شوہر کے قتل میں ملوث میرے بھائی اور اس کے ساتھیوں کو پھانسی دی جائے، میں اپنے گھر نہیں جاؤں گی :سرورنگر بین مذہبی شادی پر قتل ،آفرین کا بیان

شوہر کے قتل میں ملوث میرے بھائی اور اس کے ساتھیوں کو پھانسی دی جائے
قتل کا سب نظارہ کرتے رہے لیکن کسی نے مدد نہیں کی،میں اپنے گھر نہیں جاؤں گی
حیدرآباد کے سرورنگر میں بین مذہبی شادی پر قتل ہوئے ناگ راجو کی بیوی آفرین کا مطالبہ
میڈیا سے بات چیت،بی جے پی اور دلت تنظیموں کا احتجاج،وقارآبادضلع میں موم بتی ریالی

حیدرآباد/وقارآباد: 06۔مئی (نمائندہ خصوصی/سحرنیوزڈاٹ کام)

حیدرآبادکےسرورنگر میں 3 مئی کی رات بین مذہبی شادی کے خلاف مسلم لڑکی کے بھائی سید مبین احمد اوراس کے ساتھی کے ہاتھوں آفرین (میڈیا میں عشرین سلطانہ لکھا جارہا ہے) کے شوہر بی۔ناگ راجو (26 سالہ) کا انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا تھا۔مقتول راجو کا تعلق ریاست تلنگانہ کے ضلع وقارآبادضلع کے مرپلی منڈل مستقر سے تھا اور آفرین 21 سالہ کا تعلق بھی اسی منڈل کے گھناپور سے ہے۔

ان دونوں کے خاندان مرپلی میں ہی مقیم ہیں۔آفرین (عشرین سلطانہ) اور ناگ راجو میں گزشتہ سات سال سے معاشقہ چل رہا تھا۔تاہم آفرین کےخاندان والے اس کے خلاف تھے۔

ناگ راجوحیدرآباد کی ایک کارکمپنی کے شوروم میں سیلزمین کی حیثیت سے ملازمت کررہا تھا۔گھر والوں کی مخالفت کے دؤران آفرین جاریہ سال جنوری کے اواخر میں اپنے مکان واقع مرپلی سے فرار ہوکر حیدرآباد پہنچ گئی اور 31 جنوری کو ناگ راجو اور آفرین نے لال دروازہ،حیدرآباد کی آریہ سماج مندر میں شادی کرلی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ناگ راجو اپنے قتل کے خوف سے کسی اور مقام پر ملازمت کرنے لگا تھا اور یہ خوفزدہ جوڑا دو ماہ قبل وشاکھا پٹنم منتقل ہوگیا تھا۔بعدازاں چند دن قبل یہ دونوں حیدرآباد واپس ہوگئے۔اور دونوں سرورنگر کی انیل کمار کالونی میں رہنے لگے۔

بتایا جارہا ہے کہ جب آفرین (عشرین سلطانہ)کے بھائی سید مبین احمد کو اس بات کی اطلاع ملی تو اس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ناگ راجو کے قتل کا منصوبہ بنایا تھا۔

تین دن قبل چہارشنبہ کی رات جب ناگ راجو اور آفرین کالونی سے باہر آرہے تھے تو آفرین کے بھائی اور اس کے ساتھیوں نے موٹرسیکل پر ان کا تعاقب کرتے ہوئے ناگ راجو پر لوہے کی سلاخوں اور تلواروں سے حملہ کرکے اس کا قتل کردیا۔ناگ راجو کے قتل کے بعد اسے ایک گوشہ کی جانب سے”غیرت کے نام پرقتل” Honour Killing ” کا واقعہ قرار دیا گیا اور اب یہ قتل کا معاملہ ریاستی،قومی اور بین الاقوامی میڈیا کی سرخیوں کے علاوہ عوام میں موضوع بحث ہے۔4 مئی کو مقتول ناگ راجو کی مرپلی میں آخری رسومات انجام دی گئیں۔

سرورنگر پولس اسٹیشن میں اس قتل کے بعد آئی پی سی کی دفعات 302 اور ایس سی۔ایس ٹی ایکٹ کے تحت کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے دو نوجوانوں سید مبین احمد اور محمدمسعود احمد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اس قتل کے بعد مقتول ناگ راجو کی بیوہ آفرین نعش کے ساتھ اپنے سسرال پہنچ گئیں۔اب وہ وہیں مقیم ہیں۔جہاں ریاستی، قومی اور بین الاقوامی میڈیا کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

دوسری جانب اس واقعہ کی دونوں جانب سے شدید مذمت کی جارہی ہے کہ بھائی اور اس کے دوست کی اس مجرمانہ ذہنیت اور غیر انسانی حرکت نے جہاں قوم کو رسوا کرنے کا سامان پیدا کردیا!!۔وہیں ایک غربت زدہ خاندان کا سہارا ہمیشہ کے لیے چھین لیا۔اس واقعہ سے جہاں ناگ راجو اپنی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھا وہیں آفرین کی زندگی بھی اب دوراہے پر کھڑی ہے۔ساتھ ہی قتل میں ملوث اس کے بھائی اور ساتھی کو اب سخت قانونی کارروائی اور سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔سوال اٹھایا جارہا ہے کہ اس معاملہ کا اصل ذمہ دار کون ہے؟اور کیوں شادی ہوجانے کے بعد اس لڑکی کے شوہر کو قتل کیا گیا؟اس قتل کےواقعہ کو فاسٹ ٹریک کورٹ میں چلائے جانے کاامکان ہے! 

