وقارآباد ضلع: نیشنل ہائی وے 167 شاہراہ براہ چنگیز پور تانڈور کی تعمیر کے لیے جی پی ایس سروے مکمل
کوسگی سے منااکھیلی تک چار رُخی ہائی وے کے لیے تانڈور کے عیدگاہ میں نشاندہی اور پتھر نصب
منسوخی کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا،ایم ایل اے اور ایم ایل سی سے عیدگاہ کمیٹی کی نمائندگی
وقارآباد/تانڈور: 09۔نومبر
(خصوصی رپورٹ/سحرنیوزڈاٹ کام)
نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) کی جانب سے چار رخی راستے پرمشتمل نیشنل ہائی وے 167A جو کہ تلنگانہ،آندھرا پردیش اور کرناٹک کے چند شہروں سے گزرنے والی درمیان میں دیگر ہائی ویز سے جڑتے ہوئے محبوب نگر ضلع کے بھوت پور تک پہنچ رہی ہے۔
اطلاع ہے کہ پہلے مرحلہ میں 300 کروڑ کی لاگت سے بھوت پور تا پرساپور 60 کلومیٹر پرمشتمل ہائی وے اور پھر دوسرے مرحلہ کے تحت پرساپور تا کوتلاپور(تانڈور۔کرناٹک سرحد) اس نیشنل ہائی وے کو بچھایا جائے گا جس پر 300 کروڑ روپئے صرف کیے جائیں گے۔
اس طرح بھوت پور تا کوتلا پور اس چار رخی ہائی وے کی تعمیر پر جملہ 800 کروڑ روپئے خرچ کیے جائیں گے۔بتایا جاتا ہے کہ اس ہائی وے کو تانڈور میں بچھائی جانے والی آؤٹر رنگ روڈ سے چینگول کے پاس جوڑا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر اسے کوڑنگل کے مواضعات سے تانڈور کے رسول پور سے تعمیر کی جانے والی اؤٹر رنگ روڈ سے جوڑا جائے گا!!

تلنگانہ میں اس ہائی وے کا رقبہ سب سے زیادہ یعنی 321 کلومیٹر ہوگا۔جبکہ آندھرا پردیش میں 99 کلومیٹر اور کرناٹک میں 55 کلومیٹر پرمحیط ہوگا
چند سال قبل یہ کہا جارہا تھا کہ اس لنک ہائی وے کو محبوب نگر ضلع کے کوسگی سے براہ وقارآباد ضلع کے کوڑنگل اور تانڈور سے گزارا جائے گا اور پھر یہ لنک ہائی وے تانڈور سے 15 کلومیٹر کے فاصلہ پر موجود پڑوسی ریاستی کرناٹک کی سرحد میں داخل ہوگا اور اس ہائی وے کو براہ چنچولی،منااکھیلی تک توسیع دی جائے گی جو کہ حیدرآباد۔ممبئی نیشنل ہائی وے نمبر 65 پر موجود ہے۔
مذکورہ شاہراہ کو پہلے ہی بنگلور۔ممبئی لنک ہائی وے کی حیثیت حاصل تھی۔لیکن کہا جاتا ہے کہ کبھی بھی کسی بھی ہائی وے کو کسی بھی شہر کے درمیان سے نہیں گزارا جاتا۔شہرکے درمیان سے اس ہائی وے کو گزارنے کے لیے جہاں ٹریفک مسئلہ پیدا ہوتا ہے وہیں بڑے پیمانے پر موجودہ شاہراہ کی دونوں جانب موجود خانگی عمارتوں کا انہدام اور معاوضہ کی ادائیگی یا پھر قانونی کشاکش سے اس طرح کے پراجکٹ پر تعطل پیدا ہوجاتا ہے یہی وجہ ہوتی ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا ہائی ویز کو سرکاری اراضیات،جنگلات اور کسانوں کی اراضیات سے گزارنے کو ترجیح دیتا ہے!!
اطلاعات کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا(این ایچ اے آئی) نے اب نیشنل ہائی وے 167A کو کوسگی سے بائی پاس کی شکل میں براہ کوڑنگل کے انگڑی رائچور اور دیگر مواضعات،”پیر فقیر صاحب درگاہ” اور تانڈور کے چنگیز پور روڈ سے گزار تے ہوئے کرناٹک کے چنچولی تک لے جارہا ہے اور گزشتہ ماہ اس کے لیے سروے بھی مکمل کرلیا گیا ہے۔
اس سروے کے بعد تانڈور میں چنگیز پور روڈ پر موجود جدید عیدگاہ کے آفس روم پر باقاعدہ” جی پی ایس سروے نمبر5A "تحریر کرتے ہوئے وہاں نشاند ہی کے طورپر ایک پتھربھی آویزاں کردیا گیا ہے۔

