تریپورہ میں فرقہ پرستی اور لاقانونیت کا ننگا ناچ، تین مساجد اورمسلم املاک نذرآتش،دیڑھ درجن مساجد میں توڑپھوڑ

تریپورہ میں فرقہ پرستی اور لاقانونیت کا ننگا ناچ، تین مساجد اورمسلم املاک نذرآتش
دیڑھ درجن مساجد میں توڑپھوڑ،مسلمانوں کو دھمکیاں،ریالی کے ذریعہ ناقابل برداشت نعرہ بازی
حکومت سے کارروائی کرنے جماعت اسلامی،ایس آئی او اور اے پی سی آر کا مطالبہ

نئی دہلی/حیدرآباد:27۔اکتوبر(پریس نوٹ/سحرنیوزڈاٹ کام)

اسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سِوِل رائٹس (اے پی سی آر)،اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا(ایس آئی او) اور جماعت اسلامی ہند کے قائدین نے آج ایک مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کرتے ہوئے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے فرقہ وارانہ واقعات دن بدن شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے خلاف ہوئے تشدد کی مذمت میں کئی دنوں سے ریاست بھر میں مظاہرے اور ریالیاں جاری تھیں،لیکن ان  ریالیوں میں شدت پیدا کرتے ہوئے یہ ریالیاں ریاست تریپورہ کے مسلمانوں کے خلاف متشدد ہوگئی ہیں۔جس کے نتیجے میں مساجد میں توڑ پھوڑ،آگ زنی،مسلمانوں کی دُکانوں و مکانوں میں توڑ پھوڑ،مسلم مخالف نعرے بازی اور ان ریالیوں میں مخالف اسلام نعروں کے ذریعہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے واقعات روزانہ سامنے آ رہے ہیں۔ 

اس پریس کانفرنس کے ذریعہ حکومتِ ہند اور تریپورہ حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا کہ جلدازجلد تریپورہ کے حالات پر قابو پایا جائے،ریاست کے مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت کی جائے اور ان پرتشدد واقعات میں ملوث قوم دشمن عناصر کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

اس پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواز شاہین ایڈوکیٹ (مرکزی سیکریٹری،ایس آئی او آف انڈیا) نے بتایا کہ” تریپورہ میں گزشتہ ایک ہفتے سے فرقہ وارانہ تشدد اور مسلمانوں کے خلاف حملوں کا خطرناک سلسلہ جاری ہے۔مقامی کارکنوں اور رہائشیوں کی شکایات کے مطابق ہندوتوا وادی ہجوم کی جانب سےمسلم علاقوں میں مساجد، مکانات اور کاروباری اداروں اور افراد  پر حملے کے زائد از 27 واقعات پیش آئے ہیں۔

Photos Courtesy : Jibranuddin,Journalist,Twitter

ان میں 16 واقعات ایسے ہیں جہاں مساجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور ان پر زبردستی وِشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے جھنڈے لہرائے گئے اسی طرح اناکوٹی ضلع کی پال بازار مسجد،گومتی ضلع کی ڈوگرہ مسجد اور وِشال گڑھ میں نرولا ٹیلا مسجد کو نذر آتش کر دیا گیا۔مسلمانوں کے مکانات پر پتھراؤ، چن چن کر نشانہ بنانے اور ان مکانات و کاروباری اداروں میں شدید توڑ پھوڑ کی اطلاعات بھی ہیں۔

https://twitter.com/HamzaSufyan11/status/1451799125754724355

یہ تمام حملے ہندوتوا ہجوم کی طرف سے کیے گئے جو بظاہر بنگلہ دیش میں ہندو مخالف تشدد کے خلاف احتجاج کے لیے جمع ہوئے تھے۔

ندیم خان سیکریٹری (اے پی سی آر)نے اس پریس کانفرنس میں کہا کہ ان واقعات میں ملوث فرقہ پرست ہجوم کے خلاف حکومت اور ریاستی انتظامیہ کی جانب سے اب تک کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی ہے! جس سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسے حکومت چاہتی ہی نہیں ہے کہ تشدد ختم ہو اور امن قائم ہو۔!!

انہوں نے اس تھیوری کی شدید مذمت کی کہ مختلف جگہوں پر بنگلہ دیش کے واقعات کا حوالہ دے کر تریپورہ کی صورتحال کو درست بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔لیکن یہ بات بھی واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں تشدد کے واقعات پر چند ہی دنوں میں وہاں کی حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کیے گئے اور تشدد میں ملوث 500 سے زیادہ افراد کی گرفتاریاں بھی ہوچکی ہیں۔لیکن تریپورہ میں اب تک حالات جوں کہ توں ہیں اور مزید بگڑتے جا رہے ہیں۔

https://twitter.com/AhmedKhabeer_/status/1451590025284444163

 

سلطان حسین (سیکرٹری،ایس آئی او تریپورہ) نے بتایا کل بروز منگل نارتھ تریپورہ کے علاقے دھرمانگر اور کیلاشہر میں ریاست کے حالات کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کی جانب سے پرامن طور پرمظاہرے منعقد کیے گئے۔بعدازاں وہاں پولیس انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کر دیا گیا اور مسلمانوں کو پرامن احتجاجی مظاہرہ کرنے سے روک دیا گیا۔