اس سلسلہ میں آج 6 مئی کو وقارآباد ضلع کے مرپلی منڈل میں اپنے سسرالی مکان میں مختلف نیوزچینلوں سے بات کرتے ہوئے آفرین جو کہ دو بھائیوں اور تین بہنوں میں سب سے چھوٹی ہے ان کے والد کا پانچ سال قبل انتقال ہوچکا ہے بیوہ ماں اور اس خاندان کا پیشہ بھی مزدوری ہےنے مطالبہ کیا کہ اس کے شوہر کوقتل کرنے والے اس کے بھائی اور اس کے دوست کو پھانسی کی سزا دی جائے۔

آفرین (عشرین سلطانہ) نے الزام عائد کیا کہ اس کے شوہر کے قتل کی سازش میں اس کے بھائی سمیت جملہ چار افراد ملوث ہیں۔جن میں سے پولیس نے دو کو گرفتار کیا ہے۔اس نے مطالبہ کیا کہ دیگر دونوں کو بھی گرفتار کیا جائے۔

ساتھ ہی آفرین نے کہا کہ وہ کبھی بھی اپنے گھر نہیں جائے گی اور اپنے سسرال میں ہی رہے گی۔آفرین نے کہا کہ اس کے شوہر ناگ راجو کے قتل والی رات وہاں موجود لوگ صرف تماشہ دیکھ رہے تھے اور ویڈیوز بنانے میں مصروف تھے۔وہ مدد کےلیے چیخنے اور چلانے لگیں لیکن کسی نے بھی ان کی مدد نہیں کی اور نہ مداخلت کرتے ہوئے حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش ہی کی۔

آفرین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عید تک اس کا بھائی خاموشی کے ساتھ ان کا تعاقب کرتا رہا اور پھرموقع دیکھ کرحملہ کرتے
ہوئے ناگ راجو کو قتل کردیا۔

دوسری جانب مقتول ناگ راجو کے والد سرینواس اور والدہ انوسوجا بھی پیشہ سے مزدور ہیں مقتول ناگ راجو ان کا اکلوتا بیٹا اورخاندان کا سہارا تھا۔جبکہ انہیں ایک لڑکی بھی ہے جو شوہر سے علحدگی کے بعد ماں باپ کے مکان واقع مرپلی میں ہی مقیم ہے!!۔اس سارے معاملہ میں یہ غریب خاندان اپنے اپنے سہارے سے محروم ہوگیا۔

ناگ راجو کے قتل کے بعد رکن اسمبلی وقارآباد ڈاکٹر ایم۔آنند اور سابق رکن پارلیمان چیوڑلہ کونڈاوشویشور ریڈی نے علحدہ علحدہ مقتول ناگ راجو کے مکان پہنچ کر آفرین اور مقتول کے والدین سے ملاقات کرتے ہوئے اس واقعہ پر شدید افسوس کا اظہار کیا۔

جبکہ سابق ریاستی وزیر،وسابق رکن اسمبلی وقارآباد و بی جے پی قائد ڈاکٹر اے۔چندراشیکھر کے علاوہ ریاستی صدر دلت مورچہ کوپو بھاشا، صدر وقارآباد ضلع بی جے پی سدانندریڈی،صدرضلع دلت مورچہ نوین کمار،پانڈو گوڑ،یو۔رمیش اور دیگر نے بھی مقتول ناگ راجو کے مکان پہنچ کر آفرین اورمقتول کے والدین سے اظہار تعزیت کیا اور انہیں بھروسہ دیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہیں۔اس سلسلہ میں مرپلی میں بھی شدید احتجاج کیا جارہا ہے۔

وہیں آج شام وقارآباد مستقر اور وقارآباد کے مختلف مقامات پر بی جے پی کی جانب سے موم بتی ریالیاں منظم کرتے ہوئے ناگ راجو کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ ناگ راجو کے قاتلوں کو پھانسی کی سزا دی جائے۔

اب ناگ راجو کےقتل کا معاملہ ملکی اور غیر ملکی سطح تک پہنچ گیا ہے۔اس سلسلہ میں کل 7 مئی بروز ہفتہ 11 بجے دن چیئرمین مرکزی ایس سی کمیشن مسٹر وجئے سمپلا ضلع وقارآباد کے مرپلی پہنچ کر مقتول ناگ راجو کے والدین اور آفرین (عشرین فاطمہ) سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ 

BNagaraju#
AshrinSulthana #Murder #Hyderabad #HonourKilling #Telangana #Aafreen#