لیکن تانڈور کے جدید عیدگاہ کی اراضی میں سے اس ہائی وے کو گزارے جانے کی اطلاع اور جی پی ایس سروے کے بعد صدر عیدگاہ و قبرستان کمیٹی تانڈور محمد یو سف خان نے جنرل مینجئر نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا،نئی دہلی اور ریجنل آفیسرنیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا،حیدرآبا دکواسپیڈ پوسٹ کے ذریعہ مکتوبات روانہ کیے ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے مقامی رکن سمبلی پائلٹ روہت ریڈی،رکن قانو ن ساز کونسل و سابق وزیر ٹرانسپورٹ ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی،آر ڈی او تانڈور اشوک کمار اور تحصیلدار تانڈور چنپلا نائیڈو سے ملاقات کرتے ہوئے یادداشتیں حوالے کیں۔
ان تمام سے کی گئیں نمائندگیوں میں صدر عیدگاہ و قبرستان کمیٹی تانڈور محمد یوسف خان نے بتایا ہے کہ سروے نمبر 60،تانڈور منڈل کے تحت 9 ایکڑ 14 گنٹہ پرمشتمل عیدگاہ جدید تانڈور کی اراضی باقاعدہ ریاستی وقف بورڈ کی ملکیت ہے۔اور اس عیدگاہ کی تعمیر و توسیع پر ایک کروڑ روپئے سے زائد رقم خرچ کی جاچکی ہے۔
تانڈور کے اس عیدگاہ میں سالانہ30 ہزار سے زائدمسلمان رمضان اور بقر عید کی نمازیں ادا کرتے ہیں۔صدر عیدگاہ و قبرستان کمیٹی تانڈور محمد یوسف خا ن نے ان مکتوبات میں لکھا ہے کہ اس عیدگاہ کے درمیان سے بھوت پور تا منا اکھیلی لنک ہائی وے گزارنے کے لئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیاکی ٹیم نے بنا کسی اطلاع کے سروے انجام دیتے ہوئے نشاندہی کردی ہے۔

محمد یوسف خان کے مطابق ہائی وے لنک روڈ کو عیدگاہ کے درمیان سے گزارے جانے کے بعد عیدگاہ کی اراضی مسلمانوں کے لیے ناقابل استعمال ہوجائے گی اور اس کے بعد عیدین کی نمازوں کی ادائیگی ناممکن ہوگی۔
اپنے مکتوبات میں صدر عیدگاہ و قبرستان کمیٹی تانڈور محمد یوسف خان نے لکھا ہے کہ عیدگاہ کی اراضی سرکاری نہیں ہے اور نہ ہی خانگی ہے بلکہ یہ ایک وقف املاک ہے۔انہوں نے لکھاہے کہ مساجد،عیدگاہوں،منادر،چرچس اور دیگر مذہبی مقامات کو نقصان پہنچاتے ہوئے اس طرح ہائی وے کو گزارنا عوام کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے اور ساتھ ہی جمہوری حقوق و قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے۔
اپنے ان مکتوبات کے ذریعہ صدر عیدگاہ و قبرستان کمیٹی تانڈور محمد یوسف خان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عیدگاہ جدید تانڈور کی اراضی میں سے ہائی وے کو گزارنے کے فیصلہ پر نظر ثانی کرتے ہوئےمسلمانوں کے جمہوری حقوق کا تحفظ کریں اور ساتھ ہی انہوں نے مقامی رکن اسمبلی پائلٹ روہت ریڈی اور رکن قانو ن ساز کونسل ڈاکٹر پی۔مہندرریڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انتہائی اہم اور حساس معاملہ کے موثر حل کے لئے اعلیٰ سطحی موثر نمائندگی کو یقینی بناتے ہوئے مسلمانان تانڈور میں پھیلی ہوئی تشویش کوختم کروائیں۔


