوسرکاری سرپرستی اگرحاصل ہےتو اس کا مؤثر استعمال بے حد ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ جہاں حکومتی خزانے سے نکلنےوالے ہر ایک پیسے کا موثر استعمال ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ اسی طرح مخیرحضرات کی جانب سے اردو اسکولوں کوخاص طور پر Adopt# کرنے ان کی ذمہ داری لینےکی ضرورت بھی ہے۔اور وہاں نصابی کتب خرید کر طلبہ کو بروقت مدد پہنچائی جاسکتی ہے۔ایف ایم سلیم نے مزید کہاکہ اردو زبان کو اگر مذہب اسلام سے جوڑنے پر اصرار کیا جاتا ہےتو اس سے مذہبی جماعتوں کو اپنی روٹیاں سیکھنے کاموقع مل سکتا ہے اور اردو کا کینوس محدود ہونے کا خدشہ بھی ہے۔

جناب الیاس شمسی نے محبان اردو کو خود اپنے گھروں میں اردو نوشت وخواند کو فروغ دینے کا مشورہ دیا۔نامور ادیبہ و جہد کارمحترمہ رفیعہ نوشین نے اردو اکیڈیمی کی کارکردگی کو موثر بنانے کے علاوہ ہر سال ماہ نومبر میں یوم اردو کا جشن منانے اور اس میں اسکولوں اور کالجوں کےطلبہ کی سرگرم شرکت کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ساتھ ہی انہوں نے اردو اکیڈیمی کے تعاون سے ثقافتی پروگراموں کے انعقاد کو ضروری قرار دیا۔
محترمہ رفیعہ نوشین کے مطابق اردو اکیڈیمی کی کارکردگی کو موثر بنانے کے لیے ہر ممکنہ اقدامات ناگزیر ہیں۔کیونکہ سرکاری امداد سے چلنے والے اردو کےادارے ایک بڑا بجٹ رکھتے ہیں۔ان کا صحیح استعمال بےحد ضروری ہے۔ساتھ ہی انہوں نے اردو زبان کو گوگل سمیت تمام سرچ انجن میں بھی استعمال کرنے پر زور دیا۔

ڈاکٹر اسلم فاروقی پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج،ظہیر آباد نے بھی الف کے اس مشاورتی اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ اردو کو بطور زبان دوم تعلیمی اداروں میں فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی نوجوان نسل تک اردو کو فروغ دینے کے لیے”فون میں اردو ہر گھر میں اردو” مہم چلانے کی ضرورت اجاگر کی جائے۔انہوں نے سائن بورڈز پر درست اردو کی اہمیت واضح کی اور کہا کہ اردو جب نظروں میں رہے گی تو پڑھی جاتی بھی رہے گی۔ساتھ ہی ڈاکٹر اسلم فاروقی نے کہا کہ اردو کے دامن کو مذہب سے جوڑے بغیر توسیع دینے کی ضرورت ہے۔
جناب احمد ارشد حسین جہد کار نے آزاد لٹریری فورم (الف)کے اس مشاورتی اجلاس سے اپنے خطاب میں تجویز پیش کی کہ اردو چونکہ دوسری سرکاری زبان ہے اس لیے سرکار سے اردو زبان کو اس کا مستحقہ موقف دلانے کےلیے ہر ممکنہ نمائندگی اور پریشر گروپ کو بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔تاکہ شناختی کارڈ سے لے کر فہرست رائے دہندگان تک اردو میں تیار کی جاسکے۔

آزاد لٹریری فورم (الف)کے اس اجلاس میں شرکت کرنے اور اپنی تجاویز پیش کرنےوالوں میں سید احمد جیلانی نیوز 18،کاتب و خوشنویس ذکی جمال،سلیم فاروقی،اردو کیڈیمی جدہ، صبغت اللہ شاہد مراسلہ نگار،صحافی ڈاکٹر احتشام الحسن مجاہد، سینئر صحافی ریاض احمد، رحمن پاشاہ۔

سید جاوید محی الدین اسکول اسسٹنٹ،شفیع الدین ظفر، وصی ایڈووکیٹ، سید ظہورالدین،محمد عبدالواحید اسکول اسسٹنٹ، سیدتحسین الدین،محمد غوث خاں،ایوب خان، عبدالمقیت ای ٹی وی بھارت،محمدمحسن نظام آبادکےعلاوہ محترمہ نفیسہ خان ناگرجنا ساگر بطورخاص شریک رہیں۔جناب اعجاز علی قریشی ایڈوکیٹ اس اجلاس کے کنوینر تھے۔
” یہ بھی پڑھیں "

