جھارکھنڈکے ضلع پلامومیں موب لنچنگ کا واقعہ ،ایک مسلم نوجوان کی درخت سے اُلٹالٹکاکر پٹائی،17 افرادکے خلاف کیس درج

جھارکھنڈ کے ضلع پلامو میں موب لنچنگ کا واقعہ
ایک مسلم نوجوان کی درخت سے اُلٹا لٹکاکر پٹائی
پولیس نے 17 افراد کے خلاف کیس درج کرلیا

رانچی: 24۔ڈسمبر(سحرنیوزڈاٹ کام/ایجنسیز)

چند سال سے اس ملک میں ایک نیا لفظ بہت تیزی کے ساتھ پنپ رہا ہے جسے انگریزی میں”Mob Lynching"اور اردو میں”ہجومی تشدد” کہا جاتا ہے۔یعنی بزدلوں کا ایک ہجوم کبھی گائے کے نام پر توکبھی کسی اور نام پر جمع ہوجاتا ہے اور مخالف نوجوان یا شخص کو پیٹ پیٹ کر مار دیا جاتا ہے یا پھر اسے شدید زخمی کردیا جاتا ہے۔

اس ملک کی مختلف ریاستوں میں اب تک موب لنچنگ کے سینکڑوں واقعات پیش آچکے ہیں۔جن میں زائداز 150 افراد کی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور اتنی ہی تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔

ریاست جھارکھنڈ کی ہیمنت سورین حکومت نے 21 ڈسمبر کو ریاستی اسمبلی میں "مخالف موب لنچنگ بِل 2021ء” منظور کیا ہے۔

اس طرح ریاست جھارکھنڈ اس ملک کی ایسی تیسری ریاست بن گئی جس نے موب لنچنگ کے خلاف بِل منظور کیا جس کے تحت موب لنچنگ میں ملوث ہجوم کو سزائے عمر قید کے ساتھ انہیں 5 لاکھ روپئے تا 25 لاکھ روپئے تک ادا کرنے ہوں گے۔

اس کے علاوہ بھی دیگر سزائیں اور جرمانے اس قانون میں شامل ہیں۔اس سے قبل ایسا ہی بِل مغربی بنگال اور راجستھان کی حکومتیں منظور کرچکی ہیں۔جھارکھنڈ اسمبلی میں اس مخالف موب لنچنگ بِل کی بی جے پی کے ارکان اسمبلی نے مخالفت کی تھی!۔

اس قانون کی منظوری سے قبل جھارکھنڈ اسمبلی میں بحث و مباحثہ کے دؤران انچارج امور وزیر داخلہ جھارکھنڈ عالم گیر عالم نے اسمبلی کو بتایا کہ ریاست جھارکھنڈ میں اب تک موب لنچنگ کے 53 کیس درج معاملات ریکارڈ ہوئے ہیں اور اس موب لنچنگ میں 33 افراد کی موت ہوئی ہے اور دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

جھارکھنڈ اسمبلی میں مخالف موب لنچنگ بِل کی منظوری کے دوسرے ہی دن یعنی 22 ڈسمبر کو ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہے۔ٹوئٹر پر اس ویڈیو کو sohansingh05@ کے اکاؤنٹ سے پوسٹ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ”جھارکھنڈ اسمبلی میں موب لنچنگ کے خلاف قانون منظور ہونے کے بعد ” پلامو ” میں ہجوم کا خوفناک چہرہ سامنے آگیا،ہجوم نے ساجد نامی نوجوان کو درخت سے اُلٹا لٹکا کر پیٹا اور اس کے بال کاٹ دئیے۔جس کے بعد پولیس متحرک ہوگئی”۔

ٹوئٹر پر پوسٹ کیے گئے اس 11 سیکنڈ کے ویڈیو کو اب تک 52،000 سے زائد ٹوئٹر صارفین نے دیکھا ہے اور اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک لڑکا درخت سے اُلٹا لٹکا ہوا نظر آ رہا ہے۔جس کے قریب لوگوں کا ہجوم کھڑا ہے۔

درخت سے اُلٹا لٹکا ہوا نوجوان رو رو کر اپنے ہاتھ جوڑ کر اپنی جان کی بھیک مانگ رہا ہے اور لوگ اسے مارتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اسی دوران بھیڑ میں شامل کئی نوجوان اپنے موبائل فون سے ویڈیو بھی بنا رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاملہ پلاموضلع کے نیلمبر-پتامبر پور تھانہ علاقے کے کرما گاؤں کا ہے اور یہ واقعہ 14 دسمبر کو پیش آیا تھا۔لیکن اس موب لنچنگ کا یہ ویڈیو چہارشنبہ 22 ڈسمبر کی رات دیر گئے منظر عام پر آیا ہے۔

13 دسمبر کو خوشتر انصاری نامی اس نوجوان پر الزام ہے کہ وہ اس گاؤں کی ایک لڑکی سے ملنے کے لیے آیا تھا تو وہاں موجود نوجوانوں نے اس نوجوان کے پاؤں باندھ کر درخت سے الٹا لٹکا دیا اس سے قبل اس نوجوان کے سر کے بال بھی کاٹے گئے!!۔

پھر اس کے ساتھ اسی حالت میں خوب مار پیٹ کی گئی اور اس شدید زخمی نوجوان کو اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا۔اس واقعہ سے نوجوان اور اس کے افراد خاندان شدید صدمہ کا شکار ہوگئے اور خوف کے باعث انہوں نے پولیس سے اس معاملہ کی شکایت نہیں کی۔ہجومی تشدد کا شکار یہ متاثرہ نوجوان ستبروا تھانہ علاقہ کے جھبر گاؤں کا رہنے والا بتایا گیاہے۔

تاہم اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد پولیس نے ازخود ایک کیس درج رجسٹر کرتے ہوئے اس معاملہ کی تحقیقات کا آغاز کیا اور اس معاملے میں نامزد 5 افراد سمیت جملہ 17 لوگوں کے خلاف 23 ڈسمبر کو ایک ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

ضلع ایس پی چندن کمار سنہا نے میڈیا سے کہا ہے کہ اس معاملے سے متعلق ویڈیو موصول ہوا ہے اور تحقیقات کے بعد ایک کیس مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں ملوث تمام خاطیوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ 21 ڈسمبر کو راہول گاندھی نے ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے”#شکریہ مودی جی”کے ہیش ٹیگ کے ساتھ لکھا تھا کہ”2014 سے پہلے ‘لنچنگ’ کا لفظ عملی طور پر سنا نہیں جاتا تھا "۔