بھوپال کے کملا نہرو چلڈرنس ہسپتال میں آگ لگنے سے زیرعلاج چار بچوں کی موت

بھوپال کے کملا نہرو چلڈرنس ہسپتال میں آگ لگنے سے زیرعلاج چار بچوں کی موت

بھوپال: 09۔نومبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال کے کملا نہرو چلڈرنس ہسپتال میں لگنے والی آگ میں ہسپتال میں زیر علاج کم ازکم چار بچوں کی موت واقع ہوگئی ہے اس افسوسناک واقعہ کی تصدیق مدھیہ پردیش کے وزیر برائےمیڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ نے کی ہے۔

ریاستی وزیر وشواس سارنگ نے کہا کہ اسپیشل نوزائیدہ نگہداشت یونٹ (SNCU) وارڈ میں لگنے والی آگ میں چار بچوں کی موت ہوگئی اور شاید شارٹ سرکٹ کی وجہ سے یہ آگ لگی ہے۔

مدھیہ پردیش کے وزیر برائےمیڈیکل ایجوکیشن وشواس سارنگ نے کہا کہ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی وہ دیگر ذمہ داران کے ساتھ کملا نہرو چلڈرنس ہسپتال پہنچ گئے اس وقت اس وارڈ میں اندھیرا تھا۔انہوں نے بتایا کہ اس وارڈ میں جملہ 40 بچے داخل تھے۔دیگر بچوں کو ملحقہ وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب بھوپال کے کملا نہرو چلڈرنس ہسپتال کے ایک ملازم نے بتایا کہ آگ ہسپتال کی تیسری منزل پر موجود ایک وارڈ میں لگی جس میں آئی سی یو کی سہولت دستیاب ہے۔

کملا نہرو چلڈرنس ہسپتال کے وارڈ میں لگی آگ کے باعث چار بچوں کی ہلاکت پر چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے رات 12 بجے تین ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” ہسپتال کے چائلڈ وارڈ میں آتشزدگی کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ریسکیو آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے،آگ پر قابو پالیا گیا،تاہم بدقسمتی سے تین بچے جو پہلے سے شدید بیمار تھے کو بچایا نہ جاسکا”۔

 

چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے اپنے دوسرے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”بچوں کا دنیا سے بے وقت جانا ایک ناقابل برداشت درد ہے۔میں خدا سے ان مرحومین کی روح کی سکون کے لیے دعا گو ہوں۔ان بچوں کے اہل خانہ سے میری گہری تعزیت۔واقعہ میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی ہو،یہی میری خواہش ہے”۔

اور چیف منسٹر مدھیہ پردیش نے اپنے تیسرے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ”اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔اور اس واقعہ کی تحقیقات اے سی ایس پبلک ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن محمدسلیمان کریں گے”۔چیف منسٹر مدھیہ پردیش شیوراج سنگھ چوہان نے مہلوک بچوں کے لواحقین کے لیے فی کس چار لاکھ روپے معاوضہ کا اعلان کیا ہے۔وہیں سابق چیف منسٹر مدھیہ پردیش و اسمبلی میں کانگریس کے اپوزیشن قائد کمل ناتھ نے اس واقعہ کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے اس واقعہ کی اعلیٰ سطحی جانچ اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

فتح گڑھ فائر اسٹیشن کے انچارج زبیر خان نے بتایا کہ اس ہسپتال میں رات 9 بجے کے قریب لگی اس آگ کو بجھانے کے لیے 8 تا 10 فائر انجن موقع پر پہنچ گئے تھے۔ہسپتال سے ملنے والی تصویروں میں آگ لگنے کے بعد خوف زدہ والدین اس وارڈ سے بھاگنے کے بعد سیڑھیوں پر گرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