لیکن جن مقامات پر شر پسندوں کے ذریعے دہشت کا ماحول بنایا جا رہا ہے، توڑ پھوڑ اور آگ زنی کی جا رہی ہے وہاں اب تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

حکومت اور ریاستی انتظامیہ کی جانب سے محض چند مقامات پر پولیس کی تعیناتی دِکھا کر یہ بتایا جا رہا ہے کہ حالات پر قابو پانے کی کوشش جاری ہے۔

سیکریٹری جماعت اسلامی ہند جماعت اسلامی ہند ملک معتصم خان نے اس مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت تریپورہ سے مطالبہ کیا کہ حالات پر جلد از جلد قابو پایا جائے اور ساتھ ہی مساجد کا جو نقصان ہوا ہے اسکی بھرپائی کی جائے،مسلمانوں کو خصوصی تحفظ فراہم کیا جائے اور جو دہشت پھیلا رہے ہیں انکے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ریاست میں امن قائم ہوسکے۔  

اس پریس کانفرنس میں نور الاسلام مظہربُھیا (امیر،جماعتِ اسلامی ہند، تریپورہ) اورشفیق الرحمان (صدر،ایس آئی او تریپورہ) بھی موجود تھے۔

دوسری جانب The Wire کی اطلاع کے مطابق شمالی تریپورہ ضلع کے پانی ساگر سب ڈویژن میں منگل کی سہء پہر وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی ریلی کے دوران ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور دکانوں اور مکانات پر حملہ کیا گیا۔

دی وائر سے بات کرتے ہوئے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (اے آئی جی) (امن و قانون) سبرت چکرورتی نے کہا کہ پانی ساگر سب ڈویژن کے تحت چمتیلا اور روہ بازار علاقوں میں اس دوران ایک مسجد میں توڑ پھوڑ کی گئی اور چند دکانوں اور مکانات میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ جہاں یہ ریلی بظاہر بنگلہ دیش میں فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف ایک احتجاج تھا وہیں شمال مشرقی ریاست میں جو مناظر دیکھے گئے وہ تشدد کی ہی یاد تازہ کررہے تھے۔ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (اے آئی جی) (امن و قانون) سبرت چکرورتی نے دی وائر سے کہا کہ کچھ شرپسندوں نے وی ایچ پی کی ریلی کے دوران ایک چھوٹی مسجد، چند دکانوں اور چند مکانات پر حملہ کیا۔

یہ دکانیں اور مکانات مبینہ طور پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے ہیں۔ہم نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے کافی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے ہیں۔یہ واقعہ چمٹیلا اور رووا بازار کے قریب پیش آیا اور پولیس نے اس سلسلہ میں مقدمہ درج کرلیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ حالات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے ارد گرد کے تمام حساس علاقوں میں سخت سکیورٹی تعینات کر دی گئی ہے۔

اسی دؤران ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر Hindutva Watch کی جانب سے بنایا گیا ایک انتہائی دلآزار اور قابل مذمت ویڈیو وائرل ہوگیا ہے جس میں ریالی کے شرکا پیغمبراسلام حضرت محمد ﷺ کی شانِ اقدس میں بلا کسی خوف و خطر انتہائی ناقابل برداشت اور دلآزار نعرے لگارہے ہیں۔ (ویڈیو)

https://www.instagram.com/p/CVi2CagNDHA/?utm_source=ig_web_copy_link

وہیں انگریزی کی صحافی "سمردھی کے سکنیا”نے اپنے ٹوئٹر کے مصدقہ ہینڈل سے ایک ویڈیو ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” تریپورہ کے روہ میں کل کرانہ اور راشن کی دکانوں کو جلایا گیا۔وہ نظام الدین اور امیر حسین کی ملکیت تھے۔یہ کل ساڑھے تین تا چار بجے شام کے قریب ہوا جب ریالی پرتشدد ہو گئی۔ پولیس کے مطابق حالات قابو میں ہیں۔ ” (ویڈیو)

صحافی "سمردھی کے سکنیا”نے آج رات دیر گئے ایک اور ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ” تریپورہ سے ایک اور خبر آرہی ہے کہ 26 اکتوبر کی رات 12 بجے،انکوٹی ضلع کے کیلاشہر میں عبدالمنان کے گھر پر پتھراؤ کیا گیا۔22 اور 23 اکتوبر کے درمیان ان کے گھر کے مین گیٹ پر بھگوا جھنڈا بھی لٹکا دیا گیا آج صبح پولیس تفتیش کے لیے آئی۔

اپنے ایک اور ٹوئٹ میں انگریزی کی صحافی "سمریدھی کے سکنیا” نے ایک ہفتہ کے دؤران شمال مشرقی ریاست تریپورہ میں پیش آئے پرتشدد واقعات کی تفصیلات لکھتے ہوئے کہا ہے کہ اب تک ایک کی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔!!